ایک علمی لطیفہ

ایک شیعہ عالمہ مجھ سے کہنے لگی ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے میں نے کہا کیسے؟ کہا: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ [۸۳] سورۃ الصافات ترجمہ: اور بے شک ابراہیمؑ اس کے شیعہ میں سے ہیں میں نے کہا آپ بھی مان جائیں گی، اس نے کہا کیسے؟ میں نے کہا: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [۱۰] وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ [۱۱] سورۃ الحجر ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے جتنے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا [۴] سورۃ القصص ترجمہ: بے شک فرعون نے سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا [۳۲] سورۃ الروم ترجمہ: ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود بھی شیعہ ہوگئے إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْ [۱۵۹] سورۃ الانعام ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے وہ شیعہ تھے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا [۶۹] سورۃ مريم ترجمہ: پھر ہر شیعہ سے ایسے ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو رحمن سے سرکشی کرتے رہے یہ سن کر وہ عالمہ ہنستے ہوئے کہنے لگی: میں تو مذاق کر رہی تھی 😅

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا ، بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں ، ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک مقدار معین کر لینا چاہیے کہ اس سے آگے ان کو نہ پڑھایا جائے ، اور وہ مقدار ایسی ہو جو دین کے ضروری مسائل جاننے کے لئے کافی ہو ۔ ( تعمیم التعلیم ، التبلیغ ۔ ص ۲۱۲ ۔ ص ۱۶۱ ۔ ج۲۱ )