"ہم ایران کے مسلک کو قبول نہیں کرتے، نہ اس کی پالیسیوں سے اتفاق کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے ظلم اور زیادتیوں کو بھولتے ہیں۔ *لیکن اگر اس پر کوئی بیرونی کافر حمـ.ـلہ کرے تو دین کا تقاضا ہرگز یہ نہیں کہ ہم کافر کے غلبے پر خوشی منائیں یا اس کی مدد کریں یا یہ تمنا کریں کہ مسلمانوں کی کوئی سرزمین اس کے قبضے میں چلی جائے۔* اختلاف ہو سکتا ہے، مخالفت ہو سکتی ہے، تنبیہ بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر `مسلمانوں کی گردنیں ایسے دشمن کے حوالے نہیں کی جا سکتیں جو پوری امت پر گھات لگائے بیٹھا ہے، اور اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایران میں ایک غیر معمولی تعداد اہل سنت والجماعت کی بھی موجود ہے` جو مذہب اور مسلک میں تفریق نہیں کرتا بلکہ `اسلام کو مجموعی طور پر نشانہ بناتا ہے۔` *ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ شر کو دور کرے، خونریزی کو روکے، حالات کی اصلاح فرمائے، اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔"* (آمین) > فلسطیـ.ـنی داعی، جہـ.ـاد حلـ.ـس — غـ.ـزہ *مزید پوسٹ کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں* https://whatsapp.com/channel/0029Va5sIvuBKfi0pDP0py1H

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

والدین کی خدمت کا صلہ

والدین کی خدمت کا صلہ

بنی اسرائیل کا ایک یتیم بچہ ہر کام اپنی والدہ سے پوچھ کر ان کی مرضی کے مطابق کیا کرتا تھا۔ اس نے ایک خوبصورت گائے پالی اور ہر وقت اس کی دیکھ بھال میں مصروف رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک فرشتہ انسانی شکل میں اس بچے کے سامنے آیا اور گائے خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ بچے نے قیمت پوچھی تو فرشتے نے بہت تھوڑی قیمت بتائی۔ جب بچے نے ماں کو اطلاع دی تو اس نے انکار کر دیا۔ فرشتہ ہر بار قیمت بڑھاتا رہا اور بچہ ہر بار اپنی اماں سے پوچھ کر جواب دیتا رہا۔ جب کئی مرتبہ ایسا ہوا تو بچے نے محسوس کیا کہ میری والدہ گائے بیچنے پر راضی نہیں ہیں لہٰذا اس نے فرشتے کو صاف انکار کر دیا کہ گائے کسی قیمت پر نہیں بیچی جاسکتی۔ فرشتے نے کہا کہ تم بڑے خوش بخت اور خوش نصیب ہو کہ ہر بات اپنی والدہ سے پوچھ کر کرتے ہو۔ عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ اس گائے کو خریدنے کے لئے آئیں گے تو تم اس گائے کی خوب بھاری قیمت لگانا۔ دوسری طرف بنی اسرائیل میں ایک آدمی کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور انہیں جس گائے کی قربانی کا حکم ملا وہ اسی بچے کی گائے تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لوگ جب اس بچے سے گائے خریدنے کیلئے آئے تو اس بچے نے کہا کہ اس گائے کی قیمت اس کے وزن کے برابر سونا ادا کرنے کے برابر ہے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں نے اتنی بھاری قیمت ادا کر کے گائے خرید لی۔ تفسیر عزیزی اور تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن میں لکھا ہے کہ اس بچے کو یہ دولت والدین کے ادب اور ان کی اطاعت کی وجہ سے ملی۔ تفسیر طبری میں بھی اسی طرح کا واقعہ منقول ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت و ادب کا کچھ صلہ اس دنیا میں بھی دے دیا جاتا ہے۔ منقول۔