سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے ایک ایسے بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا ۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا : سردی نہیں لگتی ہے تمھیں ؟ دربان نے جواب دیا : بہت لگتی ہے حضور مگر کیا کروں ، گرم وردی نہیں ہے میرے پاس ، اِس لیے برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ بادشاہ: میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمھارے لیے ۔ دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور بہت تشکر کا اظہار کیا. لیکن بادشاہ جیسے ہی اپنے گرم محل میں داخل ہوا ، دربان سے کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔ صبح دروازے پر اس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی ہوئی یہ تحریر بھی : بادشاہ سلامت ! میں کئی برسوں سے سردیوں میں اسی نازک وردی میں دربانی کرتا آرہا تھا مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔ سبق : سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اور امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر جینا شروع کیجیے ۔ سہاروں کی بیساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں۔ ______________📝📝📝______________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

ایک حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے... فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے پچھلی اُمتوں کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا... کہ ایک شخص تھا جس نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا... بڑے بڑے گناہ کئے تھے... بڑی خراب زندگی گزاری تھی... اور جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کرتے ہوئے کہا... کہ میں نے اپنی زندگی کو گناہوں اور غفلتوں میں گزار دی ہے... کوئی نیک کام تو کیا نہیں ہے... اس لئے جب میں مرجاؤں تو میری نعش کو جلا دینا اور جو راکھ بن جائے تو اس کو بلکل باریک پیس لینا... پھر اس راکھ کو مختلف جگہوں پر تیز ہوا میں اُڑادینا تاکہ وہ ذرّات دور دور تک چلے جائیں... یہ وصیت میں اس لئے کر رہا ہوں... کہ اللہ کی قسم میں اللہ تعالٰی کے ہاتھ آگیا تو مجھے اللہ تعالٰی ایسا عذاب دے گا... کہ ایسا عذاب دنیا میں کسی اور شخص کو نہیں دیا ہوگا... اس لئے کہ میں نے گناہ ہی ایسے کئے ہیں کہ اس عذاب کا مستحق ہوں... جب اس شخص کا انتقال ہوگیا تو اس کے گھر والوں نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کی نعش کو جلایا... پھر اس کو پیسا اور پھر ہواؤں میں اُڑادیا... جس کے نتیجے میں اس کے ذرات دور دور تک بکھر گئے... یہ تو اس کی حماقت کی بات تھی کہ شاید اللہ تعالٰی میرے ذرّات کو جمع کرنے پر قادر نہیں ہوں گے... چنانچہ اللہ تعالٰی نے ہوا کو حکم دیا کہ اس کے ذرات جمع کرو... جب ذرات جمع ہوگئے تو اللہ تعالٰی نے حکم دیا... کہ اس کو دوبارہ مکمل انسان جیسا تھا ویسا بنادیا جائے... چنانچہ وہ دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالٰی کے سامنے پیش کیا گیا... اللہ تعالٰی نے اس سے سوال کیا کہ تم نے اپنے گھر والوں کو یہ سب عمل کرنے کی وصیت کیوں کی تھی؟ جواب میں اس نے کہا "خـــشیـتک یارب" اے اللہ آپ کے ڈر کی وجہ سے... اس لئے کہ میں نے گناہ بہت کئے تھے اور ان گناہوں کے نتیجے میں مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں آپ کے عذاب کا مستحق ہوگیا ہوں... اور آپ کا عذاب بڑا سخت ہے تو میں نے اس عذاب کے ڈر سے یہ وصیت کردی تھی... اللہ تعالٰی فرمائیں گے کہ میرے ڈر کی وجہ سے تم نے یہ عمل کیا تھا... تو جاؤ میں نے تمہیں معاف کردیا... یہ واقعہ خود حضور اقدسﷺ نے بیان فرمایا جو صحیح مسلم میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے ـ (صحیح مسلم کتاب التوبة و تنبیہ الغافلین) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں؟ ( صفحہ نمبر : ۳۳۶، ۳۲۷ ) مولف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ