تم اپنی ماں کا نکاح میرے ساتھ کردو!!!

حاسد کی سزا، آپ کا صبر ہے😐🔥 امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تین دن تعزیت کے لیے بیٹھے رہے تین دن کے بعد باہر نکل کر چوک میں آگئے، ‏ایک بندہ آپ کا حاسد تھا سخت مخالف تھا اور سارا علاقہ جانتا تھا کہ اپ کا مخالف ہے، ‏جب اپ باہر نکلے تو چوک میں بہت سارے لوگ تھے وہ بھی سامنے سے آیا۔ ‏السلام علیکم کے بعد کہنے لگا؛ ابو حنیفہ! سنا ہے آپ کے والد انتقال کر گئے ہے؟ ‏فرمایا ہاں ۔۔ ‏کہنے لگا اپنی ماں کا نکاح میرے ساتھ کر دو۔ ‏ الله أكبر ایسا سخت جملہ کہ وہ انسان کی نیند میں سوراخ کر دیتا ہے انسان سو نہیں پاتا، ‏آپؒ کھڑے رہے جملہ سخت تھا، مگر بات تو شرعی تھی غیر شرعی تو نہیں تھی، ‏تو امام صاحب کے ساتھ جو شاگرد تھے عقیدت مند تھے انہوں نے تلواریں نیام سے نکالی، ‏آپؒ نے فرمایا چپ کر جاؤ ہم کوئی لاوارث تو نہیں ہیں، ‏حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ساری ہمت سمیٹی، آنکھ میں آنسو جو چمکے تو ان کو بھی دامن میں سمیٹ لیا، ہمت جمع کر کے کہنے لگے؛ ‏میاں تم نے کہا ہے میں اپنی ماں کا نکاح تیرے ساتھ کر لوں۔ ‏تو عدت گزر لینے دے تیرا نام لے کے اماں سے بات کروں گا اگر وہ تیرے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو مجھے اعتراض کوئی نہیں، ‏یہ کہہ کے اپنے دوستوں کے بازو تھامے اگلے چوک میں گئے، ‏وہ بندہ دھڑام سے زمین پہ گرا اور روح پرواز کر گئی، ‏لوگ کہنے لگے حضور اسے کیا ہوا؟ ‏آپؒ فرمانے لگے اس نے سمجھا تھا میں لاوارث ہوں، ‏اسے کچھ بھی نہیں ہوا، ابو حنیفہ کے صبر نے اس کی جان لے لی ہے۔ ‏کئی دفعہ لوگ بڑے سخت جملے کہہ دیتے ہے بڑی تکلیف ہوتی ہے، ‏حسد بڑی بری چیز ہے اس کے شر سے اللہ ہم سب کو محفوظ فرمائے۔آمین *‏"امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیرت و تاریخ" صفحہ نمبر ۱۲۵* *نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔ ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

طلاق کا سبب __؟؟

طلاق کا سبب __؟؟

کہتے ہیں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سبب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کر دوں تو رجوع کیسے کروں گا .؟ لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو ،،، اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہوگا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !! لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے اس اعرابی نے کہا : اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں ۔۔ !! یہ تحریر اُن لوگوں کے لیۓ ہے جو اپنی بیوی کی غلطیاں اپنے دوست و احباب کو بتاتے پھرتے ہیں۔ دوسروں کے عیب چھوڑو ؛؛ کبھی اپنے سامنے بھی آئینہ رکھو ۔۔