فتنہ قادیانیت کا پس منظر(مختصراً)

برصغیر پاک و ہند میں جب انگریز اپنے ظلم و ستم اور زیادتیوں کے باوجود مسلمانوں کو مغلوب نہ کر سکا تو اس نے ایک کمیشن کے ذریعے اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے پورے ہندوستان کا سروے کرایا۔ کمیشن نے یہ رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے لیے ان کے دلوں سے جذبہ جہاد مٹانا بے حد ضروری ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ یہاں کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعوی کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو لازم سمجھتا ہو۔ اس مقصد کیلئے انگریز نے مرزاغ غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا ، جو اس وقت کسی سرکاری ادارے میں کلرک کے طور پر کام کر رہا تھا ، اس کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ قادیانی خاندان شروع دن سے مسلمانوں کے خلاف رہا ہے، انہوں نے سکھوں کے دور اقتدار میں سکھوں کیساتھ مل کر پنجاب کے مختلف علاقوں میں مسلمان حریت پسندوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور پھر انگریزوں کے دور میں بھی مسلمان مجاہدین کے خلاف نبرد آزما ہوئے ۔ مرزا قادیانی نے جہاد کی حرمت اور انگریزوں کی اطاعت کو لازم قرار دیا اور پھر اس نے بتدریج خادم اسلام مبلغ اسلام مجدد، امام مہدی مثیلِ عیسی ظلی نبی (یعنی نبی کا سایہ )، بروزی نبی ، مستقل نبی حتی کہ خدائی تک کا دعوی کیا۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے اور خطر ناک سازش کے تحت کیا گیا۔ (کتاب: ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹك ستمبر۔ صفحہ نمبر: ۱۱۹۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مولوی...

مولوی...

یہ وہ شخص ہے جسے اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر جب غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خدمات ہماری زندگی کے ہر موڑ پر موجود ہیں۔ انسان کی زندگی کا آغاز بھی مولوی کے ساتھ اور اختتام بھی مولوی کے ساتھ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں... قومیں کردار سے بنتی ہیں... اور کردار بنانے والوں میں مولوی کا مقام ہمیشہ بلند رہا ہے۔ سردیوں کی یخ بستہ رات ہو... کہرے میں لپٹی ہوئی فجر ہو... گرمی کی تپتی دوپہر ہو... یا بارش کی اندھیری رات... محلے کے اکثر لوگ اپنے بستروں میں آرام سے سو رہے ہوتے ہیں، مگر مسجد کا ایک چراغ پھر بھی روشن ہوتا ہے... اور اس چراغ کے نیچے ایک مولوی بیٹھا ہوتا ہے ایک ڈاکٹر جسم کا علاج کرتا ہے... ایک انجینئر عمارت بناتا ہے... ایک تاجر بازار چلاتا ہے... مگر ایک مولوی نسلوں کی سوچ بناتا ہے... اگر مولوی یہ کام چھوڑ دے تو شاید کچھ عرصہ بعد عمارتیں تو کھڑی رہیں... مگر انسانیت گرنے لگے... معاشرہ بکھرنے لگے... اور رشتوں کی بنیادیں کمزور ہونے لگیں... اگر لاکھوں لوگ دین کی بنیادی باتیں جانتے ہیں... تو اس میں کسی نہ کسی مولوی کی محنت ضرور شامل ہے۔ کچی بستیوں میں... صحراؤں میں... پہاڑوں میں... جہاں کوئی سرکاری ملازم جانے کو تیار نہیں ہوتا... وہاں بھی ایک مسجد ہوتی ہے... اور اکثر اس مسجد میں ایک مولوی موجود ہوتا ہے... جو معمولی تنخواہ پر پوری بستی کی دینی ضرورتیں پوری کر رہا ہوتا ہے... اختلافات ہو سکتے ہیں، آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس ملک کی آزادی، دینی شناخت اور مذہبی شعور کی حفاظت میں علماء کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ انصاف سے بتائیے: اگر ایک دن کیلئے تمام مولوی حضرات اپنی خدمات بند کر دیں تو معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ مگر صد افسوس کہ اس ملک کے بجٹ میں مولویوں کیلئے کچھ نہیں ہے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے... اگر آپ کا بیٹا ایک دن کہے: "ابو! مجھے بھی مولوی بننا ہے..." تو کیا آپ خوش ہوں گے؟ اور اگر جواب "نہیں" ہے... تو پھر خود سے ایک سوال ضرور کیجیے... آخر ہم نے اس طبقے کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ لوگ اسے عزت تو دیتے ہیں... مگر اس جیسی زندگی اپنے بچوں کیلئے پسند نہیں کرتے...؟