امام شافعیؒ کی مرض الوفات کی حالت

امام مزنیؒ فرماتے ہیں: میں حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں مرض الوفات میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا : آپ نے کس حالت میں صبح کی ہے؟ فرمایا: آج دنیا سے رحلت کرنے والا ہوں،دوستوں کو چھوڑنے والا ہوں، موت کا پیالہ پینے والا ہوں، اپنے اعمال بد سے ملنے والا ہوں، اللہ کے روبرو حاضر ہونے والا ہوں ـ مجھے معلوم نہیں کہ میری روح جنت میں داخل ہوگی اور اس کو خوش آمدید کہتا ہوں یا دوزخ میں ڈالی جاتی ہے اور میں اس پر ارمان کرتا ہوں، پھر آپ رو پڑے اور یہ اشعار کہے: ولما قسا قلبى وضاقت مذاھبی فعلت الرَّجا منی لعفوک سُلَّما تعـاظـمنی ذنبـی فلمــا قرنتـه بعفوک ربی کان عفُوک أعظما فما زلتَ ذاعفوٍ عن الذنب لم تزک تجـود وتعفــو مـنَّتهَّ وتــکـرُّمــا ولو لا لم یغوی بابلیس عابد فکیف وقد أغوی صفیک آدما (۲۵) ترجمہ : ❶ جب میرا دل سخت ہوگیا اور راستے تنگ ہوگئے میں نے آپ سے معافی کی امید کو سیڑھی بنایا ہے ـ ❷ مجھے اپنے گناہ بڑے لگتے ہیں لیکن جب میں نے ان کو تیرے معاف کرنے سے مقابلہ کیا تو تیرا معاف کرنا بہت بڑا پایا ـ ❸ پس میں ہمیشہ گناہ سے معافی مانگتا رہا اور تو مہربانی کرتا رہا اور احسان اور عزت کرتے ہوئے معاف کرتا رہا ـ ❹ اگر آپ (کا یہ کرم) نہ ہوتا تو شیطان سے کوئی بزرگ نجات نہ پاسکتا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے اس نے تو حضرت آدم صفی اللہ کو بھی پھسلا دیا ـ نصحیت : میرے بھائیوں! گناہوں سے توبہ کرنے میں جلدی کرو،توبہ کرنے والوں کے نقوش قدم کی پیروی کرو ،ان کے طریقوں پر چلتے رہو جو توبہ اور مغفرت کے درجات پر فائز ہوگئے ـ اپنے نفوس کو رضائے خداوندی میں ڈال دو ، کاش کہ تو ان خوفزدہ دلوں کے ساتھ راتوں کے اندھیروں میں عبادت خداوندی میں اپنے پروردگار کی کتاب کی تلاوت میں دیکھ لے ، جنہوں نے اپنی جبینیں زمین پر ٹکادی ہیں ـ اور اپنی ضروریات اس کے سامنے رکھ دی ہیں جو سب کو دیکھتا ہے لیکن نظر نہیں آتا ـ (۲۵) دیوان امام شافعیؒ ص ۷۸ صفوۃ الصوہ ۲/ ۳۸۶ ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : آنسوؤں کا سمندر (صفحہ نمبر ۶۶-۶۷) مصنف : امام ابن جوزی رحمہ اللہ۔ ترجمہ : مولانا مفتی امداد اللہ انور صاحب ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔ ♥️ 💐   📩 📤 *_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ_*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک دینار کا فریب

ایک دینار کا فریب

ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ میرے پاس دنیا جہان کی ہر راحت کا سامان ہے لیکن پھر بھی دل خوش نہیں ، لیکن میرے خادم کے پاس کچھ نہیں ، نہ مال و دولت ، نہ محلات و آسائشات ۔ مگر ہر وقت خوش و خرم رہتا ہے ۔ وزیر نے کہا کہ اس پر 99 کا قاعدہ جاری فرمائیں ۔ کیا مطلب 99 کے قاعدے کا ؟ وزیر نے کہا کہ رات 99 دینار ایک تھیلی میں ڈال کر اس کے دروازے پہ لٹکا دیں لیکن اوپر لکھ دیں کہ یہ 100 دینار میری طرف سے تمہیں ہدیہ ہے ۔ دروازے پہ آواز لگا کر واپس آجائیں ۔ پھر دن بھر دیکھیے کہ کیا ہوتا ہے ۔ چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کر لیا۔ خادم باہر نکلا، خوشی سے تھیلی اٹھائی اور جلدی جلدی گنے لگا، پتہ چلا ایک دینار کم ہے ، دوبارہ گنتی کی ، مگر پھر بھی 99 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب دروازے کے آس پاس ڈھونڈ نے لگ گیا کہ شاید کہیں گر گیا ہو ، مگر کچھ نہ ملا، تھوڑی دیر بعد بیوی بچے بھی آگئے اور تلاش میں لگ گئے ، یوں پوری رات ایک دینار کی تلاش میں گزار دی صبح وہ کام پہ آیا لیکن چہرہ بجھا ہوا، پریشان ، نیند نہ ہونے کی وجہ سے طبیعت مضمحل اور بوجھل ، روایتی فرحت و انبساط غائب یہ دیکھ کر بادشاہ کو 99 کے قاعدے کا راز سمجھ آگیا ۔ وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں اور ایک مفقود نعمت کے حصول میں جٹ جاتے ہیں ، وہی ہر وقت ہماری سوچ و فکر کا محور اور اسی کیلئے تگ و دو اور محنت ، اس لیے بے شمار نعمتوں کے ہوتے بھی پریشان رہتے ہیں ، ہر حال میں اللہ کریم کا شکر ادا نہیں کرتے ، جو خوش رہنے کی شاہ کلید ہے۔ ___________📝📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اِسلامک ٹیوب پرو ایپ۔