ہمارے ملک میں طلاق بل بنا، اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی اجنبی آکر کہہ دے فلاں مرد نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی، اسے دو سال کی جیل اور اسے اسی عورت کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی ، اور اسی طریقے سے جیل میں رہنے کے زمانے میں بیوی کو اخراجات بھی دینے ہونگے ، یہ تو احمقانہ قسم کا بل ہے، تین طلاق دے چکا طلاق واقع ہو چکی ، لیکن عدالت یہ کہ دیتی ہے کہ یہ طلاق نہیں ہوئی اور وہ بے چارہ اپنی بیوی کو ہٹا نہیں سکتا قانون سے ڈر کر مل نہیں سکتا شریعت سے ڈر کر، یہ عورتوں کے ساتھ بھلائی نہیں ہوئی ان کو بھی ہندو عورتوں کی طرح لڑکا دینے کا فیصلہ ہوا ہے، کوئی آدمی جیل میں ہو اپنی بیوی کو خرچ کیسے دے گا ؟ اور کیا وہ پھر جیل سے آنے کے بعد اس کے ساتھ رہے گا ؟ کیا وہ نفرتوں کا غبار، مقدمے بازی اور عدالتی کارروائی کا غبار دل سے اتنی جلدی نکل جائے گا ؟ کہ وہ اس عورت کو رکھنے کے لئے تیار ہو جائے گا ؟ طلاق بل حکومت کچھ بھی کہتی ہو لیکن عورتوں کو جری بنانے کا طریقہ ہے اور جس عورت کو شوہر کے پاس گئے بغیر، اس کی خدمت اس کے گھر میں رہے بغیر ماہانہ پانچ ہزار سے پندرہ ہزار تک رقم ملتی ہو، کیا وہ عورت کسی مرد سے نکاح کرے گی؟ گھر بیٹھے بٹھائے اسے پیسے ملتے ہوں اپنے چھوڑنے والے شوہر کی طرف سے، کیا وہ دوسرے نکاح کا مزاج بنانے کی کوشش کرے گی ؟ اور وہ مرد کیسے گوارہ کرے گا کہ جو عورت میرے نکاح میں نہیں رہی میں اس پر خرچ کیسے کروں گا ؟ تو پھر اس کے لئے قتل کرنا آسان ہے نفقہ دینے کے مقابلے میں، قتل آسان ہو گیا طلاق کو مشکل کر دیا گیا۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

غلطی کا احساس دلانا

غلطی کا احساس دلانا

نبی کریمﷺ کی تربیت کا ایک طریقہ یہ تھا کہ پہلے غلطی کا احساس دلاتے تھے، پھر نصیحت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ صحابہ کرام کی مجلس میں تشریف فرما تھے، ایک نوجوان مسجد میں داخل ہوا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، گویا کسی کی تلاش میں ہے، اسے رسول اللہﷺ دکھائی دئیے،وہ آپ کی طرف آیا اور کہنے لگایا رسول اللہﷺ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے، غور فرمائیے کہ اس نے کتنی بڑی جرأت کی، لیکن قربان جائیے معلم انسانیتﷺ پر کہ آپ پر ذرہ برابر خفگی کے آثار دکھائی نہیں دئیے اگر آپﷺ کی جگہ آج کے دور کا کوئی مربی ہوتا تو پتہ نہیں کیا کر گذرتا، اس نوجوان کے اس قسم کے سوال پر آپﷺ نے اس کی دینی حالت کو بھانپ لیاکہ یہ دینی اعتبار سے کمزور نوجوان ہے لیکن اس کے اندر پائے جانے والے ایمان نے اسے اجازت لینے پر آمادہ کیا، آپ نے اس نوجوان کو فوری نصیحت فرمائی، بلکہ پہلے اسے غلطی کا احساس دلایا،چنانچہ آپﷺ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی والدہ کے ساتھ زنا کیا جانا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی مائوں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر دریافت کیا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لئے زنا کو پسند کرتے ہو؟ جوان نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے زنا کو پسند نہیں کرتے، آپﷺ نے پھر پوچھا کہ کیا تم اپنی بیوی یا خالہ کے لئے زنا کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ، بالآخر آپﷺ نے فرمایاکہ: لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو، جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو، اس طرح کے سوالات کا مقصد اس کو غلطی کا احساس دلانا تھا، جب اس نوجوان کو اپنی غلظی کا ادراک ہوگیا تو آپﷺ نے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھا اور دعا کی اے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے، اس کا گناہ معاف کر اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت کر، وہ نوجوان یہ کہتا ہوا مسجد سے باہر آیا،’’ بخدا میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو کوئی کام مجھے زنا سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھا اور اب حالت یہ ہے کہ کوئی کام مجھے زنا سے بڑھ کر ناپسند نہیں ‘‘۔ (مسند احمد حدیث نمبر ۲۱۷۰۸) ___________📝📝___________ کتاب : موجودہ حالات میں سیرت رسول ﷺ کا پیغام صفحہ نمبر : ۲۵۸ ۔ ۲۵۸ پسند فرمودہ : حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی انتخاب : اِسلامک ٹیوب پرو ایپ