آیۃ القران

وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍۢ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّى ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ(۶۱)(سورۃ النحل)

اور اگر اللہ لوگوں کو اُن کے ظلم کی وجہ سے (فوراً) اپنی پکڑ میں لیتا تو رُوئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ اُن کو ایک معین وقت تک مہلت دیتا ہے۔ پھر جب اُن کا وہ معین وقت آجائے گا تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہو سکیں گے(۶۱)(آسان ترجمۃ القران)

ISHQ KE RANG ME RANG JAVU

Naats

حدیث الرسول ﷺ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا (رَوَاهُ أَبَوَدَاوُدَ)

حضرت عوف ابن مالک رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی اس امت کے خلاف دو تلواروں کو اکٹھا نہیں کرے گا، ایک تلوار تو خود مسلمانوں کی اور دوسری تلوار ان کے دشمنوں کی۔ (ابوداؤد) توضيح: "سيفين" یعنی بیک وقت اس امت پر دو تلواریں اکٹھی نہیں ہوں گی، اگر دشمن سے جنگ اور جہاد فی سبیل اللہ ہوگا تو آپس میں جنگ نہیں ہوگی ( ہاں اگر منافقین کی ایک جماعت کفار سے مل گئی تو پھر دو تلواریں جمع ہوں گی ) اور اگر دشمن سےجنگ اور جہاد نہیں ہوگا تو پھر آپس میں لڑیں گے (توضیحاتشرح مشکوۃ ج۸ص۱۱۶)

Download Videos

💐 *غم پروف دل*💐

. 💐 *غم پروف دل*💐 ملخص از کتاب مواعظ درد محبت ( عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم اختر صاحب) انتخاب و تلخیص از *حذیفہ مانگرولی* ___________________________ ظاہر کے عیش سے ضروری نہیں باطن کا عیش حاصل ہو جاۓ، ائر کنڈیشن ہماری کھالوں کو تو ٹھنڈا کر سکتا ہے مگر دل کی آگ کو نہیں بجھا سکتا، اگر اللہ ناراض ہو تو جسم لاکھ آرام میں ہو لیکن دل عذاب میں رہتا ہے اور چین نہیں پا سکتا ایک بزرگ فرماتے ہیں *دل گلستاں تھا تو ہر شے سے ٹپکتی تھی بہار* *دل بیاباں ہوگیا عالم بیاباں ہوگیا* ہمیں ظاہر کے عیش کی جتنی فکر ہے اس سے زیادہ اپنے قلب کو باخدا بنانے کی فکر ہونی چاہیے ورنہ ائرکنڈیشن میں بھی پریشانی اور مصیبتوں سے دل گرم رہے گا ہزاروں لاکھوں روپیوں میں بھی قلب غمزدہ، مشوش اور پریشان رہے گا مولانا رومی فرماتے ہیں *آں یکےدر کنج مسجد مست و شاد* *واں یکے در باغ ترش و نامراد* ‌ایک شخص مسجد میں چٹائی پر مست ہے اور ایک باغ میں ہے چاروں طرف پھول ہیں لیکن غموں کے کانٹوں سے غمگین و نامراد ہے یہ پھولوں میں رو رہا ہے اور وہ کانٹوں میں ہنس رہا ہے اب کوئی کہے کہ یہ تو اجتماع ضدین ہے، غم میں اللہ تعالی کیسے خوش کر دیتا ہے؟ تو میں کہتا ہوں کہ کیوں صاحب! یہ واٹر پروف گھڑیاں سوئزرلینڈ بنا رہا ہے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے وہ اثر کیوں نہیں کر رہا ہے، یہ کیوں واٹرپروف ہے، اللہ اپنے عاشقوں کے قلب کو بھی غم پروف کر دیتا ہے جس کے دل پر اللہ تعالی کی رحمت اور نظر عنایت ہوتی ہے ہزاروں غم میں بھی وہ خوش اور بے غم رہتا ہے_

اہم مسئلہ

بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ الٹا جوتا یا چپل اگر درست نہ کیا جائے تو اس سے کام بگڑ جاتا ہے، گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں، کام الٹے ہو جاتے ہیں وغیرہ، اس لئے جلد از جلد اس کو سیدھا کر دیا جائے ، یہ عقیدہ رکھنا سراسر غلط ہے، البتہ کسی بھی چیز کو وضع اصلی کے مطابق رکھنا دائرہ ادب و تہذیب میں داخل ہے۔(اہم مسائل/ج : ۲/ ص : ۳۳)