عربوں میں قدیم زمانے میں مرد اپنی بیوی کے گھوڑے کو کبھی نہیں بیچتا تھا بلکہ اسے ذبح کر دیتا تھا تاکہ اس پر کوئی اور مرد نہ بیٹھے، اتنی غیرت ہوتی تھی۔ جب عورت کو دفنایا جاتا ہے، تو اس کے اہلِ خانہ قبر کے کنارے جمع ہو جاتے ہیں اور اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ کسی غیر کو قبر کے قریب نہ آنے دی! آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ جنازے کو ڈھانپ دو، قبر کو ڈھانپ دو! یہ سب کچھ اس پر غیرت کی وجہ سے ہوتا ہے جب کہ وہ کفن میں لپٹی مردہ ہوتی ہے! کیا زندہ عورتیں زیادہ غیرت کی حق دار نہیں ہیں؟ عورت کا لباس اس کے والد کی تربیت، اس کی ماں کی عفت، اس کے بھائی کی غیرت اور اس کے شوہر کی مردانگی کو بیان کرتا ہے! ثقافت، آزادی، اور جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ اقدار، حیاء اور اخلاقیات کو چھوڑ دیا جائے۔ اپنی بیٹیوں اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈریں۔ https://whatsapp.com/channel/0029VaRR3zV3QxRuQSHYfL3Z

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو وہاں کے ضعفا اور معذوروں کے گھروں سے آواز آئی ، وہ کہاں گیا جو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا ؟ پھر پتہ چلا کہ رات کے اندھیرے میں امام زین العابدین رحمہ اللہ پانی کی بھری ہوئی مشک اپنے کندھے کے اوپر لے کر ان کے گھروں میں پانی مہیا کیا کرتے تھے اور اس راز کو انہوں نے اس طرح چھپائے رکھا کہ زندگی بھر کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا۔(البدایہ والنہایہ : ۱۳۳۹، حلیۃ الاولیاء : ۱۳۶۳) یہ ہے ایمانی زندگی کہ انسان دوسرے کی خدمت بھی کر رہا ہے ، ہمدردی بھی کر رہا ہے، مگر اس سے صرف (شکریہ) کا بھی طلب گار نہیں ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت فقط اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کر رہا ہے۔