یہ بے بسی کے عالَم میں اپنی ادنی سی کوشش کا اظہار ہے! یہ غزہ کے ایشو کو *ہائی لائٹ اور زندہ* رکھنے کے لیے اقدام ہے! یہ غزہ کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے! یہ عالمی دنیا کو غزہ پر ہونے والے سنگین ظلم کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش ہے! یہ حسبِ استطاعت کچھ کر گزرنے کی ایک جھلک ہے! یہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے والوں کے دلوں پر ایک دستک ہے! یہ سنگین اسرائیلی مظالم کے خلاف ریکارڈ کیا جانے والا احتجاج ہے! یہ مسلم دنیا کو جھنجھوڑنے کی ادنی سی کاوش ہے! یہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی اک سعی ہے! یہ شعور کو بیدار کرنے اور بیدار رکھنے کی اک مہم ہے! یہ تاریخ میں اسرائیلی مظالم کو درج کرنے والا اک سیاہ باب ہے! سو آپ کیوں خاموش ہیں؟ آپ کیوں غافل ہیں؟ دعا کیوں نہیں کرتے؟ تعاون کیوں نہیں کرتے؟ آواز کیوں بلند نہیں کرتے؟ بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے؟ جو کچھ بس میں ہے وہ کرتے رہیے اور غزہ کے ایشو کو مسلسل *ہائی لائٹ اور زندہ* رکھیے، یہ وقت ایک اہم تقاضا ہے! ✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

عربی اَدب سے ایک حکایت

عربی اَدب سے ایک حکایت

ایک آدمی کئی راتیں سخت سردی میں آرام سے سوتا رہا۔ایک دن کسی راہگیر نے گزرتے ہوئے اسے کہا : " میں تمہیں ایک گرم رضائی لا کر دوں گا"!! وہ راہگیر اپنی منزل کو چلا گیا اور رضائی لانے کا وعدہ بھول گیا ، بوڑھا آدمی اس کا انتظار کرتے ہوئے سردی سے مر گیا۔لوگوں کو اس کی لاش کے پاس ایک مخطوط رقعہ ملا۔اس پر یہ الفاظ لکھے تھے : " میں نے تمہارے آنے سے پہلے کئی رات سردی برداشت کی کیونکہ میرے پاس کوئی اور آسرا نہیں تھا مگر تمہاری بات نے مجھے ایک امید دلا کر اسے میرا آسرا بنا دیا اور میں نے تم پر امید لگا کر اپنی قوت کھو دی۔چناچہ...سردی نے مجھے مار ڈالا"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات اور وعدے کو ہمیشہ پورا کرو۔اور جب بولو تو الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔اگر تمہاری امید کسی کو تسلی اور سہارا دے سکتی ہے تو اسے توڑ بھی سکتی ہے۔