فقہ و مسائل

حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار السابع عشر
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار السابع عشر
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الثامن عشر
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الثامن عشر
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار التاسع عشر
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار التاسع عشر
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الحادی و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الحادی و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الثانی و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الثانی و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الثالث و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الثالث و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الرابع و العشرون
حاشیۃ ابن عابدین رد المختار علی الدر المختار الجزء الرابع و العشرون
معاملات مالیہ میں ائمہ احناف کا اختلاف
معاملات مالیہ میں ائمہ احناف کا اختلاف
Image 1

رحمت کی چھتری لے لیجئے

رحمت کی چھتری لے لیجئے

ایک دفعہ کرکٹ میچ کے دوران جب اچانک بارش شروع ہوئی تو سٹیڈیم میں موجود ہر شخص نے اپنی چھتری کھول کر سر پر رکھ لی تھی۔ جب اس وقت کیمرہ تماشائیوں کے سٹینڈ پر گیا تو رنگ برنگی چھتریوں کا ایک حسین منظر تخلیق پا چکا تھا، شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کے چھتری یا بارش کی برساتی نہ پہنی ہو۔ یہ دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ سٹیڈیم میں موجود ہزاروں لوگوں کے پاس بیک وقت چھتری یا برساتی کیوں تھی؟ جواب یہ ہے کہ ان لوگوں نے میچ سے قبل فورکاسٹ یعنی موسم کی جانکاری کمپیوٹر، ٹی وی یا موبائل پر حاصل کر لی تھی، انہیں یقین تھا کہ میچ کے دوران بارش ہوگی، چنانچہ وہ اس سے بچنے کا بندوبست پہلے سے ہی کرچکے تھے جس کی وجہ سے بارش کی وجہ سے وہ نہ تو زیادہ بھیگے اور نہ ہی کسی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے ایک اور بات ذہن میں آتی ہے کہ ہمارے پاس انتہائی معتبر ذرائع یعنی آخری نبی ﷺ کے ذریعے فورکاسٹ یعنی قرآن پہنچ چکا ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مرنے کے بعد کس طرح کا سوال نامہ ہوگا، کن چیزوں پر اللہ کی پکڑ ہوگی اور کن اعمال کا ثواب ملے گا۔ پھر اس سے ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ جب ہمارے پاس اتنی پکی اور سچی خبر موجود ہے تو پھر ہم اس کی تیاری کیوں نہیں کرتے؟ معمولی سی بارش کی پیشنگوئی پر تو ہم چھتری اور برساتی ساتھ رکھ لیتے ہیں، جنت کی بشارت اور جہنم کی خبر سن کر ہم چھاتے اور چھتری کا بندوبست کیوں نہیں کرتے؟ اس کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ہم اللہ کے قرآن اور اس کے اس سچے نبی ﷺ کی باتوں پر اتنا بھی یقین نہیں رکھتے کہ جتنا ہم موسم کا حال سنانے والی نیوزکاسٹر پر کرتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم نے مرنا نہیں۔ دونوں صورتوں میں ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور گمراہی کے گڑھے میں جارہے ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے جو بشارت اور جہنم کے عذاب کی خبر سنائی، کم سے کم اتنی اہمیت تو دیں کہ ہم ایک عدد چھتری کا ہی بندوبست کرلیں جو ہمیں قیامت کے روز عذاب کی بارش سے بچا سکے... منقول- 💞 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں 💞

Whats New

Naats