🫘 مدینہ منورہ کی کھجوریں اپنے ذائقے، ساخت اور غذائی خصوصیات کے لحاظ سے مشہور ہیں ۔۔۔

مدینہ میں کئی اقسام کی کھجوریں پائی جاتی ہیں، جن میں سے کچھ مشہور اقسام درج ذیل ہیں: 1۔ عجوہ (Ajwa) : - یہ مدینہ کی سب سے مشہور کھجور ہے۔ - اس کا رنگ گہرا سیاہ ہوتا ہے اور یہ نرم اور میٹھی ہوتی ہے۔ - عجوہ کھجور کو نبی کریم ﷺ کی طرف سے خاص فضیلت دی گئی ہے۔ 2۔ عنبرہ (Anbara) : - یہ بڑی سائز کی کھجور ہے اور اس کا ذائقہ بہت لذیذ ہوتا ہے۔ - یہ عام طور پر مہنگی ہوتی ہے۔ 3۔ صفوی (Safawi): - اس کا رنگ گہرا سیاہ ہوتا ہے اور یہ نرم اور میٹھی ہوتی ہے۔ - یہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ 4۔ مبروم (Mabroom) : - یہ لمبی اور پتلی کھجور ہوتی ہے۔ - اس کا ذائقہ میٹھا اور لطیف ہوتا ہے۔ 5۔ سکری (Sukkari) : - یہ بہت میٹھی اور نرم کھجور ہے۔ - اس کا رنگ سنہری ہوتا ہے اور یہ عام طور پر تازہ کھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ 6۔ برنی (Barni) : - یہ چھوٹی اور گول کھجور ہوتی ہے۔ - اس کا ذائقہ میٹھا اور تھوڑا کریمی ہوتا ہے۔ 7۔ خضری (Khudri) : - یہ عام طور پر دستیاب اور معتدل قیمت کی کھجور ہے۔ - اس کا رنگ بھورا ہوتا ہے اور یہ قدرے سخت ہوتی ہے۔ 8۔ روثانہ (Rothana) : - یہ بڑی سائز کی کھجور ہے اور اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ 9۔ شقری (Shuqra) : - یہ کھجور بھی میٹھی اور نرم ہوتی ہے۔ 10۔ حلاوی (Halawi) : - اس کا ذائقہ بہت میٹھا ہوتا ہے اور یہ نرم ہوتی ہے۔ مدینہ منورہ کی کھجوریں نہ صرف ذائقے میں بہترین ہیں بلکہ ان کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔ یہ کھجوریں توانائی، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

محی السنہ حضرت شاہ ابرار الحق سے بعض حضرات نے شکایت کی کہ مسلمانوں کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہیں ، خانقاہوں اور مدارس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہو رہا ہے ، اللہ والے مسلسل اللہ کے حضور دعائیں کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی پریشانیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں ، حالات بد سے بدتر ہوتے ہی جا رہے ہیں تو اس وقت حضرت نے ایک مثال دے کر معاملہ یوں سمجھایا تھا کہ کسی شخص کا باپ اس سے ناراض ہو جائے اور اس کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر اپنی عنایات کا سلسلہ بند کر دے اور وہ لڑکا اپنے والد سے معافی تلافی کے بجائے دوسروں سے کہتا پھرے کہ میرے والد مجھ سے ناراض ہیں آپ ان سے سفارش کر دیجئے کہ وہ مجھ سے راضی ہو جائیں اور پہلی سی محبت کا معاملہ کرنے لگیں اور خود براہ راست والد سے رجوع نہ کرے، نہ ان سے اپنے جرم کا اعتراف و اقرار کرے تو والد کی نظر عنایت اس پر کیسے ہوگی۔ اس وقت پوری امت کا المیہ یہی ہے کہ خالق کائنات کے حضور میں گستاخیاں اور جرائم کا ارتکاب تو خود کرتے ہیں اور ان کی معافی تلافی کے لئے اہل اللہ اور مشائخ سے دعائیں کراتے پھرتے ہیں، خود اللہ کے حضور توبہ واستغفار کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ اللہ کی راہ اب بھی ہے کھلی، آثار و نشاں سب قائم ہیں اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا (کتاب : ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور(نومبر) صفحہ نمبر: ۶ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)