السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 8 حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے قتل کے بعد اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت شیث علیہ السلام جیسا نیک فرزند عطا فرمایا ۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے سچے جانشین ہوئے اور آگے چل کر پوری نسل انسانی کا سلسلہ انہیں سے چلا ، اللہ تعالٰی نے ان کو نبوت سے نوازا اور پچاس صحیفے ان پر نازل فرمائے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کے حکم سے حضرت شیث علیہ السلام ہی نے نماز جنازہ پڑھائی ، انہوں نے حزورہ نامی عورت سے نکاح کیا اور ان سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئ ، حضرت شیث علیہ السلام نے اپنی زندگی مکہ میں گزاری اور ہر سال حج و عمرہ کرتے رہے ۔ ان کو دن رات میں مختلف عبادتوں کا طریقہ سکھایا گیا تھا اور ایک بڑے طوفان کے آنے اور سات سال تک رہنے کی خبر دی گئی تھی ۔ حضرت شیث علیہ السلام نے نو سو بارہ سال کی عمر پائی ، جب انتقال کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے انوش کو اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی وصیت فرمائ ، وفات پانے کے بعد اپنے والدین کے پہلو میں جبل ابی قبیس کے غار میں دفن کیے گئے ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے (میری جانب بند مٹھی بڑھا کر ) کہا: یہاں آؤ! میں تمہیں دوں گی ( جیسے مائیں بچے کو پاس بلانے کے لئے ایسا کرتی ہیں ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اسے کیا دینے کا ارادہ تھا؟“‘ والدہ نے جواب دیا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ. (الترغيب والترهيب (۳۷۰/۳) اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے نامۂ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہت سی ایسی باتیں جنہیں معاشرہ میں جھوٹ نہیں سمجھا جاتا ہے، ان پر بھی جھوٹ کا گناہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو جھوٹی تسلیاں دینا اور جھوٹے وعدے کرنا عام طور پر ہر جگہ رائج ہے، اور اسے جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ حالاں کہ درج بالا ارشاد نبوی کے مطابق یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے، جس سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۳۶)