ایک تجربے میں چاول کے دانوں سے بھرے مرتبان کے اوپر ایک چوہا رکھا گیا تھا۔ وہ اپنے اردگرد اتنا کھانا پا کر اتنا خوش تھا کہ اسے ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اب وہ آخر کار اپنی زندگی بغیر کسی پریشانی اور کوشش کے گزار سکتا ہے۔ چند دنوں کے مزے لینے کے بعد جب چاول ختم ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مرتبان کے نیچے پاتا ہے۔ اس وقت، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ پھنس گیا ہے اور وہ باہر نہیں نکل سکتا۔ 1) قلیل مدتی لذتیں طویل مدتی جال کا باعث بن سکتی ہیں۔ 2) اگر چیزیں آسان ہیں اور آپ آرام دہ ہیں، تو آپ اپنے آپ کو ایک لت میں پھنسا رہے ہیں۔ 3) جب آپ اپنی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کر رہے ہیں، تو آپ اپنی صلاحیتوں سے زیادہ کھو دیں گے۔ آپ انتخاب کرنے کی صلاحیت اور اپنی آزاد مرضی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ 4) آزادی آسانی سے حاصل نہیں کی جاتی ہے، لیکن اسے جلد کھو دیا جا سکتا ہے

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے (میری جانب بند مٹھی بڑھا کر ) کہا: یہاں آؤ! میں تمہیں دوں گی ( جیسے مائیں بچے کو پاس بلانے کے لئے ایسا کرتی ہیں ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اسے کیا دینے کا ارادہ تھا؟“‘ والدہ نے جواب دیا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ. (الترغيب والترهيب (۳۷۰/۳) اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے نامۂ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہت سی ایسی باتیں جنہیں معاشرہ میں جھوٹ نہیں سمجھا جاتا ہے، ان پر بھی جھوٹ کا گناہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو جھوٹی تسلیاں دینا اور جھوٹے وعدے کرنا عام طور پر ہر جگہ رائج ہے، اور اسے جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ حالاں کہ درج بالا ارشاد نبوی کے مطابق یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے، جس سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۳۶)