اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

‏ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑھی والے سے پوچھا : " انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟" بوڑھے نے ادب سے جواب دیا: "بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔" عورت بولی: "میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔" بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا: "بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔" عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی، لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے یہ ایک خاموش ناانصافی تھی۔ ہم کیوں اکثر کمزور اور محتاج لوگوں کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ؟ اور کیوں سخاوت وہاں دکھاتے ہیں جہاں اس کی اصل ضرورت نہیں ہوتی ؟ میں نے کہیں ایک باپ کی کہانی پڑھی تھی جو ہمیشہ غریب ٹھیلے والوں سے چیزیں لیتے وقت قیمت سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ اس کے بچوں نے اس سے پوچھا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا: "یہ خیرات ہے، مگر عزت کے پردے میں لپٹی ہوئی۔" انگریزی ادب سے ماخوذ 🛑❤️

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

آئندہ لوگ تراویح میں کیا پڑھیں گے؟

آئندہ لوگ تراویح میں کیا پڑھیں گے؟

معتصم باللہ کے بعد اس کا بیٹا واثق باللہ ۲۲۷ ھ میں تاج و تخت کا وارث بنا۔ یہ گمراہ کن نظریات و افکار کا مالک تھا اور معتزلی عقائد اور خصوصاً خلق قرآن کے عقیدہ کی اشاعت و پرچار میں اپنے باپ سے بھی بڑھ گیا۔ اس کے دور میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا، دربار کا خاص مسخرا ایک دن خلیفہ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ تعالی امیر المؤمنین کو قرآن کے بارے میں صبر جمیل عطا فرمائیں! میں تعزیت کے لیے آیا ہوں۔ واثق بولا : تیرا ناس ہو! نالائق کیا کہہ رہا ہے، کیا قرآن کی وفات ہو گئی ؟ مسخرے نے کہا: امیر المؤمنین! آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے، ہر مخلوق پر موت آنے ہی والی ہے اور قرآن بھی تو آپ کے خیال میں مخلوق ہے۔ آج نہیں تو کل ( نعوذ باللہ ) یہ حادثہ ہو کر رہے گا۔ مسخرے کے اس جواب پر واثق سوچ میں پڑ گیا تو مسخرے نے دوسرا سوال کر دیا اور بڑی سنجیدگی سے کہنے لگا: امیر المؤمنین! آئندہ لوگ نماز تراویح میں کیا پڑھا کریں گے؟ اس طنزیہ سوال نے واثق باللہ کو مسئلہ خلق قرآن کے بارے میں گہری سوچ پر مجبور کر دیا۔ تب اس نے اس مسئلہ میں تشدد چھوڑ دیا۔ ____📝📝📝____ کتاب : ہر واقعہ بے مثال جلد ۱ ۔ صفحہ نمبر : ۲۰۳ ۔ مصنف : ابو طلحہ محمد اظہار الحسن محمود۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔