والدِ محترم کی خانگی زندگی...
. بہ قلم: مولانامحمد سعید پالن پوری استاذ جامعۃ الامام محمد انور شاہ کشمیری دیوبند والدمحترم حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبندکی وفات کے بعدسے تا دم تحریر مضامین لکھنے کا سلسلہ جاری ہے،ان مضامین میں ارباب قلم والدمحترمؒ کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈال رہے ہیں ،ان گوشوں میں سے ایک گوشہ والد محترمؒکی خانگی اور گھریلو زندگی بھی تھا ،خانگی زندگی کے احوال پر روشنی ڈالنے کے لیے ہم بھائیوں کو حکم ہوا، اس لیے کہ عربی مقولہ ہے: ’’صاحِبُ البیتِ أدْرَیٰ بما فیہ‘‘ (گھر کے لوگ ہی گھر کی چیزوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ) اسی حکم کی تعمیل میں یہ چند اوراق لکھے جارہے۔ مساوات وبرابری حضرت والد صاحبؒ کا خانوادہ کافی بڑا ہے، خود ہم بھائی بہن درجن سے زائدتھے، پھر ہماری اولادسب مل کر چار درجن کے قریب ہیں ، اتنا بڑاگھرانہ ہونے کے باوجود والد صاحب سب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے، سب کے ساتھ برابری اور مساوات کا معاملہ فرمایا کرتے تھے، پوتوں پوتیوں میں جب کھانے کی کوئی چیز تقسیم کرنی ہوتی توکسی ایک بچے کو بھیج کرپہلے سب کو اپنے کمرے میں بلا لیتے، پھر ان سب میں چیز کو برابر سرابر تقسیم فرماتے تھے، یہ نہیں ہوتاتھا کہ جن بچوں کی طرف طبعی میلان زیادہ تھا ان کو زیادہ دیتے ہوں یا الگ سے بلا کر صرف انھیں کو دیتے ہوں ، نہیں !یہ آپ کے مزاج کے خلاف تھا۔ـــــــــ مساوات کا یہ عمل دیگر موقعوں پر بھی دیکھنے کو ملتا تھا، گھر کے اضافی خرچوں کی تکمیل کے سلسلہ میں ایک معتد بہ رقم ہر سا ل والد صاحبؒ جب کتب خانہ کا حساب کرتے تھے اپنی اولاد کو عنایت فرماتے تھے، یہاں بھی عنایت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ صرف دیوبند میں مقیم و فروکش بچوں کو یہ رقم ملتی ہو، یا صرف نرینہ اولاد کو ملتی ہو، نہیں !سب بھائی بہنوں کو ملتی تھی، بہنوں کے باب میں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ان کو صرف میراث میں بھائیوں سے آدھا حصہ؛ ان کے حصہ شرعی کے مطابق ملا، باقی دیگر تمام جگہوں پر والد صاحبؒ نے شادی شدہ اور غیرشادی شدہ لڑکے اور لڑکی کے حصوں میں فرق نہیں کیا، سب کو برابر عنایت فرماتے تھے۔ مساوات ہی نہیں عدل بھی یہ جو مساوات و برابری والا عمل تھا اس پر والد صاحبؒ آنکھ بند کرکے عمل پیرا نہیں ہوتے تھے کہ ہر جگہ مساوات ہی فرماتے ہوں ، بعض مواقع ایسے بھی تھے جہاں وہ مساوات کو چھوڑ دیا کرتے تھے، اور مساوات کا یہ چھوڑنا کسی بچے پر ظلم کے لیے نہیں ؛بلکہ عدل و انصاف کے حصول کے لیے ہوتا تھا، ان مواقع میں سے ایک موقع یہ تھا کہ سالانہ عنایتوں پر ملنے وا لی مذکورہ بالا رقم والد صاحبؒ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں برابر تقسیم نہیں فرماتے تھے، ظاہر ہے کہ متاہلانہ زندگی گزارنے والوں کے اخراجات کنواروں اور ناکتخدائوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں ۔ حضرت والد صاحبؒ اس فرق کو ملحوظ رکھا کرتے تھے، اسی وجہ سے متاہل کے مقابلے میں غیر متاہل کو ملنے والی یہ رقم کچھ کم ہوتی تھی۔ مشترکہ خاندان یا علاحدہ یہ مسئلہ لوگوں کے درمیان موضوع بحث رہتا ہے کہ شادی کے بعد والدین کا اپنی اولاد کو اپنے ساتھ رکھنے والا نظام زیادہ مفید ہے یا بچوں کو الگ کر دینے والا نظام، بالفاظ دیگر مشترکہ گھر کا نظام زیادہ مفید و کار آمد ہے یا الگ الگ گھر کا نظام، دونوں نظاموں کے فوائد بیان کرنے والے مل جاتے اور دونوں اپنے اپنے حق میں غور و فکر کو دعوت دیتے؛ دلائل و براہین اور شواہد و نظائر بھی رکھتے ہیں ، والدصاحبؒ نے ہم درجن بھر بھائیوں کے لیے ایک بیچ کی راہ نکالی جس کے دینی و دنیوی فوائد ہم سبھی نے محسوس کیے، وہ یہ کہ الگ بھی کردیا اور الگ نہیں بھی کیا۔ عموم خصوص من وجہٍ کی نسبت ہوگئی، الگ کردیا اس معنی میں کہ والد صاحبؒ نے شادی کے بعد سب بچوں کو اپنے پلو سے باندھے نہیں رکھا، ہوتا یہ تھا کہ جب چھوٹے بھائی کی شادی کی تاریخ متعین ہوتی تو تاریخ کا یہ متعین ہونا بڑے بھائی کے الگ کیے جانے کا الارم ہوتا، والدین اپنے ساتھ صرف چھوٹی بہو کو رکھتے تھے، اور جب تک اگلے لڑکے کی شادی نہ ہو اُس بہو کی تربیت فرماتے تھے، ڈیڑھ دو سال کے بعد جب اگلے لڑکے کی شادی ہوتی تو بڑے بھائی کو الگ بلا کر گفتگو کرتے اور اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی تلقین فرماتے، کچھ مہینے کے راشن کے پیسے دیتے، چولہا، ضروری برتن، کپڑوں بستروں کے لیے الماری اور ایک فِرِج بھی دیتے، اور سب سے بڑھ کر حوصلہ دیتے کہ دیکھو ہم تمہیں صرف الگ کر رہے ہیں ، ہم مرنہیں رہے ہیں ، الگ اس وجہ سے کر رہے کہ تم اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکو، آج نہیں تو کل ہمارے مرنے کے بعد تمہیں الگ ہونا ہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اپنا گھر چلایا کیسے جاتا ہے؟ اسے تم ہماری حیات ہی میں سیکھ لو، گھر کے چلنے میں کوئی مسئلہ یا پریشانی پیش آئے تو تم ہمارے پاس کبھی بھی آ سکتے ہو۔ان کے اس حوصلہ دینے اور آگے کے گھریلو امور میں مسلسل نگرانی فرماتے رہنے کے باعث ہم سبھی بھائی بحمد اللہ والد صاحبؒ کی حیات ہی میں بر سر روزگار ہو کر اپنا اپنا گھر چلا رہے تھے، سب بھائیوں کی شادی ہوجانے کے بعد والد صاحب کے حکم و خواہش کے بموجب رسمی طور سے ان کے کھانے پینے کے جملہ امور برادرم احمد سعیدسلّمہ کے گھر سے انجام دیے جاتے تھے اور غیر رسمی طور سے سبھی گھروں سے۔ یہ تو ہوا الگ الگ کرنا، اور الگ الگ نہ کرنا بایں معنی کہ والد صاحبؒ نے ہم بھائیوں کو جو الگ الگ مکان دیے، وہ الگ الگ محلوں یا پلاٹوں میں نہیں تھے؛ بلکہ ایک بڑے پلاٹ میں انگلش حرف تہجی یو(U) کی شکل میں بھائیوں کی تعداد کے بقدر درجن بھر درمیانے انداز کے (نہ بہت بڑے نہ بالکل چھوٹے) مکانات بنوائے جن کی ہر چیز بشمول بجلی کا میٹر اور پانی کی پائپ لائن الگ الگ تھی، والد صاحبؒ نے اپنی رہائش بھی انھیں مکانوں میں سے ایک مکان میں رکھ لی۔ یوں ہم سب بھائی داخلی طور سے الگ الگ اور خارجی طور سے والد صاحبؒ کے ساتھ تھے، والد صاحبؒ کو بھائیوں میں سے اگر کسی کو بلانا ہوتا تو وہ کسی بھی بچے کو بھیج کر جب چاہتے بلا لیتے، ان کی طبیعت کبھی ہلکی سی بھی خراب ہوتی تو آن کے آن میں سارے بھائی ان کے کمرے میں جمع ہوجاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ برتن جب دو ہوتے ہیں تو وہ بجتے ہیں ؛ جب کہ یہاں درجنوں کی تعداد میں برتن تھے؛ مگر والد صاحبؒ اپنے اس انوکھے نظام کے ذریعہ برتنوں کے بجنے کے اس احتمال کو زمین سے لگا گئے، دست بدعا ہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالی اس کو زمین سے لگائے رکھیں ، اللّٰہم لا تفتنا بعدہ ولاتحرمنا اجرہ۔ الگ الگ کرنے کا دینی فائدہ بھائیوں کو الگ الگ گھر دینے کے دینی اور دنیوی ہر دو فوائد ہم سبھی نے محسوس کیے، دنیوی فوائد تو طوالت کے پیش نظر قلم زد کیے جاتے ہیں ؛ البتہ دینی فائدوں میں سے ایک بڑے فائدہ کا تذکرہ فائدے سے خالی نہیں ، وہ یہ کہ بھابھیوں کو جو حفظ کی سعادت حاصل ہوئی اس سعادت کے حصول میں اس الگ الگ گھر کے نظام کا بھی بڑا کردار رہا، آج بحمد اللہ وہ خود حافظہ بن کر نہ صرف اپنی اولاد کو حافظ بنا چکی اور بنا رہی ہیں بلکہ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو بھی صحیح ادائیگی کے ساتھ ناظرہ خواں اور حافظ بنا کر والدین کے نامۂ عمل میں نیکیوں کے اضافہ کا موجب بن رہی ہیں ،اس خامہ پرداز کی اہلیہ کو بھی شادی اور بچہ ہوجانے کے بعد اسی نظام کی برکت سے حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل ہوئی، اس کے بعد راقم کو پتہ بھی نہ چلا اور فقیر زادی کو بھی انھوں نے از خود حافظہ بنا دیا، جب راقم کی اہلیہ کا حفظ مکمل ہوا تو اس خوشی و سعادت کا اطلاعی مراسلہ خاص دوستوں کے ایک گروپ میں ارسال کیاتھا، دوستوں نے جہاں مبارک بادی اور دعاوں سے نوازا، وہیں یہ سوال بھی کیا کہ آخر شادی اور بچے ہوجانے کے بعد خاتونِ خانہ کے لیے حفظ کر لینا کیسے ممکن ہوتا ہے؟ اس پر روشنی ڈالی جائے، جواب میں جو پوسٹ لکھ کر گروپ میں ارسال کی گئی تھی اسے افادئہ عام کے لیے یہاں نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ والد صاحبؒ کے جاری کردہ اس نظام کے دینی فائدے، کوئی سمیٹنا چاہے تو وہ سمیٹ سکے، بالخصوص مدارس اسلامیہ کے وہ اساتذہ جو مدرسہ کی جانب سے فراہم کردہ فیملی کواٹرز میں رہتے ہیں ، ان کے لیے یہ نظام بالخصوص مفید و کاآمد ہوسکتا ہے کہ ان فیملی کواٹرز اور ہم بھائیوں کے مکانات ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں ’’سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ بندے کا اپنا چولہا ہو، گھر والوں سے ایک دم الگ ۔اپنا چولہا اپنی جلن۔ اپنا حقہ اپنی گڑ گڑ۔ دوسرے نمبر پر ضروری ہے:صحیح ٹائمنگ، اور اس باب میں مدرسے کی ٹائمنگ سے بڑھ کر کوئی ٹائمنگ نہیں ، بڑی بابرکت ٹائمنگ ہے یہ، پرکھا تو جائے؛ چنانچہ ہم دارالعلوم کے گھنٹوں کو فولو کرتے ہیں ، پہلے گھنٹے کی آواز آتے ہی پڑھائی شروع۔ آخری گھنٹہ لگتے ہی چھٹی۔ آئیے پڑھائی شروع کرتے ہیں ۔ کہاں سے شروع کی جائے؟۔۔۔۔۔ چلئے مغرب سے شروع کرتے ہیں ۔ مغرب بعد نیا سبق یاد کیا جاتا ہے عشا تک، اذان پر چھٹی، عشا کی اذان پر صرف پڑھائی سے چھٹی ہوتی ہے،امور خانہ سے نہیں ۔ اذان کے بعد رات کے کھانے کی تیاری کرنی ہے، رات میں سالن نیا نہیں بنے گا، روٹی بھی ابھی نہیں بنے گی، وہ تو عصر میں بن جانی ہے، ہاں عشا کی اذان کے بعد سادہ سفید چاول ضرور بنائے جاسکتے ہیں جن کو بھیگنے کے لیے پہلے ہی رکھ دیا جاتا ہے، اذان کے آدھے گھنٹے بعد نماز ہونی ہے، نماز کے بعد کھانا کھایا جائے گا — واضح رہے اگر آپ کا معمول مغرب بعد کھانا کھانے کا ہے تو اسے ضرور بالضرور تبدیل کرنا ہوگا۔ مغرب بعد کا وقت بڑا برکتی اور قیمتی ہے، اسے کھانے کی نذر نہیں کیا جاسکتا— رات کا کھانا کھا چکنے کے بعد پندرہ بیس منٹ ادھر ادھر گھوم کر کھانا ہضم کر لیں ۔ اس کے بعد جلدی سو جانا ہے؛ تاکہ فجر میں اٹھنا آسان رہے، فجر میں اٹھ کر سبق تازہ کریں ۔ بعد نماز فجر سبق سنایا جائے گا۔ سنانے کے بعد ناشتہ کی تیاری میں لگنا ہے، واضح رہے کہ ناشتہ کے لیے روٹیاں تازہ نہیں بنیں گی، باسی ہوں گی رات والی؛ بلکہ عصر والی، ناشتہ اسی باسی روٹی سے ہوگا، ہاں اگر سبق سنانے کے بعد آپ کو کافی وقت مل رہا ہو تو ضرور تازہ روٹیاں بنائی جاسکتی ہیں ، ناشتہ سے فارغ ہو کر اگر بچے ہوں تو ان کو اسکول اور مدرسے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ بچوں کو بھیج کر خود پڑھنے میں لگا جائے گا۔ پہلے گھنٹے سے چوتھے گھنٹے تک آموختہ یاد کیجیے۔ صبح میں آموختہ ہو کہ صبح میں وقت زیادہ ملتا ہے، شام میں سبقاً پارہ۔ جب آموختہ یاد ہوجائے یا یاد سا ہوجائے تو اس کو دہراتے وقت دوپہر کے سالن کے لیے پیاز لہسن سبزی وغیرہ ساتھ ساتھ کاٹ لیجیے۔کپڑے بھی واشنگ مشین میں گھمائے جاسکتے ہیں ۔ چوتھے گھنٹے کے آس پاس آموختہ سنایا جائے گا۔ سنانے کے بعد کھانے کی تیاری۔ واضح رہے دوپہر میں سالن اتنا بنانا ہے کہ وہ رات کو بھی چلے؛ بلکہ تھوڑا سا صبح ناشتے میں بھی، بارہ بجے تک ہر حال میں کھانا کھا لینا ہے۔ پھر قیلولہ نماز ظہر تک، نماز ظہر کے پندرہ منٹ بعد دارالعلوم کا گھنٹہ لگتا ہے، گھنٹہ لگتے ہی پڑھائی شروع، سبقاً پارہ یاد کیجیے؛ چونکہ سبقاً پارہ ہے؛ اس لیے نسبتاً جلدی یاد ہوگا، ایسے میں بچوں کے ’’ہوم ورک‘‘ میں تعاون بھی کرسکتے ہیں ۔ عصر کی اذان کے آس پاس سبقا پارہ سنایا جائے گا، عصر کی نماز کے بعد رات کے کھانے کی روٹیاں بنانی ہیں ، اور اتنی مقدار میں بنانی ہیں کہ وہ ناشتے میں بھی چلیں ، روٹیوں کا بوجھ اگر زیادہ ہو رہا ہو تو سادہ چاول بھی روٹیوں کے ساتھ لگا لیں ، کبھی طبیعت اگر ناساز ہو یا مہمانوں کے ساتھ گفتگو میں عصر بعد کا وقت چلا گیا ہو یا روٹیاں بنانے کا دل نہ کررہا ہو تو روٹیاں اب بازار سے آئیں گی، اسی طرح مشکل سبق والے دن بھی روٹیاں یا پورا کھانا بازار سے آ سکتا ہے، عصر کے بعد مغرب آگئی، مغرب ہی سے ہم نے آغاز کیا تھا، دن مکمل،معمول اور ـــــــــ روٹین سے ہٹ کر جو کام ہیں جیسے سینا پرونا، گھر دھونا، کہیں آنا جانا، کسی کی دعوت کرنا، اس طرح کے امور یا تو عصر کے بعد انجام دیے جائیں گے، یا پھر جمعرات کے دن ظہر بعد سے جمعہ تک میں ، یا پھر عورتوں کے اپنے مخصوص دنوں میں انجام دیے جائیں گے۔ تقسیم میراث والد محترم اپنے مزاج کے مطابق اپنی زندگی ہی میں بچوں کو خود کفیل بنا کر اپنی ذمہ داریوں کو کم کرتے چلے جا رہے تھے، اسی تناظر میں انھوں نے اپنی میراث اپنی حیات ہی میں تقسیم فرما دی، راقم سطور کی نظر میں تقسیم میراث کا یہ عمل بھی اسی درجہ اہم ہے جیسا اپنی اولاد کو الگ الگ گھر بنا کر دینا۔ ـــــــــ رشتہ داروں کی وفات پر والد صاحبؒ کا معمول ہم نے یہ دیکھا کہ وفات کے تین چار دن بعد وہ مرحوم کی میراث تقسیم فرما دیتے تھے،تازہ ترین میراث انھوں نے تین چار مہینے پہلے ہی ہمارے مرحوم بھائی:حافظ سعید احمد رحمہ اللہ کی تقسیم فرمائی تھی،قارئین کرام جانتے ہوں گے کہ گھر کے بڑے کے گزر جانے کے بعد اللّٰہم لا تفتنا بعدہ پڑھ پڑھ کرجس فتنہ سے بچنے کی اور پس ماندگان کے درمیان اتحاد،یگانت اور بھائی چارگی کی دعا مانگی جاتی ہے، تقسیم میراث کا یہ عمل؛اگر اس میں ذرا سی بھی اونچ نیچ رہ جائے تو اس اتحاد و یگانگت کو سبوتاژ کرنے کے لیے اکیلا ہی کافی ہوتا ہے،میراث میں مال و منال ہی نہیں ؛بعض دفعہ دل بھی تقسیم ہوجاتے ہیں ،اللہ سبحانہ و تعالی والد صاحب کے درجات بلند فرمائیں کہ وہ دلوں کو تقسیم کرنے والے اس مشکل مرحلہ کو اپنی حیات ہی میں بحسن و خوبی انجام دے گئے۔ اپنی وفات سے ڈیڑھ دو سال پہلے اپنے سارے بچوں کو عید الاضحی کی تعطیلات میں دیوبند بلایا،پھر ایک رات سب کو اپنے کمرے میں جمع کیا اور ذاتی خرچہ کی تکمیل کے مد میں کچھ مال روک کر باقی کل اثاثہ بچوں اور بچیوں کے درمیان ان کے شرعی حصے کے مطابق تقسیم فرما دیا،جہاں تقسیم سیدھے سیدھے ہوسکتی تھی وہاں تقسیم سیدھے سیدھے کی،جہاں وجہ ترجیح نہ تھی وہاں حصے قرعہ اندازی کی وساطت سے تقسیم فرمائے،یوں یہ مشکل مرحلہ حسن و خوبی کے ساتھ انجام پا گیا اور اس تقسیم پر کسی طرف سے آواز نہیں اٹھی۔یہ اسی پیشگی تقسیم میراث کی برکت تھی کہ اپنی وفات سے پہلے کے آخری ہفتے میں والد صاحب نے دیوبند میں رہ جانے والے بچوں ،گھر اور کاروبار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی،ان کو آخری ہفتے میں صرف دو باتوں کی فکر تھی، ایک گٹھامن مدرسہ کا نیا مہتمم اور تعلیمی ذمہ دار کون ہو ،اسی مرض الوفات میں انھوں نے رات ڈھائی بجے مدرسہ کے ایک قدیم استاذ وصدر مدرس مولانا محمد یوسف صاحب مدظلہ کو فون کرکے نئے مہتمم کی تعیین فرمائی اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا۔ دوسری چیز تھی نماز، انتہائی نگہداشت کی یونٹ میں ہونے کی وجہ سے آخری ہفتہ میں ان کی چند نمازیں قضا ہوئیں ،جب بھی وہ بات کرنے کی حالت میں ہوتے تو نہ صرف تیمارداروں سے قضا شدہ نمازوں کی تعداد کے بارے میں استفسار فرماتے؛ بلکہ نہلانے اور ہسپتال کے ڈریس کے بجائے اپنے معمولی کپڑے پہنانے پر اصرار بھی کرتے تاکہ جو نمازیں قضا ہوئی ہیں ان کو ادا کرسکیں ۔ دیوبند میں پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں اگر انھوں نے کوئی پیغام بھجوایا تو وہ صرف یہ تھا کہ بھائی (عم مکرم حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب دامت برکاتہم)کو سلام کہنا! تعلیم و تربیت حضرت والد صاحبؒ کثیر العیال تھے،دار العلوم دیوبند میں ترمذی،بخاری اورحجۃ اللہ البالغہ جیسی اہم اور وقیع کتابوں کی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے کاموں کی بے پناہ مصروفیت کے باوصف آپ نے سب بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ذاتی دلچسپیوں کی بنیاد پر انجام دی، تعلیم و تربیت کی یہ ذمہ داری آپ نے جو اپنی عملی زندگی کے آغاز سے انجام دینی شروع کی تو اسے تا حین حیات تیسری نسل تک انجام دیتے رہے، عملی زندگی کے آغاز میں ہمارے چچائوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیا، اس تعلق سے تفصیل کی ضرورت نہیں کہ عم مکرم حضرت مولانا مفتی محمد امین پالن پوری صاحب دامت برکاتہم مرتب فتاوی واستاذ حدیث دار العلوم دیوبند تفصیل سے اس پر روشنی ڈال چکے، چچاوں کے بعد اولاد کا نمبر شروع ہوا تو ہمارے سب سے بڑے بھائی مفتی رشید احمد پالن پوری رحمہ اللہ کو حفظ کرانے کے ساتھ ساتھ ہماری والدہ ماجدہ رحمہا اللہ کو بھی حفظ کرادیا، والدہ محترمہؒ کو حفظ کرانا آپ کا ایک نہایت مفید و مستحسن فیصلہ رہا، والدہ محترمہؒ کی شکل میں ایسا معاون ملا کہ باقی دیگر اولاد کو حفظ کرانے میں والدصاحبؒ کی ریاضت کم ہوگئی، اس کے بعد والد صاحبؒ بچے کوبسم اللہ کراتے، باقی کا کام والدہ ماجدہؒ کا ہوتا جب ناظرہ قرآنِ پاک ختم ہوجاتا تو حفظ شروع کراتے، فجر کی نماز کے بعد ہی والد صاحب سبق سنتے پھر آموختہ اور سبق کے پارے والدہ صاحبہ یاد کراتیں اور سنتیں ۔ ـــــــــ کہتے ہیں کہ ایک ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ درجن بھر اولاد دماغی قوی کے تناظر میں برابر ہو، کمی بیشی ہونا فطری تھا اور وہ ہوا بھی، ہم میں سے بعض ایسے تھے کہ اپنے مخصوص دماغی قوی کے ساتھ والد صاحبؒ کے پاس حفظ نہ کر پاتے، حفظ کے باب میں جس صبر و تحمل اور ضبط و برداشت کی ضرورت ہوتی ہے وہ صبر و برداشت عورتوں میں مردوں کی بہ نسبت زیادہ ودیعت کی گئی ہے، پھر وہ عورت اگر ان بچوں کی ماں بھی ہو تو اس کے ضبط و برداشت کامستوی اور بڑھ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قوائے دماغی میں فرق ہونے کے باوصف والدہ ماجدہؒ سب کو حفظ کرا لے گئیں ، جب ہمارا قرآن بالکل تیار ہوجاتا تو دور کے لیے والد صاحبؒ کے پاس بھیجا جاتا، والد صاحبؒ بڑی توجہ سے دور سنتے، اگر بچہ ان کے طے کردہ معیار کے مطابق دور سنا دیتا تو اب وہ اس کو اردو پھر فارسی پڑھانا شروع کرتے، تختی پر لکھنا سکھاتے، یہاں سے والد صاحبؒ کا کام شروع ہوجاتا، اردو، فارسی اور عربی کی کتابیں نصاب کے مطابق وہ بذات خود پڑھاتے، اگر کوئی آسان کتاب ان کے معیار پر نہ اترتیں تو کتاب تصنیف فرماتے، آسان صرف، آسان نحو اور آسان فارسی قواعد اس سلسلہ کی کڑیاں ہیں ، ذاتی تدریس کے پہلو بہ پہلو معاونین کا تعاون بھی لیتے، حضرت الاستاذ مولانا مفتی خورشید انور گیاوی صاحب دامت برکاتہم ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا قاری شفیق الرحمن صاحب دامت برکاتہم استاذ دار العلوم دیوبند اور حضرت مولانا ڈاکٹر اشتیاق احمد قاسمی استاذ دار العلوم دیوبند مدظلہ تعاون و معاونت کی اسی سلسلۃ الذہب کی آب دار و بارونق کڑیاں ہیں ، درجہ دوم عربی یا کبھی درجہ سوم عربی تک تعلیم دی جاتی، اس کے بعد دار العلوم کے داخلہ امتحان میں شرکت کرائی جاتی، داخلہ ہوجانے کے بعد بچہ کے تعلیمی امور کی نگرانی فرماتے رہتے، درس گاہ کی حاضری اور ششماہی و سالانہ امتحانوں میں ملنے والے نمبر و فیصد پر نظر رکھتے، مدارس میں رائج نصاب کے دوش بدوش ہندی، انگلش اور حساب کے ضروری مضامین اور بنیادی کتب بھی پڑھاتے، پھر فارغ ہونے کے بعد بچہ کو بر سر روزگار بھی خود فرماتے، جو مدرسے کی لائن کے ہوتے ان کو مدرسے میں لگاتے، جب کہ دیگر کو کاروبار اور تجارت میں جماتے؛ چونکہ والد صاحبؒ مدرس بھی تھے اور تاجر بھی، دونوں میدانوں کے وہ گرم و سرد چشیدہ تھے؛ اس لیے اپنے بچوں میں ہر دو طبقہ کو ہر دو اعتبار سے ان کی عملی زندگی کے لائحہ عمل اور طریقِ کار بتاتے اور اپنی زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کی روشنی میں افادہ و فیض رسانی فرماتے رہتے تھے۔ عظمت و عبقریت آج جب کہ ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے ہیں ، اور دو دو چار چار بچوں کی تعلیمی ذمہ داریاں سر پر آن پڑی ہیں تو حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی تعلیم و تربیت کے باب میں ان کی سر فروشانہ کوششوں اور جاں سوز جد و جہد کا اندازہ ہوتا ہے، کوئی اگر اپنی زندگی میں کچھ نہ کرے، درجن بھر اولاد کی صرف تعلیم و تربیت کا فریضہ خوش گوار طور پر انجام دے اور ان کو بر سر روزگار کرکے اس حد تک خود کفیل بنا جائے کہ والد و مربی کے گزر جانے کے بعد وہ اولاد کسی کی دست نگر و محتاج نہ رہے تو صرف یہ ایک بات ہی اس کے کمال و امتیاز کے لیے کافی ہے۔ کوئی اگر اپنی زندگی میں کچھ نہ کرے، صرف تدریس کی وادی کا طویل، پُر پیچ، خم دار اور انتہائی دشوار راستہ اس انداز سے عبور کرجائے کہ وہ اکابر کے لیے بھی رشک بن جائے تو صرف یہ ایک بات ہی اس کی انفرادیت و یکتائی کے لیے کافی ہے۔کوئی اگر اپنی زندگی میں کچھ نہ کرے صرف تصنیف و تالیف کے میدان میں کارہائے نمایاں اور علمی و تحقیقی مآثر و خدمات کے دوش بدوش اتنا کام کر جائے کہ کثرتِ نگارش کے تعلق سے وہ اپنی جماعت کے گنے چنے خوش نصیبوں میں شمار ہونے لگے، کثرت تصنیف کے تناظر میں اگر کوئی اسے اپنے دور کا’’حیوانِ کاتب‘‘کہے تو اِس کہنے والے پر مبالغہ آرائی و رنگ آمیزی کی تہمت ہرگز نہ لگے تو صرف یہ ایک بات ہی اس کے ممتاز و نمایاں ہونے کے لیے کافی ہے؛ لیکن اگر کسی شخص میں مذکورہ بالا سبھی اوصاف جمع ہوجائیں تو اس کی عظمت و عبقریت کا صرف اندازہ کیا جاسکتا ہے، اسے لفظوں کی گرفت میں نہیں لایا جاسکتا، اس کو کسی لفظی تعبیر کے ذریعہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ سچ ہے کہ قسام ازل نے والد محترمؒ میں عظمت و عبقریت اور کمال و امتیاز کے مذکورہ عناصر کے پہلو بہ پہلو اس طرح کے دیگر اور بہت سے عناصر جمع فرما دیے تھے، ذلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء ۔ تربیت والد محترمؒ کی شخصیت کے تناظر میں یہ باب مختلف الجہات اور کثیر شاخوں والا ہے جسے ایک مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں ، اولاد کی تربیت کے باب میں آپ کتنے فکر مند واقع ہوئے تھے اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ دورئہ حدیث شریف میں سنن ترمذی اور صحیح بخاری کی عبارت خوانی(جسے عام طور سے روا روی کی ایک چیز گردانا جاتا ہے)کے لیے بھی والد صاحبؒ طلبہ کی تربیت فرماتے تھے، ہر کہ و مہ کو ان کے گھنٹے میں عبارت خوانی کا شرف حاصل نہ ہوتا تھا، پہلے عبارت خوانی کا طریقہ صحتِ اعراب اور رفتار سے لے کر انداز تک بتایا جاتا، اس کی روشنی میں خواہش مند طلبہ اپنا نام لکھواتے، پھر ان طلبہ کا اپنی بیٹھک میں ٹیسٹ لیتے، جو نہ چلنے والے ہوتے ان کا نام وہیں کٹ جاتا، جو چلنے والے ہوتے اور ان میں کچھ خامیاں دیکھتے تو اس کی نشاندہی کرکے اسے دور کرنے کی تلقین فرماتے، اس ٹیسٹ کو پاس کرنے والے طلبہ کے نام ایک کاغذ میں لکھے جاتے، پھر یہ فہرست ترجمان کو سونپی جاتی تھی، سونپے جانے کا مطلب یہ نہیں تھا اب ان طلبہ کا نام اس فہرست سے نکل نہیں سکتا، نہیں !پورے سال ان طلبہ کی نگرانی فرماتے، عبارت خوانی کے دوران نحوی، صرفی اور تجویدی غلطیوں کی صورت میں یا طے کردہ معیار سے اِدھر اُدھر نکل جانے کی صورت میں نام کبھی بھی اس فہرست سے نکال دیا جاتا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو شخص عبارت خوانی جیسی غیر اہم سمجھی جانے والی چیز میں تربیت کا اتنا اہتمام کرتا تھا وہ اپنی اولاد کی تربیت جیسے اہم کام میں کہاں تک فکر مند رہتا ہوگا!یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے ماتحتوں کی دینی و دنیوی ہر دو اعتبار سے تربیت میں تا بہ زیست کوشاں رہے اور اس تعلیم و تربیت کے باب میں انھوں نے اپنی سرفروشانہ کوششوں اور جاں سوز جہد و جہد میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا، اس حوالے سے ان کے بہت سے واقعات مل جائیں گے، ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر آنے والے تعزیتی مضامین میں بھی بہتوں نے لکھے ہیں ، ایک دو مجھ سے بھی سن لیجیے! مدرسی کے زمانے میں میرا امتحان عصر بعد کی کوئی مجلس تھی، یہ خامہ بردار بھی اس میں موجود تھا، مجلس میں سوال کرنے والا کوئی نہ تھا، قبرستان کا سا سناٹا، اس قسم کا سناٹا ہم جیسوں کے لیے بڑی آزمائش اور امتحان کی گھڑیاں لاتاکہ عام طور سے اس کے بعد والد صاحب کی طرف سے سوال آتا جو کہ خاصا مشکل ہوتاتھا۔ پوچھا: کون کونسی کتاب پڑھاتے ہو؟ کتابوں کے نام بتائے جن میں ایک نام شرح عقائد نسفی کا بھی تھا، پوچھا: شرح عقائد کتنی ہوئی؟ عرض کیا: اتنے صفحے!چند سیکنڈ خاموش رہے، اس کے بعد شرح عقائد کے ان صفحات میں سے جو پڑھائے جا چکے تھے کوئی عبارت زبانی پڑھی اور پوچھا کہ اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ اللہ اکبر کبیرا، یہ سطور لکھتے وقت اب بھی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، ان کا رعب اتنا ہوتا تھا کہ آج کے پڑھائے ہوئے سبق میں سے اگر وہ کسی عبارت کے بارے میں سوال کرتے تو زبان تالو سے جا چپکتی، چہ جائیکہ ہفتے اور مہینے پہلے پڑھائے ہوئے سبق
- Anas Memon Palanpuri



