شادی کی پہلی رات۔ اور شاعر ________________________ کیا بتائیں وصل کی شب کیا ہوا شاعری کا بھوت تھا سر پر چڑھا شعر گوئی ہو رہی تھی ایک طرف اور دولہن سورہی تھی ایک طرف شعر کے اوزان میں کرتا تھا بات آگے تھا استاد سے دو چار ہاتھ یوں پھنسا مصرع سویرا ہو گیا دور نظروں سے اندھیرا ہو گیا اٹھ کے بستر سے دولہن کہنے لگی بھاڑ میں جائے یہ تمہاری شاعری فاعلاتن۔ فاعلاتن فاعلات مار کے کہنے لگی وہ مجھ کو لات رات بھر تم شعر کہتے رہ گئے دل کے ارماں انسوؤں میں بہہ گئے

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )