ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہارون رشیدؒ کے زمانے میں پورے عالم اسلام کے قاضی القضاۃ تھے، ایک بار ان کے پاس خلیفہ ہارون رشیدؒ اور ایک نصرانی کا مقدمہ آیا، امام نے فیصلہ نصرانی کے حق میں کیا، اس طرح کے درخشاں واقعات تاریخ اسلام کے ورک ورک پر بکھرے پڑے ہیں، لوگ اس کو "دور ملوکیت" کہتے ہیں وہ کس قدر مبارک "دور ملوکیت" تھا ایک طاقتور بادشاہ اور خلیفہ اپنی رعایا میں سے ایک غیر مسلم کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں فریق بن کر حاضر ہیں، امام ابو یوسفؒ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو فرمانے لگے : اے اللہ ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے زمانئہ قضا میں مقدمات کے فیصلے میں کسی بھی فریق کی جانب داری نہیں کی، حتیٰ کہ دل میں کسی ایک فریق کی طرف میلان بھی نہیں ہوا، سوائے نصرانی اور ہارون رشیدؒ کے مقدمے کے کہ اس میں دل کا رجحان اور تمنا یہ تھی کہ حق ہارون رشیدؒ کے ساتھ ہو اور فیصلہ حق کے مطابق اسی کے حق میں ہو لیکن فیصلہ دلائل سننے کے بعد ہارون رشیدؒ کے خلاف کیا"ـ یہ فرماکر امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ رونے لگے اور اس قدر روئے کہ دل بھر بھر آیا ـ ( الدر المختار : ج ۳۱۳،والقضاء فی الاسلام لعارف النکدی ص ۲۰) ـــــــــــــــــــــــــــ📝📝ـــــــــــــــــــــــــــ ( کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں صفحہ نمبر : ۵۷ مصنف : ابن الحسن عباسی انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ )

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علم نافع کی علامت

علم نافع کی علامت

ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ علم نافع کی علامت کیا ہوتی ہے؟ جی ہاں نفع دینے والا علم بھی ہوتا ہے نبی علیہ السلام نے ہمیں دعاء سکھائی ہے: اللهم اني أعوذ بك من علم لا ينفع “اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دیتا ہو چناں چہ علم نافع کی دو علامتیں ہیں۔ پہلی علامت: بندے کو اس علم پر عمل کرنے کو توفیق مل جاتی ہے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ایک مرتبہ طلباء سے پوچھا بتاؤ علم کا مفہوم کیا ہے؟ وہ بتاتے رہے، جاننا پہچاننا وغیرہ۔ حضرت خاموش رہے بالآخر ایک طالب علم نے کہا حضرت آپ ہی بتائیے۔ آپ نے فرمایا : علم وہ نور ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد اس پر عمل کئے بغیر چین نہیں آتا اگر دل کی یہ حالت ہوتی ہے تو علم نافع ہے۔ عمل کے بغیر بندے کو چین نہیں آتا، گناہ کر بیٹھے تو اللہ سے رو رو کر معافی مانگے بغیر اس کو سکون نہیں ملتا ہے، اندر ایک آگ لگی ہوتی ہے۔ دوسری علامت: انسان کے دل کے اندر وحشت بڑھ جاتی ہے: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءِ (فاطر) دیکھا قرآن عظیم الشان نے نشانی بتادی ہے بے شک اللہ کے بندوں میں سے علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، انسان کے دل میں خشوع، ڈر اور خوف بڑھ جاتا ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں: بڑا عالم وہ ہے جس پر گناہوں کی مضرتیں زیادہ کھل جائے ، گناہوں کے نقصانات جتنے واضح ہوں گے، وہ اتناہی پیچھے ہٹے گا۔ ___📝📝📝___ کتاب : طلبہ کے لیے اثر انگیز نصائح۔ صفحہ نمبر: ۳۵۱ - ۳۵۲۔ مصنف : حضرت مولانا حذیفہ بن غلام محمد وستانوی