_جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں ، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے

قارون نہیں جانتا تھا کہ ہمارے جیب میں موجود اے ٹی ایم کارڈ اس کی چابیوں کی جگہ لے لیتا ہے، اسکی چابیاں مضبوط مرد بھی نہیں اٹھا سکتے تھے...!! کسرٰی فارس نہیں جانتا تھا کہ ہمارے ڈرائنگ روم کی کنبی اس کے تخت سے زیادہ آرام دہ ہے...!! قیصر، جس کے غلام اس کے سر کے اوپر شترمرغ کے پروں سے ہوا کرتے تھے، اس نے کبھی ہمارے گھروں میں موجود ایئر کنڈیشنر نہیں دیکھے...!! ہرقُل، جو فخریہ پانی کی قنینی سے پانی پیتا تھا اور جس کے ارد گرد لوگ اس کی ٹھنڈک پر حسد کرتے تھےاس نے کبھی ہمارے گھروں میں موجود واٹر کولر سے پانی نہیں پیا...!! خلیفہ المنصور، جس کے غلام گرم اور ٹھنڈے پانی کو ملاتے تھے تاکہ وہ فخر سے غسل کر سکے، اس نے کبھی جاکوزی میں غسل نہیں کیا...!! حج کا سفر جو اونٹوں کی پیٹھ پر مہینوں لیتا تھا، ہمارے لیے ہوائی جہازوں میں چند گھنٹوں کا سفر ہے...!! ہم ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جسے بادشاہوں نے کبھی نہیں گزاری، بلکہ خواب میں بھی نہیں دیکھی، اور پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی قسمت کو روتے ہیں۔ جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ الحمد لله کہہ دیں وہ الله ہمارے لیے کافی ہے۔ منقول۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ

گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ

ایک نوجوان اپنی زندگی کے معاملات سے کافی پریشان تھا ۔ اک روزایک درویش  سے ملا قات ہو گئی تواپنا حال  کہہ سنایا ۔ کہنے لگا کہ بہت پریشان ہوں۔ یہ دکھ اور پریشانیاں اب میری برداشت ہے باہر ہیں ۔ لگتا ہے شائد میری موت ہی مجھے ان غموں سے نجات دلا سکتی ہے۔ درویش نے اس کی بات سنی اور کہا جاؤ اور نمک لے کر آؤ۔ نوجوان حیران تو ہوا کہ میری بات کا نمک سے کیا تعلق پر پھر بھی  لے آیا ۔ درویش نے کہا پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو اور اسے پی لو۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا تو درویش نے پوچھا : اس کا ذائقہ کیسا لگا ؟ نوجوان تھوكتے ہوئے بولا بہت ہی خراب، ایک دم کھارا درویش مسکراتے ہوئے بولا اب ایک مٹھی نمک لے کر میرے ساتھ اس سامنے والی جھیل تک چلو۔ صاف پانی سے بنی اس جھیل کے سامنے پہنچ کر درویش نے کہا چلو اب اس مٹھی بھر نمک کو پانی میں ڈال دو اور پھر اس جھیل کا پانی پیو۔ نوجوان پانی پینے لگا، تو درویش نے پوچھا بتاؤ اس کا ذائقہ کیسا ہے، کیا اب بھی تمہیں یہ کھارا لگ رہا ہے ؟ نوجوان بولا نہیں ، یہ تو میٹھا ہے۔ بہت اچھا ہے۔ درویش نوجوان کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ہمارے دکھ بالکل اسی نمک کی طرح ہیں ۔ جتنا نمک گلاس میں ڈالا تھا اتنا ہی جھیل میں ڈالا ہے۔ مگر گلاس کا پانی کڑوا ہو گیا اور جھیل کے پانی کو مٹھی بھر نمک سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح انسان بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق تکلیفوں کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔ جب تمھیں کوئی دکھ ملے تو خود کو بڑا کر لو، گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ۔ اللہ تعالی کسی پر اس کی ہمت سے ذیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔   اس لئے ہمیں ہمیشہ یقین رکھنا چاہیے کہ جتنے بھی دکھ آئیں ہماری برداشت سے بڑھ کر نہیں ہوں گے... ــــــــــــــــــــــــــ📝📝ــــــــــــــــــــــــــ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ