یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو وہاں کے ضعفا اور معذوروں کے گھروں سے آواز آئی ، وہ کہاں گیا جو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا ؟ پھر پتہ چلا کہ رات کے اندھیرے میں امام زین العابدین رحمہ اللہ پانی کی بھری ہوئی مشک اپنے کندھے کے اوپر لے کر ان کے گھروں میں پانی مہیا کیا کرتے تھے اور اس راز کو انہوں نے اس طرح چھپائے رکھا کہ زندگی بھر کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا۔(البدایہ والنہایہ : ۱۳۳۹، حلیۃ الاولیاء : ۱۳۶۳) یہ ہے ایمانی زندگی کہ انسان دوسرے کی خدمت بھی کر رہا ہے ، ہمدردی بھی کر رہا ہے، مگر اس سے صرف (شکریہ) کا بھی طلب گار نہیں ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت فقط اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کر رہا ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

وہ میرا نام جانتا ہے:

وہ میرا نام جانتا ہے:

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے جب مدائن کو فتح کیا تو انہوں نے Announcement (اعلان) کروائی کہ جس مجاہد کے پاس جو مال غنیمت ہے وہ سب لا کر ایک جگہ جمع کروائے ، تاکہ ہم اسے تقسیم کریں ۔ لوگ مال غنیمت جمع کروانے لگ گئے ۔ تین دن گزر گئے محسوس یہ ہوا کہ اب اور کسی کے پاس کچھ نہیں۔ تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے ہیں ، ایک نو جوان آیا ، جس کے کپڑے بڑے معمولی سے محسوس ہوتے تھے۔ مالی اعتبار سے اتنا امیر آدمی نظر نہیں آتا تھا۔ معمولی کپڑے، پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ اس نے ایک کپڑے میں کچھ لپیٹا ہوا تھا ، وہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ امیر قافلہ! یہ میں آپ کو دینے کے لیے آیا ہوں۔ جب انہوں نے اسے کھولا تو اس کے اندر دشمن بادشاہ کا تاج تھا ، گویا اس مجاہد نے اس بادشاہ کو قتل کیا اور اس کا تاج اس کے ہاتھ میں آگیا ، مگر لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا۔ اگر یہ مجاہد چاہتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لیتا اور ساری زندگی اس کے ہیرے اور موتی کاٹ کاٹ کر بیچ کر اپنی زندگی ٹھاٹ سے گزارتا، کیونکہ بادشاہوں کے تاجوں میں تو بڑے بڑے ڈائمنڈ ہوتے تھے۔ جب اس سادہ سے سپاہی نے وہ دیا تو سعد بن ابی وقاص رضي اللہ تعالٰی عنہ بڑے حیران ہوئے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں اور اتنی قیمتی چیز اس نے لا کر خود ہی دے دی ۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے پوچھا کہ اے مجاہد ! تیرا نام کیا ہے؟ جب اس سے پوچھا کہ تیرا نام کیا ہے تو اس نوجوان نے واپسی کے لیے اپنا رخ پھیرا اور دو قدم واپسی کی طرف اٹھا کر کہنے لگا: ” جس اللہ کی رضا کے لیے یہ تاج لا کر آپ کو واپس دیا وہ میرا بھی نام جانتا ہے، میرے باپ کا نام بھی جانتا ہے۔ یہ ہوتا ہے اللہ کے لیے کرنا ۔