بامبے ہائی کورٹ میں اداکار عمران خان نے مانگی غیر مشروط معافی: ”مظاہروں میں حصہ نہیں لوں گا“، ’لیو انڈیا‘ نوٹس پر 7 دسمبر تک روک
اداکار عمران خان نے SIR کے خلاف مظاہروں میں شامل ہونے پر بامبے ہائی کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ وہ مستقبل میں ایسے کسی احتجاج میں حصہ نہیں لیں گے۔ کورٹ نے ان سے غیر مشروط معافی اور انڈر ٹیکنگ دینے کو کہا تھا۔ عمران کو CJP کے احتجاج میں شامل ہونے کے بعد ’لیو انڈیا نوٹس‘ (LIN) ملا تھا، جس کے خلاف انہوں نے عرضی دائر کی تھی۔
ہائی کورٹ کے اہم تبصرے
اتنے برسوں سے بھارت میں رہتے ہوئے آپ نے کبھی کسی مظاہرے میں حصہ نہیں لیا، پھر اب کیوں شامل ہوئے؟
آپ OCI کارڈ ہولڈر ہیں اور بھارتی شہری کی طرح برتاؤ نہیں کر سکتے۔ آپ SIR سے متاثر بھی نہیں ہیں، اس لیے احتجاج کا آپ کو کوئی حق نہیں۔
بچپن سے یہاں رہ رہے ہیں تو بھارتی شہریت کے لیے درخواست کیوں نہیں دیتے؟ OCI ہی رکھنا ہے تو دوبارہ ایسے احتجاج میں نہ جانے کی انڈر ٹیکنگ دینی ہوگی۔
غیر مشروط معافی بھی دینی ہوگی، کیونکہ آپ نے لوگوں کو اکسایا۔ ایک سلیبریٹی سے یہ توقع نہیں، آپ کی روزی روٹی اسی ملک سے ہے۔
چیف جسٹس بولے: ”یہ بھارت کی فراخ دلی ہے“
چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا کی بنچ نے کہا کہ بھارت کی فراخ دلی دیکھیے کہ امریکی شہری اور OCI کارڈ ہولڈر کو فوراً ڈی پورٹ کرنے کے بجائے پہلے نوٹس دے کر ملک چھوڑنے کو کہا گیا۔ بنچ کے مطابق، اگر کوئی بھارتی بیرونِ ملک ایسا کرتا تو اسے اگلی ہی فلائٹ سے بھارت واپس بھیج دیا جاتا۔ کورٹ نے مرکز کو ’وسودھیو کٹمبکم‘ کے اصول کی یاد دلائی اور ہدایت دی کہ عمران کو نوٹس کا جواب دینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے۔
آگے کیا؟
اگلی سماعت 7 دسمبر کو ہوگی اور تب تک ’لیو انڈیا‘ نوٹس پر روک رہے گی۔
عمران کو عبوری تحفظ ملا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے اور فی الحال ملک نہیں چھوڑنا ہے۔
کورٹ نے مرکزی حکومت سے بھی جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
FRRO نے 17 اکتوبر کو عمران کا OCI کارڈ منسوخ کرنے کا الگ شو کاز نوٹس بھی دیا تھا، جس پر 7 دسمبر کو سماعت ہوگی۔
پس منظر
عمران خان 42 سال سے بھارت میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس امریکی شہریت ہے اور وہ 2006 سے OCI کارڈ ہولڈر ہیں۔