ایک تجربے میں چاول کے دانوں سے بھرے مرتبان کے اوپر ایک چوہا رکھا گیا تھا۔ وہ اپنے اردگرد اتنا کھانا پا کر اتنا خوش تھا کہ اسے ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اب وہ آخر کار اپنی زندگی بغیر کسی پریشانی اور کوشش کے گزار سکتا ہے۔ چند دنوں کے مزے لینے کے بعد جب چاول ختم ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مرتبان کے نیچے پاتا ہے۔ اس وقت، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ پھنس گیا ہے اور وہ باہر نہیں نکل سکتا۔ 1) قلیل مدتی لذتیں طویل مدتی جال کا باعث بن سکتی ہیں۔ 2) اگر چیزیں آسان ہیں اور آپ آرام دہ ہیں، تو آپ اپنے آپ کو ایک لت میں پھنسا رہے ہیں۔ 3) جب آپ اپنی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کر رہے ہیں، تو آپ اپنی صلاحیتوں سے زیادہ کھو دیں گے۔ آپ انتخاب کرنے کی صلاحیت اور اپنی آزاد مرضی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ 4) آزادی آسانی سے حاصل نہیں کی جاتی ہے، لیکن اسے جلد کھو دیا جا سکتا ہے

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک رات کی کہانی

ایک رات کی کہانی

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا : اے حاتم ! کیا سخاوت میں کوئی تم سے آگے بڑھا ہے ؟ حاتم نے جواب دیا : ہاں ! ... قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کیلیے ان کے گھر گیا ، اس کے پاس دس بکریاں تھیں ، اس نے ایک ذبح کی ، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا اس نے کھانے کیلیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا، میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا میں نے کہا : واہ سبحان اللہ ! کیا خوب ذائقہ ہے ! یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون ہی خون بکھرا پڑا ہے۔ میں نے اس سے کہا : آپ نے تمام بکریاں کیوں ذبح کیں ؟ اس نے کہا : واہ ، سبحان اللہ ! ... آپ کو میری کوئی چیز اچھی لگے اور میں اس پر بخل کروں ، یہ عربوں کی لیے بدترین گالی ہے حاتم سے پوچھا گیا : بدلے میں آپ نے اسے کیا دیا ؟ ... انہوں نے کہا : تین سو سرخ اونٹنیاں اور پانچ سو بکریاں ! ان سے کہا گیا : تو پھر آپ اس سے بڑے سخی ہوئے ! حاتم طائی نے جواب دیا : نہیں ...! وہ مجھ سے زیادہ سخی ہے ، کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ لٹا کر سخاوت کی جبکہ میں نے تو اپنے بہت سے مال میں سے تھوڑا سا خرچ کر کے سخاوت کی ہے۔ ___________📝📝📝___________ منقول - ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔