عربوں میں قدیم زمانے میں مرد اپنی بیوی کے گھوڑے کو کبھی نہیں بیچتا تھا بلکہ اسے ذبح کر دیتا تھا تاکہ اس پر کوئی اور مرد نہ بیٹھے، اتنی غیرت ہوتی تھی۔ جب عورت کو دفنایا جاتا ہے، تو اس کے اہلِ خانہ قبر کے کنارے جمع ہو جاتے ہیں اور اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ کسی غیر کو قبر کے قریب نہ آنے دی! آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ جنازے کو ڈھانپ دو، قبر کو ڈھانپ دو! یہ سب کچھ اس پر غیرت کی وجہ سے ہوتا ہے جب کہ وہ کفن میں لپٹی مردہ ہوتی ہے! کیا زندہ عورتیں زیادہ غیرت کی حق دار نہیں ہیں؟ عورت کا لباس اس کے والد کی تربیت، اس کی ماں کی عفت، اس کے بھائی کی غیرت اور اس کے شوہر کی مردانگی کو بیان کرتا ہے! ثقافت، آزادی، اور جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ اقدار، حیاء اور اخلاقیات کو چھوڑ دیا جائے۔ اپنی بیٹیوں اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈریں۔ https://whatsapp.com/channel/0029VaRR3zV3QxRuQSHYfL3Z

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

گھی چور ملازم

گھی چور ملازم

ایک بندہ کریانے کی ایک دکان پر ملازم تھا. وہ کسی نہ کسی بہانے دکان سے کچھ نہ کچھ چوری کرتا رہتا تھا. دکان کا مالک بڑا ہی خوش اخلاق اور امانتدار انسان تھا. وقت گزرتا گیا اور دس بارہ سال گزر گئے. اللہ نے مالک کو خوب برکت دی اور اس کی دکان شہر کی سب سے بڑی دکان بن گئی. روزانہ لاکھوں کی آمدن ہونے لگی. ایک دن اس ملازم کے گھر سے ٹفن میں کھانا آیا ہوا تھا. ملازم نے چوری سے ٹفن میں دیسی گھی ڈال دیا. اللہ کی شان کہ واپس لے جاتے ہوئے اس کے بچے سے ٹفن نیچے گر کر کھل گیا اور اس کی چوری پکڑی گئی. مالک کا بیٹا غصہ میں آ گیا اور ملازم کو برا بھلا کہنے لگا مگر مالک نے اپنے بیٹے کو سختی سے روک دیا اور کہا: " بیٹا! اسے چھوڑ دو. تمہیں آج پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کرتا ہے مگر مجھے پچھلے بارہ سال سے معلوم ہے. اس کے باوجود میں نے اسے کبھی سمجھانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا. بس اتنا سوچو کہ ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی روزانہ کی چوری کے باوجود بھی ہم کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور یہ بارہ سال چوری کرکے بھی آج تک ملازم کا ملازم ہی ہے." اسی طرح امانتدار انسان اپنی ایمانداری اور محنت کے ذریعے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے مگر دھوکہ باز اور چور گندگی میں ہی پڑا رہ جاتا ہے. منقول!