السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 8 حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے قتل کے بعد اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت شیث علیہ السلام جیسا نیک فرزند عطا فرمایا ۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے سچے جانشین ہوئے اور آگے چل کر پوری نسل انسانی کا سلسلہ انہیں سے چلا ، اللہ تعالٰی نے ان کو نبوت سے نوازا اور پچاس صحیفے ان پر نازل فرمائے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کے حکم سے حضرت شیث علیہ السلام ہی نے نماز جنازہ پڑھائی ، انہوں نے حزورہ نامی عورت سے نکاح کیا اور ان سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئ ، حضرت شیث علیہ السلام نے اپنی زندگی مکہ میں گزاری اور ہر سال حج و عمرہ کرتے رہے ۔ ان کو دن رات میں مختلف عبادتوں کا طریقہ سکھایا گیا تھا اور ایک بڑے طوفان کے آنے اور سات سال تک رہنے کی خبر دی گئی تھی ۔ حضرت شیث علیہ السلام نے نو سو بارہ سال کی عمر پائی ، جب انتقال کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے انوش کو اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی وصیت فرمائ ، وفات پانے کے بعد اپنے والدین کے پہلو میں جبل ابی قبیس کے غار میں دفن کیے گئے ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

توحید کے درجات

توحید کے درجات

مسند الهند، امام اکبر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ارشاد فرمایا ہے کہ عقیدہ توحید کی تکمیل کے لئے چار درجوں کی توحید کا ماننا لازم ہے ، اگر کسی بھی درجہ کی توحید میں ذرہ برابر بھی کمی رہ جائے گی تو انسان ہرگز موحد نہیں کہلایا جا سکتا، وہ چار درجے یہ ہیں : (1) توحید ذات: یعنی یہ ماننا کہ واجب الوجود ذات جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے میں قطعا نہیں پائی جاتی ۔ (۲) توحید خلق:۔ یعنی یہ تسلیم کرنا کہ آسمان وزمین، عرش وکرسی اور تمام مخلوقات کا خالق صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے ، صفت خلق میں اس کا کوئی سہیم و شریک نہیں ہے اس کو تو حید (ربوبیت بھی کہتے ہیں ) (۳) توحید تد بیر:۔ یعنی یہ یقین کرنا کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہوا ہے یا ہو رہا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے ، ان سب کا چلانے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس نظام کو چلانے میں کسی غیر کو دور دور تک کوئی دخل نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کا خود مالک ہے، اس کے فیصلے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ (۴) توحید الوہیت: یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ عبادت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو معبود بنانا ہرگز جائز نہیں ہے، اور توحید تدبیر کے لئے توحید الوہیت لازم ہے، یعنی جو کائنات کو چلانے والا ہے بس وہی عبادت کے لائق ہے۔ (حجۃ اللہ البالغة ، مع رحمۃ اللہ الواسعة ۵۹۰/۱) توحید کے درج بالا درجات میں سے اول دو درجے یعنی توحید ذات اور توحید خلق عام طور پر بہت سے مشرکین کے نزدیک بھی قابل قبول تھے، اور آج بھی اکثر مشرکین کا یہی حال ہے کہ وہ خالق تو صرف ایک ہی کو مانتے ہیں ( جسے وہ اپنی زبان میں ایشور“ یا ”بھگوان وغیرہ کا نام دیتے ہیں) لیکن توحید کے تیسرے اور چوتھے درجے کو وہ ماننے پر نہ کل تیار تھے اور نہ آج تیار ہیں ۔ حالاں کہ اُن کو مانے بغیر ایمان کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ (شرح العقيدة الطحاویہ لامام ابن ابی العز الدمشقی ۲۱)(مستفاد از رحمن کے خاص بندے/ ص:۱۹۶)