چائے والے نے اپنے کاؤنٹر پر لکھوایا..... "میں بھلے ہی عام ہوں مگر چائے اسپیشل بناتا ہوں"۔😄 ایک ریسٹورینٹ نے سب سے الگ فقرہ لکھوایا...... "یہاں گھر جیسا کھانا نہیں ملتا، آپ اطمینان سے تشریف لائیں۔"😊 الیکٹرونک دوکان پر سلوگن پڑھا تو دم بہ خود رہ گیا... "اگر آپ کا کوئی فین نہیں ہے تو یہاں سے لے جائیں۔"😅 گول گپے کے ٹھیلے پر یوں لکھا تھا..... "گول گپے کھانے کے لئے دِل بڑا ہو نہ ہو، مونہہ کا بڑا ہونا ضروری ہے، پورا کھولیں۔"😂 پھل والے کے یہاں تو غضب کا فقرہ لکھا دیکھا.... "آپ تو بس صبر کریں، پھل ہم دے دیں گے۔"😔 گھڑی کی دوکان پر بھی ایک زبردست فقرہ دیکھا... "بھاگتے ہوئے وقت کو اپنے بس میں رکھیں، چاہے دیوار پر ٹانگیں، یا ہاتھ پر باندھیں۔"😀 بالوں کی ایک کمپنی نے تو اپنے ہر پروڈکٹ پر لکھ دیا ھم بھی بال بال بچاتے ھیں😆 اور ایک دندان ساز کا لکھا فقرہ پڑھا تو ہنسی آ گئی "دانت کوئی بھی توڑے لگا ہم دیں گے🤪" ایک دوکان کے شٹر پر لکھا دیکھا "دوکان کے اوقات کار: صبح 9 سے شام 6 تک، ہم اپنی اوقات میں رہتے ہیں."

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھا۔ جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا‘ تمہیں پتہ ہےکہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے‘ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے- غلام نے جواب دیا‘ بادشاہ سلامت ! "اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ وہ خود کو کہیں خدا نہ سمجھ بیٹھیں کیوں کہ وہ خود سے ایک مکھی کو قابو نہیں کر سکتے.۔۔!! بادشاہ کو اس غلام کی بات اتنی پسند آئی کہ اس نے اسے آزاد کر کے اپنا مشیر مقرر کر دیا۔