📖حضرت لاہوری رحمہ اللہ کا حکیمانہ انداز اور پورے قران کا خلاصہ 📖 امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرماتے تھے میں اسٹیشن پرپہنچوں گاڑی چلنے کے لئے تیار کھڑی ہو میرا ایک قدم پائیدان پر ہو اور دوسرا قدم پلیٹ فارم پر ہو گارڈ سیٹی دے چکاہوں گاڑی چلنےلگے ایک آدمی دوڑتا آئے اور پکارے احمد علی احمدعلی اللہ کا قران سمجھا کے جا فرماتے تھے میرا دوسراقدم پائیدان پر بعد میں پہنچے گا میں انے والے کو پورا قران سمجھاکے جاؤں گا کسی نے پوچھا مولانا پورا قران اتنی سی دیر میں کیسے سمجھادیں گے؟ فرمایا ہاں قران کا خلاصہ تین چیزیں ہیں رب کو راضی کرو عبادت کے ساتھ شاہ عرب صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرو اطاعت کے ساتھ اللہ کی مخلوق کو راضی کرو خدمت کے ساتھ 1۔۔یعنی عبادت اللہ کی۔ 2۔۔اطاعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ 3۔۔خدمت خلق خدا کی۔ یہ پورے قران کا خلاصہ ہیں۔۔۔!! (حکمت و نصیحت ص ۲۹۷)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

محی السنہ حضرت شاہ ابرار الحق سے بعض حضرات نے شکایت کی کہ مسلمانوں کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہیں ، خانقاہوں اور مدارس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہو رہا ہے ، اللہ والے مسلسل اللہ کے حضور دعائیں کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی پریشانیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں ، حالات بد سے بدتر ہوتے ہی جا رہے ہیں تو اس وقت حضرت نے ایک مثال دے کر معاملہ یوں سمجھایا تھا کہ کسی شخص کا باپ اس سے ناراض ہو جائے اور اس کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر اپنی عنایات کا سلسلہ بند کر دے اور وہ لڑکا اپنے والد سے معافی تلافی کے بجائے دوسروں سے کہتا پھرے کہ میرے والد مجھ سے ناراض ہیں آپ ان سے سفارش کر دیجئے کہ وہ مجھ سے راضی ہو جائیں اور پہلی سی محبت کا معاملہ کرنے لگیں اور خود براہ راست والد سے رجوع نہ کرے، نہ ان سے اپنے جرم کا اعتراف و اقرار کرے تو والد کی نظر عنایت اس پر کیسے ہوگی۔ اس وقت پوری امت کا المیہ یہی ہے کہ خالق کائنات کے حضور میں گستاخیاں اور جرائم کا ارتکاب تو خود کرتے ہیں اور ان کی معافی تلافی کے لئے اہل اللہ اور مشائخ سے دعائیں کراتے پھرتے ہیں، خود اللہ کے حضور توبہ واستغفار کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ اللہ کی راہ اب بھی ہے کھلی، آثار و نشاں سب قائم ہیں اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا (کتاب : ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور(نومبر) صفحہ نمبر: ۶ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)