خاموش پرندہ __!!

حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک شخص نے ایک خوبصورت پرندہ خریدا، وہ جب چہچہاتا تو نہایت دل فریب اور خوش مزاج آواز سے وہ شخص بہت مسرور ہوتا گویا اس پرندے کی آواز بہت ہی سریلی اور پیاری تھی۔ ایک دن اچانک اس پنجرے کے پاس اسی کے جیسا ایک اور پرندہ آیا اور اپنی زبان میں کچھ باتیں کیں اور چلاگیا۔ پنجرے میں موجود پرندہ بالکل خاموش ہوگیا گویا ایسا ہوگیا جیسے وہ گونگا پرندہ ہے۔ اسکے مالک نے دو تین دن انتظار کیا مگر پرندہ بالکل خاموش۔۔۔ وہ شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں اس پرندے کو پنجرے سمیت لایا اور شکایت کہ یہ بہت مہنگا پرندہ خریدا تھا، اسکی آواز مجھے مسرور کرتی تھی مگر اب نجانے کیا ہوا کہ بولتا ہی نہیں! حضرت سلیمان علیہ السلام (جو جانور، چرند، پرند، سب کی بولیاں جانتے تھے) نے اس پرندے سے پوچھا کیا وجہ ہے جو تم خاموش ہوگئے ہو؟ وہ پرندہ عرض گزار ہوا اے اللہ کے برحق نبی! یہ شخص سمجھتا ہے میں خوش ہوکر چہچہاتا ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میں دیگر آزاد پرندوں کو دیکھ کر روتا ہوں کہ اے کاش میں بھی آزاد ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا مگر یہ میری زبان نہیں سمجھتا تو یہ خیال کرتا ہے جیسے میں بہت خوشی سے گنگنا رہا ہوں۔ پھر ایک دن میرا ایک ہم جنس میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ شخص تیری زبان نہیں سمجھتا بلکہ سمجھتا ہے کہ تو بہت سریلی آواز کے ساتھ خوشی خوشی چہچہا رہا ہے۔ اگر تم اسکی قید سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو رونا چھوڑ دو، بولنا فریاد کرنا بھی چھوڑ دو کہ اس پر تمہارے الفاظ اثر ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ تمہارے درد کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ بس پھر کیا تھا میں تب سے خاموش ہوکر صبر کررہا ہوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس شخص سے کہا کہ پنجرہ کھول دو اور اس کو آزاد کردو کیونکہ اب یہ پنجرے میں کبھی نہیں بولے گا۔ اس شخص نے کہا اگر اب یہ خاموش ہی رہا تو بلاوجہ اس کو رکھ کر میں کیا کروں گا لہذا اس نے سلیمان علیہ السلام کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے پنجرہ کھول دیا۔ وہ پرندہ فوراً اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھا اور اس شخص کو دیکھ کر کچھ چہچہا کر اڑ گیا۔ اس شخص نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کی کہ یہ کیا کہہ کر گیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس نے کہا کہ اگر تو بھی اپنے غموں اور مصائب سے آزاد ہونا چاہتا ہے تو خاموش ہوجا اور صبر کر، کسی سے کچھ شکایت نہ کر تو تجھے بھی ایک دن سارے غموں سے نجات مل جائے گی جو تو لوگوں کو سناتا رہتا ہے مگر وہ بےاحساس لوگ تیری زبان جانتے ہوئے بھی تیری بات نہیں سنتے۔ یہ ایک حکایت ہے. یہ جھوٹی ہے یا سچی اس بحث میں نہ پڑہے، اس طرح کی حکایات سے نصیحت اور سبق حاصل کیا جاتا ہے. __________📝📝__________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

_جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں ، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے

_جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں ، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے

قارون نہیں جانتا تھا کہ ہمارے جیب میں موجود اے ٹی ایم کارڈ اس کی چابیوں کی جگہ لے لیتا ہے، اسکی چابیاں مضبوط مرد بھی نہیں اٹھا سکتے تھے...!! کسرٰی فارس نہیں جانتا تھا کہ ہمارے ڈرائنگ روم کی کنبی اس کے تخت سے زیادہ آرام دہ ہے...!! قیصر، جس کے غلام اس کے سر کے اوپر شترمرغ کے پروں سے ہوا کرتے تھے، اس نے کبھی ہمارے گھروں میں موجود ایئر کنڈیشنر نہیں دیکھے...!! ہرقُل، جو فخریہ پانی کی قنینی سے پانی پیتا تھا اور جس کے ارد گرد لوگ اس کی ٹھنڈک پر حسد کرتے تھےاس نے کبھی ہمارے گھروں میں موجود واٹر کولر سے پانی نہیں پیا...!! خلیفہ المنصور، جس کے غلام گرم اور ٹھنڈے پانی کو ملاتے تھے تاکہ وہ فخر سے غسل کر سکے، اس نے کبھی جاکوزی میں غسل نہیں کیا...!! حج کا سفر جو اونٹوں کی پیٹھ پر مہینوں لیتا تھا، ہمارے لیے ہوائی جہازوں میں چند گھنٹوں کا سفر ہے...!! ہم ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جسے بادشاہوں نے کبھی نہیں گزاری، بلکہ خواب میں بھی نہیں دیکھی، اور پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی قسمت کو روتے ہیں۔ جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ الحمد لله کہہ دیں وہ الله ہمارے لیے کافی ہے۔ منقول۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔