`*┄┅════❁﷽❁════┅┄*` ‎ ‎*❂_ Duniya ki Sabse Sakht aur Khamosh Saza Ye Hai K Allah Tumhare Dil se Apne Zikr Ka Zoq Chheen Le, Dil Duniya Ki Fizool Baato me Uljha Rahe aur Zubaan Ese Jumle Bole Jo Tumhari Nekiyo'n Ko Mita dale'n, _,* ‎ •••✦✿✦••• ‎*❂_ ‏دنیا کی سب سے سخت اور خاموش سزا یہ ہے کہ اللہ تمہارے دل سے اپنے ذکر کا ذوق چھین لے، دل دنیا کی فضول باتوں میں الجھا رہے اور زبان ایسے جملے بولے جو تمہاری نیکیوں کو مٹا ڈالیں _,* ‎ •••✦✿✦••• ‎*❂_ दुनिया की सबसे सख्त और ख़ामोश सज़ा ये है कि अल्लाह तुम्हारे दिल से अपने ज़िक्र का ज़ौक़ छीन ले, दिल दुनिया की फ़िज़ूल बातों में उलझा रहे और ज़ुबान ऐसे जुमले बोले जो तुम्हारी नेकियों को मिटा डालें _,* ‎ ‎*❂_ The harshest and most silent punishment in the world is for Allah to take away the taste for His remembrance from your heart, for your heart to be entangled in the trivial things of the world, and for your tongue to utter such words that erase your good deeds _,* ‎                        ‎*━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─* `Israeel Fani`‎✍🏻 Subscribe to my channel Https://shorturl.at/xt09w

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک قاضی کا عجیب و غریب فیصلہ

ایک قاضی کا عجیب و غریب فیصلہ

ایک ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو روٹی چوری کرتے پکڑا گیا ، علاقے کے کچھ لوگ اسے پکڑ کر وقت کے قاضی (جج) کے پاس لے گئے ، قاضی نے بوڑھے بابا سے کافی سوالات کئے ۔ لیکن بابا نے کوئی جواب نہیں دیا ، بالآخر قاضی نے فیصلہ یوں سنایا ۔ بابا جی روٹی چوری کرنے کے جرم میں ایک درہم تندور کے مالک کو بطور جرمانہ ادا کرے گا ۔ یہ سنتے ہی لوگوں نے فاتحانہ نعرے لگانے شروع کئے ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ ٹھہر وا بھی فیصلہ کی دوسری قسط باقی ہے ، سب لوگ سمجھے کہ اب شاید بابا کو قید کی سزا بھی ہوگی ۔ لیکن قاضی کے فیصلہ نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ۔ قاضی نے گرجدار آواز میں فیصلہ سنایا کہ جتنے لوگ بابا جی کو پکڑ کر لائے ہیں وہ سب اور جو لوگ بابا جی کے گھر کے آس پاس تین گلیوں میں رہتے ہیں وہ سب ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو پچاس درہم بابا جی کو بطور جرمانہ ادا کریں گے۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو قاضی نے جواب دیا ۔ نہ بابا کی عمر چوری کی ہے نہ با با پیشہ ور چور لگتے ہیں کیونکہ اگر چور ہوتے تو اپنی صفائی اچھے انداز سے پیش کرتے جیسا کہ چوروں کا دستور ہے ۔بابا جی کو بھوک نے چوری تک پہنچایا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا سبب بابا کے پڑوسی ہیں ۔ جنہوں نے کبھی بابا کی خبر نہ لی اس لئے بابا ایک روٹی کے چور ہیں جبکہ بابا جی کا پورا محلہ انسانیت کا چور ہے ۔ جو سزا میں نے سنائی ہے حقیقت میں تمہارا فریضہ تھا جو تم ادا نہ کر سکے اسلئے اسکو جرم کا نام دیا گیا۔ قاضی کے فیصلہ نے بابا جی کے آنکھوں سے آنسو نکال دئے ۔ جبکہ تماش بینوں کی گردن جھکا دی۔ ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔