پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

اسلاف کے ہاں شوقِ مطالعہ اور اہمیتِ وقت کا یہ عالم تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب کا مطالعہ جاری رہتا۔ ابن الآبنوسی کہتے ہیں کہ علامہ خطیب بغدادیؒ پیدل چل رہے ہوتے تو ہاتھ میں کتاب لیے اس کا مطالعہ کر رہے ہوتے۔ (سیر اعلام النبلاء، ١٨: ٢٨١) نحو کے ایک بے بدل عالم علامہ احمد بن یحیٰ جو ثعلب کے نام سے مشہور ہیں، ان کو تو یہ شوق بہت ہی مہنگا پڑا۔ یہ مطالعے کے رسیا تھے اور ثقلِ سماعت کا شکار تھے، اس لیے اونچا سنائی دیتا تھا۔ ایک مرتبہ جمعے کے دن عصر پڑھ کر جامع مسجد سے نکلے تو حسبِ معمول کتاب کھولی اور پیدل چلتے ہوئے پڑھنے میں مگن ہو گئے۔ راستے میں گھوڑے نے دولتی جھاڑ دی؛ پاس ہی ایک گہرا کھڈا تھا، یہ اس میں جا گرے۔ ان کو دماغ پہ چوٹ آئی؛ اسی حال میں گھر لے جایا گیا مگر اگلے روز یہ عاشق کتب انتقال کر گئے! (ابن خلکان، وفیات الاعیان، ١: ١٠٤) [انتخاب و ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہم نشینوں کے ساتھ

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے ہم نشینوں کے ساتھ

حضرت حسینؓ بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ابا جان سید نا علیؓ سے پوچھا کہ حضور ﷺ اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کیسے رہتے تھے؟ آپ نے فرمایا : آپﷺ خنده رو ، خوش اخلاق ، نرم خو تھے ، بداخلاقی سخت مزاجی ، شور و غل فحش گوئی ، عیب جوئی اور بخل و کنجوسی سے پاک تھے ، جو بات یا کام پسند نہ ہوتا تو اُس سے اعراض فرماتے ،کسی دوسرے کو پسند ہوتا تو اُسے منع کر کے مایوس نہ کرتے ، اور کوئی ناپسندیدہ بات کی دعوت دیتا تو اُسے قبول نہ فرماتے ؛ بل کہ خوش اسلوبی سے منع فرما دیتے ۔ تین باتوں سے خود کو محفوظ رکھتے تھے (۱) لڑائی، جھگڑا (۲) تکبر (۳) لا یعنی وبے کار بات اور تین باتوں سے لوگوں کو بچائے رکھتے تھے : (۱) کسی کی برائی نہ فرماتے ، (۲) کسی پر عیب نہیں لگاتے تھے، (۳) کسی کا عیب بھی تلاش نہ کرتے تھے ۔ وہی بات فرماتے جس میں ثواب کی امید ہوتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلم فرماتے تو صحابہ سر جھکائے سراپا گوش ہوتے ، ایسا لگتا جیسے اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ( کہ ذراسی جنبش سے اُڑ جائیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے تب صحابہ کرام بولتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ کرام کسی بات پر لڑتے جھگڑتے نہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہا ہوتا تو سب اس کے فارغ ہونے کا خاموشی سے انتظار کرتے ہر ایک کی بات بہ غور سماعت فرماتے ، صحابہ کسی بات پر ہنستے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے ، وہ کسی بات پر حیرت ظاہر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی متعجب ہوتے ، کوئی اجنبی مسافر سخت لب ولہجہ میں بات کرتا اور کچھ مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحمل سے کام لیتے ، ( اور اس کی باتوں کا صبر کے ساتھ جواب دیتے ) حتی کہ صحابہ کرام ایسے کسی بدو کو پکڑ لے آتے ، تاکہ اُس کے سوالات سے صحابہ کو علمی فائدہ ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : کہ کسی ضرورت مند سائل کو دیکھو کہ وہ کچھ مانگ رہا ہے تو اس کی ضرورت پوری کروں کسی کے ساتھ حسن سلوک پر بے جا تعریف سننا پسند نہ فرماتے تھے ، ہاں کلمات تشکر ادا کرنے کی حد تک گنجائش ہوتی۔ کسی کی بات نہ کاٹتے تھے ، ہاں اگر حد سے تجاوز کرتا تو منع فرما دیتے یا وہاں سے چلے جاتے ۔ (شمائل الترمذی: ۳۳۶) (کتاب : ماہنامہ اشرف الجرائد حیدرآباد ستمبر۔ ص:۲۵۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)