‏ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دُور سے ایک انسان آتا دیکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں یہ ھمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ بھلی لوک دیکھو ذرا اسکی دستار پہناؤا شکل سے شرافت ٹپک رھی ھے یہ ھمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا‏چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ھو گئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چایے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جاۓ کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔ *سبق* کسی کی ظاہری حالت اور لباس سے اس کی اصلیت کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ ظاہری شرافت یا معزز لباس دھوکہ دے سکتا ہے، اور انسان کے باطن یا نیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ لہذا، انسانوں کو ان کے اعمال، کردار، اور نیت کے مطابق پرکھنا چاہیے، نہ کہ ان کی ظاہری حالت یا لباس سے۔ دھوکہ اور فریب سے بچنے کے لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

"انسان کی فطری کمزوریاں اور نماز کا اثر"

"انسان کی فطری کمزوریاں اور نماز کا اثر"

آج فجر کہ بعد ‏میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک سا گیا بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان اصل پیدا کیسا ہوا ہے۔ آیت تھی: "اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ھلوعا" حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے ‏ میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگوئش لکھا تھا،اب اینگوئش کا مطلب اردو میں سمجھوں تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انسان جس میں بے چینی، تشویش، یا بے صبری سی ہو بہرحال میں نے”کم ہمت“پر ہی اکتفا کر لیا اور اسے بے صبری کے معنوں میں لے لیا۔اگلی آیت کچھ اور بھی معنی خیز تھی: ‏ "اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا" جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے ”جزوعا“ کا لفظ تو مجھے سمجھ آ گیا، انگریزی میں ترجمہ بھی قریب قریب ہی تھا، امپیشنٹ، مطلب بے چین، یعنی تکلیف پہنچے تو انسان چاہتا ہے بس اب یہ رفع ہو جائے، بس ختم ہو جائے کسی طرح "وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا" اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے ”منوعا“ یعنی کنجوس جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے بس اس کے پاس ہی رہے وہ نعمت، کسی اور کو نہ مل جائے۔ جو رلا دینے والی آیت تھی، وہ بعد میں آئی: اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ مگر نماز پڑھنے والےایسے نہیں ہیں یعنی نماز پڑھنے والے لوگوں کے علاوہ ‏انسان کی حالت اسی طرح کی ہے انسان کی یہ پیدائشی حالت صرف اس صورت میں بدل سکتی ہے، جب وہ نماز قائم کر لیتا ہے مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی یہ سوچ کرمیں پہلی تین آیات پڑھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہی بنائے انسان کی کمیاں اور خامیاں گنوا رہا ہے لیکن ”الّا المصلّین“ پڑھا تو دل مطمئن سا ہو گیا کہ ان کمیوں اور خامیوں کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے راستہ رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ ”ھلوعا“ ”جزوعا“ اور ”منوعا“ کی دلی اور جذباتی حالتوں سے نکل سکتا ہے اور میں سوچنے لگا، یعنی تصور کرنے لگا، کہ انسان سے تشویش، ‏بے چینی، اور کنجوسی نکل جائیں تو کیسی حالت ہوتی ہے انسان کی یعنی نماز ہی کی برکت سے انسان کے دل سے تشویش، بے چینی اور کنجوسی نکلتی ہے، اور اس کی پریشانی، گھٹن اور تنگدلی دور ہو جاتی ہے، انسان میں کیسی وسعت، اور کیسی کشادگی آ جاتی ہے انسان کی طبیعت کتنی ہلکی پھلکی ہو جاتی ہے، اور اس کے دل پر بوجھ ڈالنے والی چیزیں کس طرح غائب ہو جاتی ہیں بے شک نماز ایک عظیم نعمت ہے از قلم : عبدالخالق قاسمی خوریجی، دہلی۔ ___________📝📝____________ منقول۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔