چوہدری صاحب کا ایثار اور علماء دین سے محبت

۔۔۔۔ مدرسہ کے طالب علموں کے لئے ایک چوہدری سال بھر کی گندم مدرسہ کے لئے وقف کرتا تھا کسی شر پسند شخص نے مولانا صاحب کے بارے میں دشمنی اور نفرت کا اظہار ایسا کیا کہ پتہ معلوم کرتے کرتے چوہدری کے گھر پہنچ گیا اور کہنے لگا چوہدری صاحب مدرسے جا کر پتہ تو کریں کیا خیانتیں ہو رہی ہے طالب وعلموں کے نام پر آدھی گندم مدرسہ میں۔۔۔اور آدھی مولوی صاحب کے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ چوہدری کی قبر پر رحمت کریں جہاں وہ گمنام مجاھد سو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔چوہدری اٹھا۔۔۔اس شر پسند شخص کو گلے لگایا اور شکریہ ادا کرکے کہنے لگا یار تو پہلے کیوں نہیں آیا۔۔یہ بات بتا کے تو نے میری مدد کر دی۔۔آج سے سال کی گندم مولانا کے گھر اور سال کی الگ گندم مدرسہ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو آخری الفاظ چوہدری نے کہے سونے کے پانی کے ساتھ لکھنے والے ہیں کہنے لگا سن! طالب علموں کا کھانا بھی بڑی بات ہے مگر میرے لئے فخر کی بات یہ ہے وقت کا محدث میری گندم کو کھاتا ہے جس کا سارا دن قال اللہ اور قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے پڑھاتے گزر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس کے ثواب میں مجھے کوئی شک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر _____________________________________ منقول۔ انتخاب اِسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

سلیمان بن عبدالملک نے جو بنو امیہ کا بادشاہ تھا ـ ایک مرتبہ شیخ الحدیث ابو حازم ؒ سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟... کہ ہم لوگ دنیا کو پسند اور آخرت کو ناپسند کرتے ہیں ـ آپ نے برجستہ جواب دیا... کہ تم لوگوں نے دنیا کو آباد کیا... اور آخرت کو برباد کیا... اس لئے تم لوگ آبادی سے ویرانے کی طرف جانے سے گھبراتے ہو ـ پھر سلیمان نے پوچھا... کہ کاش ہم کو معلوم ہوجاتا کہ آخرت میں ہمارا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھ لو... تمہیں معلوم ہوجائے گا ـ سلیمان نے کہا کہ کون سی آیات پڑھوں؟ آپ نے فرمایا کہ ( اِنَّ الْاَبْـرَارَ لَفِىْ نَعِـيْمٍ ،وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِىْ جَحِـيْمٍ) یعنی نکوکار یقیناﹰ جنت میں اور بدکار یقینًا جہنم میں ہوں گے ـ پھر سلیمان نے یہ دریافت کیا... کہ دربار الٰہی میں بندوں کی حاضری کا کیا منظر ہوگا؟ آپ نے جواب دیا... کہ نیکوکار کا تو یہ حال ہوگا... کہ جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا مسافر خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں آتا ہے... اور بدکاروں کا یہ حال ہوگا... کہ جیسے بھاگا ہوا غلام گرفتار کرکے آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے... شیخ ابو حازمؒ کی یہ حق گوئی تاثیر کا تیر بن کر سلیمان کے قلب میں پیوست ہوگئی... اور وہ چیخ مار کر رونے لگا ـ (حوالہ :- روح البیان ج ۵ ص ۲۵۳) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ والوں کی دنیا سے بے رغبتی کے ۲۰۰ واقعات (صفحہ نمبر ۴۴۴ ) مصنف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ