*محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ اشراق/چاشت کا وقت تقریباً 6 گھنٹے ھے اور وہ 2 رکعتیں نہ پڑھ سکے، جو کہ انسانی جسم کے 360 جوڑوں کا صدقہ ھیں *محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ رات تقریباً 11 گھنٹوں کی ھے اور وہ تہجّدکی دو رکعت بھی نہ پڑھ سکے جس میں تقریباً 5 منٹ لگتے ہیں *محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ دن اور رات میں 24 گھنٹے ھوتے ھیں اور وہ قرآن کریم کے ایک رکوع کی بھی تلاوت نہ کر سکے جس میں محض دو منٹ لگتے ہیں *یقیناً محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ زبان تھکتی نہیں اور وہ دن بھر میں بالکل بھی اللّٰہ کا ذکر نہ کرے *یقیناً محروم وہ ہے!* جسے درود شریف پڑھنے کی توفیق ہی نہ ملے أستغفر اللّٰہ ربّی من کلِّ ذنبٍ وّ أتوب إليه اور اسی طرح زندگی گزر رہی ھے اور ہم اپنے آپ سے غافل ھیں اور اپنے وقت کو ضائع کرتے جا رھے ھیں یا اللّٰہ! ھم ان محرومیوں سے تیری پناہ مانگتے ھیں یا اللّٰہ! ان سنّتوں کی یاد دھانی ھمارے لئے، ھمارے والدین کے لیے اور جو اس یاد دہانی کو عام کرے، ان سب کے لیے قیامت تک صدقہ جاریہ بنا دے اللّہ پاک ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ، یاربّ العالمین لا حول ولاقوۃ الاباللّٰہ العلیّ العظیم

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​حکمران ہو تو ایسا! گورنرِ مدائن حضرت سلمان فارسی کی بے مثال خاکساری

​حکمران ہو تو ایسا! گورنرِ مدائن حضرت سلمان فارسی کی بے مثال خاکساری

حضرت سلمان فارسی بہت بڑے صحابی تھے ، تمام صحابہ کرام میں آپ نے سب سے زیادہ عمر پائی ہے ، آپ سبھی لوگوں کی خدمت کرتے اور بہت سیدھی سادی زندگی گزارتے تھے ۔ حضرت عمرؓ نے اپنی حکومت کے زمانے میں ان کو شہر مدائن کا گورنر بنا دیا؛ لیکن حضرت سلمان فارسی کی سادگی کی وجہ سے نئے لوگ انھیں دیکھ کر سمجھ ہی نہیں پاتے تھے کہ یہ شہر مدائن کے گورنر ہیں ؛ بلکہ ان کو ایک عام آدمی سمجھ کر ان سے خدمت بھی لے لیا کرتے تھے اور حضرت سلمان فارسی بھی گورنر ہونے کے باوجود بلا کسی شرم کے ان کی خدمت کر دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت سلمان فارسی ایک عام آدمی کی طرح مدائن کی سڑک پر گھوم رہے تھے ۔ ملک شام کا ایک تاجر اپنی تجارت کا سامان بیچنے کے لیے مدائن آرہا تھا ۔ اس تاجر نے حضرت سلمان فارسی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ کوئی مزدور ہے ؛ اس لیے ان کو بلایا اور کہا کہ میرا سامان اٹھا کر فلاں جگہ لے چلو ، حضرت سلمان فارسی بھی بغیر کسی شرم کے اس تاجر کا سامان اٹھا کر چل دیئے ۔ کچھ دیر بعد جب مدائن کے شہریوں نے حضرت سلمان فارسی کو سامان اٹھائے ہوئے دیکھا ، تو اس شامی تاجر سے کہا : ارے ! یہ تو مدائن کے گورنر ہیں ! تو ان سے بوجھ اٹھوا رہا ہے ! یہ سن کر وہ تاجر گھبرا گیا اور شرمندہ ہو کر حضرت سلمان فارسی سے درخواست کرنے لگا : حضرت ! میں آپ کو پہچان نہیں سکا ؛ اس لیے آپ کے ساتھ یہ گستاخی ہو گئی ، مجھے معاف فرما دیں اور سامان مجھے دے دیں ، میں خود لے کر چلا جاؤں گا؛ لیکن حضرت سلمان فارسی اپنے سر سے سامان اتارنے کے لیے بلکل تیار نہ ہوئے ؛ بلکہ فرمایا : میں نے ایک نیکی کی نیت کر لی ہے ، جب تک وہ پوری نہ ہوگی ، یہ سامان نہیں اتاروں گا ، پھر انھوں نے وہ سامان اس کے ٹھکانے تک پہنچا دیا(طبقات ابنِ سعد البصری: ۵/۶۸) _____________📝📝📝_____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔