حضرت طلحہ کے قبول اسلام دلچسپ واقعہ

حضرت طلحہ اپنا قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بصری کے بازار اور میلہ میں موجود تھا ، وہاں ایک پادری اپنے گرجا گھر کے بالا خانے میں رہتا تھا ، اس نے ایک دن میرے سامنے لوگوں سے کہا : اس بازار اور میلہ والوں سے پوچھو کہ کیا ان میں کوئی حرم میں رہنے والا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں میں ہوں ! کیا احمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) کا ظہور ہو گیا ؟ میں نے دریافت کیا : احمد کون ؟ پادری نے کہا : عبد اللہ بن عبد المطلب کے بیٹے ، اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں ان کا ظہور ہو گا اور وہ آخری نبی ہیں ، حرم (مکہ) میں ان کا ظہور ہو گا اور وہ ہجرت کر کے ایسی جگہ جائیں گے جہاں کھجوروں کے باغات ہوں گے ، پتھریلی اور شوریلی زمین ہوگی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ تو ان کا اتباع کر لیں اور تم ان سے پیچھے رہ جاؤ، پادری نے مجھے تفصیل سے مطلع کیا ، اس کی بات میرے دل کو لگی اور میں وہاں سے تیزی سے چلا اور مکہ پہنچ گیا ، وہاں میں نے پوچھا : کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے ؟ لوگوں نے مجھے بتایا کہ ہاں ! محمد بن عبد اللہ جو امین کے لقب سے مشہور ہیں انہوں نے نبوت کا دعوی کیا ہے اور ابن ابی قحافہ (حضرت ابو بکڑ نے ان کا اتباع کیا ہے ۔ یہ سن کر میں حضرت ابو بکر کے پاس گیا اور میں نے کہا : کیا آپ نے اس آدمی کا اتباع کر لیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہال ......... تم بھی ان کی خدمت میں جاؤ اور ان کا اتباع کرلو، کیونکہ وہ حق کی دعوت دیتے ہیں اس کے بعد حضرت طلحہ نے حضرت ابو بکر کو اس پادری کی بات بتائی ، حضرت ابو بکر حضرت طلحہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے ، وہاں حضرت طلحہ مسلمان ہو گئے ۔ پھر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پادری کی بات بتائی جس سے حضور کو بہت خوشی ہوئی ، جب حضرت ابو بکر اور حضرت طلحہ دونوں مسلمان ہو گئے تو ان دونوں حضرات کو نوفل بن خویلد بن العدویہ نے پکڑ کر ایک رسی میں باندھ دیا اور بنو تمیم نے ان دونوں کو نہ بچایا ، نوفل بن خویلد کو مشیر قریش کہا جاتا تھا ، ایک رسی میں باندھے جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر اور حضرت طلحہ کو قرینین (دو ساتھی) کہا جاتا ہے ، امام بیہقی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ! ہمیں ابن العدویہ کے شر سے بچا۔۔ عشرہ مبشرہ کے دلچسپ واقعات ۲۱۸

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دُم کٹا لومڑ

دُم کٹا لومڑ

ایک لومڑ کی دم پہ پتھر اَگرا، اور دم کٹ گئ۔ ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا! یہ تمنے اپنی دم کیوں کاٹی؟ دم کٹا لومڑ بولا اس سے بڑی خوشی وفرحت محسوس ھوتی ھے۔ایسے لگتا ھے کہ جیسے ھواوں میں اڑ رھا ھوں۔واہ!! کیا تفریح ھے! بس گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اسنے دم کاٹنے پر راضی کرہی لیا۔ اسنے جب یہ دم کٹائ کی مہم سرکرلی تو بجاے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ھونے لگا!! پوچھا میاں!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟ پہلا کہنے لگا جو ہوا سو ہوا! اب یہ درد کی داستان دوسرے لومڑوں کو سنائ تو انہوں نے دمیں نہیں کٹوانی اور ہم دو دم کٹوں کا مذاق بنتا رھےگا! بات سمجھ لگی تو یہ دونوں دم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دم کٹی ھوگئ۔ اب حالت یہ ھوگئ یہ جہاں کوئ دم والا لومڑ دکھلائ دیتا اسکا مذاق اڑایا جاتا! جب بھی فساد عام ہوکر پھیل جاتا ھے عوام نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت کعب سے روایت ہے کہ فرمایا لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائ جاوےگی جیسے کہ آجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائ جاتی ھے۔یہاں تک کہ آدمی کو طنزا کہا جاےگا کہ واہ بھئ! تم تو بڑے ایمان دار فقیہ بندے ھو!! بگڑا ھوا معاشرہ جب نیکوکارون میں کوئ قابلِ اعتراض بات نہیں تلاش کرپاتا تو انکی بھترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ھے! لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا نہی کہا تھا  نکال دو لوط کے گھر والون کو اپنی بستی سے!! یہ تو بھت نیک بنے پھرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرہ کی حقیقت ہے کہ جس میں ہم جیتے ہیں منقول