🫘 مدینہ منورہ کی کھجوریں اپنے ذائقے، ساخت اور غذائی خصوصیات کے لحاظ سے مشہور ہیں ۔۔۔

مدینہ میں کئی اقسام کی کھجوریں پائی جاتی ہیں، جن میں سے کچھ مشہور اقسام درج ذیل ہیں: 1۔ عجوہ (Ajwa) : - یہ مدینہ کی سب سے مشہور کھجور ہے۔ - اس کا رنگ گہرا سیاہ ہوتا ہے اور یہ نرم اور میٹھی ہوتی ہے۔ - عجوہ کھجور کو نبی کریم ﷺ کی طرف سے خاص فضیلت دی گئی ہے۔ 2۔ عنبرہ (Anbara) : - یہ بڑی سائز کی کھجور ہے اور اس کا ذائقہ بہت لذیذ ہوتا ہے۔ - یہ عام طور پر مہنگی ہوتی ہے۔ 3۔ صفوی (Safawi): - اس کا رنگ گہرا سیاہ ہوتا ہے اور یہ نرم اور میٹھی ہوتی ہے۔ - یہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ 4۔ مبروم (Mabroom) : - یہ لمبی اور پتلی کھجور ہوتی ہے۔ - اس کا ذائقہ میٹھا اور لطیف ہوتا ہے۔ 5۔ سکری (Sukkari) : - یہ بہت میٹھی اور نرم کھجور ہے۔ - اس کا رنگ سنہری ہوتا ہے اور یہ عام طور پر تازہ کھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ 6۔ برنی (Barni) : - یہ چھوٹی اور گول کھجور ہوتی ہے۔ - اس کا ذائقہ میٹھا اور تھوڑا کریمی ہوتا ہے۔ 7۔ خضری (Khudri) : - یہ عام طور پر دستیاب اور معتدل قیمت کی کھجور ہے۔ - اس کا رنگ بھورا ہوتا ہے اور یہ قدرے سخت ہوتی ہے۔ 8۔ روثانہ (Rothana) : - یہ بڑی سائز کی کھجور ہے اور اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ 9۔ شقری (Shuqra) : - یہ کھجور بھی میٹھی اور نرم ہوتی ہے۔ 10۔ حلاوی (Halawi) : - اس کا ذائقہ بہت میٹھا ہوتا ہے اور یہ نرم ہوتی ہے۔ مدینہ منورہ کی کھجوریں نہ صرف ذائقے میں بہترین ہیں بلکہ ان کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔ یہ کھجوریں توانائی، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہودی کے شاگرد: ایک طنزیہ حکایت

یہودی کے شاگرد: ایک طنزیہ حکایت

‏ایک یہودی نے روس چھوڑ کر اسرائیل میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت لی اور روس سے روانہ ہوا۔ ائرپورٹ پر اس کے سامان کی تلاشی لی گئی تو لینن کا ایک مجسمہ بر آمد ہوا۔ انسپکٹر نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ یہودی نے کہا: جناب آپ نے غلط سوال کیا ہے! آپ کو کہنا چاہیے تھا یہ کون ہے؟ یہ لینن ہے جس نے اشتراکیت کے ذریعے روسی قوم کی خدمت کی میں ان کا بڑا فین ہوں اس لیے یادگار کے طور پر ان کا مجسمہ اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔ روسی انسپکٹر بڑا متاثرا ہوا اور کہا: جاو ٹھیک ہے۔ یہودی ماسکو سے تل ابیب ائرپورٹ پر اترا تو ان کے سامان کی تلاشی لی گئی اور وہ مجسمہ بر آمد ہوا تو انسپکٹر نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ یہودی: آپ کا سوال غلط ہے آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ یہ کون ہے؟ یہ مجرم لینن ہے یہی وہ پاگل ہے جس کی وجہ سے میں روس چھوڑنے پر مجبور ہوا! اس کا مجسمہ میں یادگار کے طور پر اپنے ساتھ لایا ہوں تاکہ صبح و شام اس کو دیکھ کر اس پر لعنت بھیج سکوں! اسرائیلی انسپکٹر متاثرا ہوا اور کہا: جاؤ ٹھیک ہے۔ یہودی اپنے گھر پہنچا اور مجسمہ نکال کر گھر کے ایک کونے میں سنبھال کر رکھ دیا۔ خیریت سے اسرئیل پہنچنے پر اس کے رشتہ دار ملنے آئے جن میں اس کا ایک بھتیجا بھی تھا۔ بولا: انکل یہ کون ہے؟ یہودی بولا تمہارا سوال غلط ہے تمہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ دس کلو سونا ہے اس کو بغیر کسٹم کے لانا تھا میں نے اس کا مجسمہ بنوایا اور بغیر کسی ٹیکس اور کسٹم کے لانے میں کامیاب ہوا۔ ہمارے سیاستدان اسی یہودی کے شاگرد ہیں۔ سبق چالاکی اور دھوکہ: یہودی نے حالات کے مطابق جوابات دے کر سب کو بیوقوف بنایا، جو سیاستدانوں کی چالاکی کی عکاسی کرتا ہے۔ سماجی تنقید: کہانی طنزیہ انداز میں بتاتی ہے کہ سیاستدان بھی اسی طرح حالات کے مطابق اپنی بات بدلتے ہیں۔