عربوں میں قدیم زمانے میں مرد اپنی بیوی کے گھوڑے کو کبھی نہیں بیچتا تھا بلکہ اسے ذبح کر دیتا تھا تاکہ اس پر کوئی اور مرد نہ بیٹھے، اتنی غیرت ہوتی تھی۔ جب عورت کو دفنایا جاتا ہے، تو اس کے اہلِ خانہ قبر کے کنارے جمع ہو جاتے ہیں اور اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ کسی غیر کو قبر کے قریب نہ آنے دی! آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ جنازے کو ڈھانپ دو، قبر کو ڈھانپ دو! یہ سب کچھ اس پر غیرت کی وجہ سے ہوتا ہے جب کہ وہ کفن میں لپٹی مردہ ہوتی ہے! کیا زندہ عورتیں زیادہ غیرت کی حق دار نہیں ہیں؟ عورت کا لباس اس کے والد کی تربیت، اس کی ماں کی عفت، اس کے بھائی کی غیرت اور اس کے شوہر کی مردانگی کو بیان کرتا ہے! ثقافت، آزادی، اور جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ اقدار، حیاء اور اخلاقیات کو چھوڑ دیا جائے۔ اپنی بیٹیوں اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈریں۔ https://whatsapp.com/channel/0029VaRR3zV3QxRuQSHYfL3Z



