بیویوں کی تعداد کا چار ہونا اور اس کی حقیقت شادی کے چار حروف ش۔ا۔د۔ی نکاح کے چار حروف ن۔ک۔ا۔ح۔‌😉 شوہر کے چار حروف ش۔و۔ہ۔ر۔ بیگم کے چار حروف ب۔ی۔گ۔م۔😂 بیوی کے چار حروف ب۔ی۔و۔ی۔ زوجہ کے چار حروف ز۔و۔ج۔ہ۔❤️⁩ ہندی زبان میں بھی پتنی کے چار حروف ہیں۔۔پ۔ت۔ن۔ی۔🤭 نساء میں بھی چار حروف۔ن۔س۔ا۔ء۔🤫 اور Wife میں بھی چار حروف۔ _W_I_F_E۔🤗 حتیٰ کہ ان سب ناموں سے بننے والے لفظ، دلہن میں بھی چار حروف ہیں ۔د۔ل۔ہ۔ن۔🤔 ان سب کی تعداد سے اسی بات کا اشارہ ملتا ہے کہ بیویاں چار ہی ہونی چاہئے۔ ہاتھ میں بھی چار انگلیاں اور ایک انگوٹھا بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ 😜 دل کے بھی چار خانے ہیں، ہر ایک خانہ میں ایک بیوی کی تصویر ہونی چاہئے۔ 🧐 خیر سانوں کی ۔۔۔ 😢💔 اللّٰہ تعالیٰ تمام مردوں کی دلی مراد پوری فرمائے۔ آمین 🤲 شادی شدہ حضرات ذرا احتیاط سے۔۔۔۔کیونکہ ڈنڈے کے حروف بھی چار ہیں اور جوتے کے بھی چار حروف ہوتے ہیں😁 مسکراتے رہیے مسکرانا سنت ہے💖🥀

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی دعوت __!!

حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی دعوت __!!

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کا مظفر نگر میں ایک تھانیدار معتقد تھا۔ ایک دن اس نے حضرت مولانا نانوتوی کی دعوت کی، مولانا نے دیکھا تھا کہ تھانیدار کی کمائی مشتبہ اور مشکوک ہے اس وجہ سے اس کی دعوت کو نامنظور فرما دیا ۔ تھانیدار نے دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ معلوم کی تو حضرت نے فرمایا میں معذور ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر آپ بیمار ہوں تو علاج کرادوں۔ حضرت نے فرمایا نہیں کوئی اور عذر ہے۔ اس نے کہا اگر جانے میں تکلیف ہو تو سواری کا انتظام کر دوں۔ حضرت نے فرمایا یہ مجبوری نہیں بلکہ دوسرا عذر ہے۔ اس نے پھر درخواست کی کہ کھانا آپ کے یہاں بھیج دوں۔ آپ نے انکار فرمایا اس نے عرض کیا میں خود حاضر ہوکر کھانا پیش کروں گا۔ حضرت نے صاف انکار فرما دیا۔ وہ تھانیدار ایک دم غصہ ہوگیا اور کہا کہ آپ نہ بزرگ ہیں اور نہ نیک کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دعوت قبول کرو اور آپ قبول نہیں کرتے۔ اس پر مولانا نانوتوی نے فرمایا کہ جو عیوب تونے بیان کئے ہیں۔ ان سے زیادہ عیوب کا مرتکب اور مستحق ہوں ۔اس وقت تھانے دار کو ہوش آیا اور سوچا تو معلوم ہوا کہ حضرت میری دعوت میرے مال کے مشتبہ ہونے کی وجہ سے رد فرمارہے ہیں ۔اس نے ای دن سے تھانیداری چھوڑ دی۔ کچھ دنوں بعد پھر دعوت کی اور عرض کیا کہ: حضرت! اب میری اپنی جائیداد کی حلال کمائی ہے آپ کی دعوت کرتا ہوں‘ مولانا محمد قاسم صاحب نے دعوت منظور فرمانی اور اس سے فرمایا کہ ” ملازمت بھی کرو لیکن دیانتداری سے کام لو کیونکہ تھانیداری کرنا دیانت داری کے ساتھ تمام بھلائیوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ محتسب کے درجہ میں تھانے دار ہوتا ہے۔“ ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ