مغربی بنگال: اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ووٹ بینک کی سیاست کے لیے مدارس کے خلاف حکومت کا نیا محاذ؛ 12 اضلاع میں سروے کے لیے کمیٹی تشکیل
کولکاتہ: مغربی بنگال میں بی جے پی کی قیادت والی نئی حکومت نے عوامی مسائل، معاشی چیلنجز اور اپنی انتظامی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے روایتی طور پر اقلیتی کارڈ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اقلیتی سماج کو مسلسل نشانہ بنا کر اکثریتی طبقے کو خوش کرنے اور مسلمانوں کو ہراساں دیکھ کر ووٹ حاصل کرنے کی اسی پالیسی کے تحت اب ریاست کے غیر منظور شدہ مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں محکمہ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم نے عجلت میں ایک 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ریاست کے 12 اضلاع میں چلنے والے غیر منظور شدہ مدارس کا جائزہ لے گی۔ یہ کمیٹی 15 جولائی سے اضلاع کا دورہ شروع کرے گی اور محض چند دنوں کے اندر، یعنی 21 جولائی تک اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کر دے گی۔ اتنے کم وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر سروے کا ہدف صرف اور صرف اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا اور تادیبی کارروائیوں کا جواز گھڑنا نظر آتا ہے۔ جن اضلاع کو خاص طور پر اس کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کوچ بہار، اتر دیناج پور، مالدہ، مرشد آباد، بیربھوم، مغربی مدنی پور، مشرقی مدنی پور، نادیہ، ہگلی، ہاوڑہ، شمالی 24 پرگنہ اور جنوبی 24 پرگنہ شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلم آبادی کی اچھی خاصی تعداد ہے اور حکومت ان علاقوں میں سیاسی پولرائزیشن کو تیز کرنا چاہتی ہے۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ضلع مجسٹریٹوں (ڈی ایم) سے موصول ہونے والی ان ابتدائی رپورٹوں کے بعد کی جا رہی ہے جو جون کے پہلے ہفتے میں طلب کی گئی تھیں اور جنہیں 5 جولائی تک ریاستی سکریٹریٹ 'نبانّا' بھیجا گیا تھا۔ ان رپورٹوں میں مدارس کے قیام کی تاریخ، رجسٹریشن، طلبہ و اساتذہ کی تعداد اور نصاب جیسی معلومات مانگی گئی تھیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کوئی حقیقی کارکردگی نہیں ہے، اس لیے وہ مدارس کا مسئلہ کھڑا کر کے اکثریتی سماج کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ووٹرز روزگار، مہنگائی اور بنیادی ڈھانچے جیسے اصل مسائل کو بھول کر بی جے پی کے حق میں صف بندی کریں۔ یاد رہے کہ مئی میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد بی جے پی حکومت کے وزیر برائے اقلیتی امور کھدی رام ٹوڈو نے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان مدارس کو بند کیا جائے گا اور ان سے وابستہ افراد کو سزا دی جائے گی۔ اب اس 18 رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی آڑ میں اسی مسلم مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاکہ تعلیم کی اصلاح کے نام پر اقلیتی اداروں کو بند کر کے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔