*کمال کے اشعار اور ان کا ترجمہ* ﻭَﺇﻥْ ﺿَﺎﻗَﺖْ ﺑِﻚَ ﺍﻷﺣْﻮَﺍﻝُ ﻳَﻮْﻣﺎً فبِالأﺳْﺤَﺎﺭِ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *جب بھی کسی دن تم پر سخت حالات آ جائیں تو رات کے آخری پہر میں محمد علیہ الصلوۃ و السلام پر درود بھیجنے کا اہتمام کرو۔* ﻭ ﻻ ﺗَﺘْﺮُﻙْ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪِ ﻳَﻮْﻣﺎً ﻓَﻤَﺎ ﺃﺣْﻠَﻰ ﺍﻟﺼَّﻼﺓُ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *دیکھو ! اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اس قدر مٹھاس بھری عبادت ہے کہ کوئی بھی دن نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے بغیر نہ جانے دیں۔* ﺷِﻔَﺎﺀٌ ﻟِﻠﻘُﻠُﻮﺏِ ﻟَﻬَﺎ ﺿِﻴَﺎﺀٌ ﻭَﻧُﻮﺭٌ ﻣُﺴْﺘَﻤَﺪٌ ﻣِﻦْ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے نور ، روشنی اور دِلوں کو شفا حاصل ہوتی ہے ۔* ﺑِﻬَﺎ ﻳُﺴْﺮٌ ﻭﺗَﻔْﺮِﻳﺞٌ ﻟِﻜَﺮْﺏٍ ﻟِﻤَﻦْ ﺃﻫْﺪَﻯ ﺍﻟﺼَّﻼﺓَ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *جو شخص بھی نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو اس کی برکت سے تکلیفیں اور پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں اور آسانیاں میسر آئیں گی ان شاء اللہ ۔* ﻭَﺃﻓْﻀَﻠُﻬَﺎ ﺇﺫﺍ ﻣَﺎ ﻛُﻨْﺖَ ﻳَﻮْﻣﺎً ﺑِﺮَﻭْﺿَﺘِﻪِ تُصلى ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *پھر اس درود کی فضیلت اور قدر و منزلت کے کیا ہی کہنے جب تم ان کے روضہ مبارکہ پر حاضر ہو کر انہیں درود و سلام پیش کروگے۔* ﺗُﺼَﻠِّﻲ ﺑِﺎﺷْﺘِﻴَﺎﻕٍ ﻓﻲ ﻣَﻘَﺎﻡٍ ﻋَﻈِﻴﻢِ ﺍﻟﺸَﺄﻥِ ﻳَﺴْﻤَﻌُﻬَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *تم جس قدر بھی شوق و محبت سے درود پڑھ سکتے ہو ضرورپڑھو کہ وہاں نبی کریم ﷺ خود اسے سماعت فرماتے ہیں۔* ﻓَﻴَﺎ ﺳَﻌْﺪ ﺍﻟﺬﻱ ﻗَﺪْ ﺟَﺎﺀَ ﻳَﻮْﻣﺎً ﻭَﻗَﺪْ ﺃﻫْﺪَﻯ ﺍﻟﺴَّﻼﻡَ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪ *کیا ہی خوش بخت انسان ہے وہ جس نے پہلے ان کی طرف درود کا ھدیہ بھیجا ہو اور پھر ایک دن خود بھی ان کی خدمت میں پہنچ گیا ہو۔* *ﺗَﻘِﻲٌ ﺑَﻞْ ﺳَﻌِﻴﺪٌ ﻣُﺴْﺘَﺠَﺎﺏٌ* *ﻭَﻳَﻮْﻡَ ﺍﻟﺤَﺸْﺮِ ﺷَﺎﻓِﻌُﻪُ ﻣُﺤَﻤَّﺪ* *ایسا آدمی متقی ہے ، بلکہ بڑا خوش بخت اور قبولیت یافتہ ہے کہ قیامت کے دن محمد ﷺ جس کے شفیع ہوں گے۔* *صلَّى اللہ تعالیٰ عليه وآله وَسَلَّمَ* ****************************

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علم کا بدصورت عاشق :

علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی شاعر نے تو یونہی بھی کہا ہے : اگر خنزیر دوبارہ مسخ کر دیا جائے پھر بھی جاحظ سے کم ہی بدصورت ہوگا ۔ بادشاہ متوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کرنا چاہا ، شکل دیکھی تو انکار کر دیا ۔ حالانکہ معتزلی فکر سے وابستہ تھے ، اس کے باوجود عربی ادب کے امام گردانے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : جاحظ نے جس کتاب کو پکڑ لیا اسے مکمل پڑھنے تک نیچے نہیں رکھا ۔ اکثر کتابوں کی دکانیں کرائے پر لے کر رات رات بھر پڑھتے رہتے تھے ۔ آخری عمر میں کافی بیماریوں کا شکار ہوئے ، آدھا جسم مفلوج ہو گیا ، یونہی پڑھنے میں مصروف تھے کہ ارد گرد پڑی کتابیں ان پر آگریں اور یوں علم کا بدصورت عاشق کتابوں کے قبرستان میں دفن ہو گیا ۔ (علی سنان)