​​عبرت و بصائر

❶ ایک زاہد کا قصہ منقول ہے کہ وہ روٹی کے بغیر سبزی اور نمک وغیرہ کھالیتے ـ کسی نے کہا کہ بس آپ اسی پر گزارہ کرتے ہیں؟ فرمانے لگے میں اپنی دنیا جنت کے لئے بنا رہا ہوں اور تو اسے بیت الخلا کے لئے بناتا ہے، یعنی تو مرغوب کھانے کھا کر بیت الخلا تک پہنچاتا ہے اور میں جو کچھ بھی کھاتا ہوں وہ اس لئے کہ عبادت و طاعت کے لئے سہارا بنے اور آخرکار جنت تک پہنچ سکوں ـ ❷ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ حمام میں جانے لگے تو حمام والے نے روک دیا اور کہنے لگا کہ اجرت کے بغیر نہیں جاسکتے ـ آپ رو کر کہنے لگے اے اللہ! شیاطین اور فساق لوگوں کے آنے کا مقام ہے اور مجھے یہاں مفت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی تو میں انبیاء اور صدیقین کے مقام یعنی جنت میں کیسے داخل ہوسکوں گاـ؟ ❸ منقول ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام کی آسمانی تعلیمات اور وحی میں یہ بات ملتی ہے کہ اے ابن آدم! تو دوزخ کو بھاری قیمت سے خریدتا ہے مگر جنت کو سستے داموں نہیں لیتا ـ جس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک فاسق آدمی اپنے جیسے فاسقوں کی دعوت کرتا ہے اور اس پر سینکڑوں روپے کا خرچ بھی معمولی سمجھتا ہے تو یہ اس کا دوزخ کا سودا ہے جو بھاری قیمت پر حاصل کیا ـ اگر وہ اللہ کی رضا کے لئے ایک درہم خرچ کرکے بعض محتاجوں کی دعوت کرنا چاہے تو اسے شاق گزرتا ہے، جب کہ یہی اس کے لئے جنت کی قیمت تھی ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تنبیہ الغافلین (صفحہ نمبر ۸۸-۸۹ ) مصنف : نضر بن محمد ابراہیم ابوالیث السمرقندی منتخب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

میں وعدہ کرتا ہوں ماں ..!

میں وعدہ کرتا ہوں ماں ..!

یہ کہانی ڈاکٹر محمد راتب النابلسی کی ہے جو وہ اپنی ماں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن جب وہ چھوٹے تھے، ان کی ماں نے ان سے پوچھا: "کیا تم لفظ 'حلال' کہہ سکتے ہو بغیر اپنے ہونٹوں کو بند کیے؟" انہوں نے کوشش کی اور کامیابی کے ساتھ لفظ 'حلال' کہہ لیا بغیر اپنے ہونٹوں کو بند کیے۔ ان کی ماں نے خوش ہو کر ان کی تعریف کی اور انہیں چوم لیا۔ پھر ماں نے کہا: "کیا تم لفظ 'حرام' کہہ سکتے ہو بغیر اپنے ہونٹوں کو بند کیے؟" انہوں نے بہت بار کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر انہوں نے اداس ہو کر کہا: "نہیں ماں، میں نہیں کر سکتا، جتنی بھی کوشش کروں، آخر میں میرے ہونٹ خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔" اس پر ان کی ماں ہنس پڑیں اور کہنے لگیں: "یہی فرق ہے حلال اور حرام میں، بیٹا۔ حرام ہمیشہ بندش اور تنگی کا باعث بنتا ہے، جبکہ حلال ہمیشہ خوشی اور آسانی کا باعث بنتا ہے۔ اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ تم اپنے لیے کون سا راستہ چنتے ہو، حلال جو دنیا اور آخرت کے دروازے کھول دیتا ہے یا حرام جو سب دروازے بند کر دیتا ہے اس دن کے بعد جب وہ کوئی غلط کام کرتے تھے تو ان کی ماں اپنے ہونٹوں کو بند کر لیتی تھیں، اور ان کے چہرے پر غم کی لہر چھا جاتی تھی۔ لیکن جب وہ کوئی اچھا کام کرتے تھے تو ماں مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ کھول دیتی تھیں اور کہتیں کہ اگر تم ہمیشہ اپنی ماں کی مسکراہٹ دیکھنا چاہتے ہو تو ہمیشہ حلال اور پاکیزہ راستہ اپناؤ۔ جب ڈاکٹر محمد بڑے ہوئے تو انہوں نے کبھی اپنی ماں کی مسکراہٹ کو کھونے کی کوشش نہیں کی۔ جب ان کی ماں کا انتقال ہوا اور وہ آخری الوداع کہنے اور آخری بوسہ دینے کے لیے ان کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی ماں کو مسکراتے ہوئے پایا، ان کے ہونٹ کھلے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: "میں وعدہ کرتا ہوں ماں، میں ہمیشہ حلال کے راستے پر چلوں گا، اس کہانی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے بچوں کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ کچھ کام عیب ہیں، بلکہ یہ بھی بتائیں کہ یہ حلال اور حرام ہیں، یہ اللہ کو خوش کرتا ہے اور یہ اللہ کو ناراض کرتا ہے، تاکہ وہ اللہ کی خوشنودی کے لیے زندگی گزاریں، نہ کہ لوگوں کے خوف سے۔ [صدقہ جاریہ کے لیے یہ تحریر شئیر ضرور کریں] ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔