نوحۂ غزہ پہلے ہمیں بھوک کی صلیب پر لٹکایا گیا پانی کے ایک ایک قطرے کو ترسایا گیا اور پھر، جب ہڈیوں میں ہوا نے بھی پناہ لینا چھوڑ دی ہمیں راشن کی قطاروں میں لگایا گیا نہ شہری کہا گیا، نہ انسان بلکہ ہدف، جسے دھکیل کر ذلت کی مٹی میں دفن کرنا تھا۔ جب ایک تھیلا آٹے کا قسمت سے ہاتھ آیا تو سینے کو چِیرتی ایک گولی نے کہا: "یہ تمہارے نصیب کا نہیں، میری بندوق کی مشق کا حصہ تھا۔" اسرائیل نے اپنے کم سن فوجیوں کو غزہ کی گلیوں میں تعینات کیا نہ کسی دشمن فوج سے مقابلہ تھا نہ کوئی عسکری مورچہ بس ایک معصوم بچہ تھا جسے روٹی کی تلاش میں مارا گیا اور پھر خوشی سے کندھے پر تھپکی دی گئی "نشانہ بالکل درست لگا!" یہ وہ تربیت گاہ ہے جہاں انسانی جان صرف نشانہ بازی کی ایک مشق ہے جہاں بھوک، پیاس اور قطار میں کھڑا ہونا فلسطینی کا جرم اور سزا دونوں بن گیا ہے اے آسمانِ صبر! اب کب برسیں گے وہ آنسو جو زمین پر بارود بن کر ٹوٹیں؟ اے ملتِ خاموش! کیا تمہاری نیند ایک روٹی کے تھیلے سے سستی ہے؟ کیا تمہارے ضمیر کی قفل شدہ آنکھ غزہ کی ان بے کفن لاشوں سے بھی نہیں کھلتی؟ ہم مر رہے ہیں لیکن صرف جسم نہیں لفظ، آہ، چیخ! اور نوحے بھی شہید ہو رہے ہیں رہ گئی ہے تو صرف بندوق اور اس کا سیدھا ہوتا نشانہ… فلسطینی بچوں کے سینوں پر

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دُم کٹا لومڑ

دُم کٹا لومڑ

ایک لومڑ کی دم پہ پتھر اَگرا، اور دم کٹ گئ۔ ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا! یہ تمنے اپنی دم کیوں کاٹی؟ دم کٹا لومڑ بولا اس سے بڑی خوشی وفرحت محسوس ھوتی ھے۔ایسے لگتا ھے کہ جیسے ھواوں میں اڑ رھا ھوں۔واہ!! کیا تفریح ھے! بس گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اسنے دم کاٹنے پر راضی کرہی لیا۔ اسنے جب یہ دم کٹائ کی مہم سرکرلی تو بجاے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ھونے لگا!! پوچھا میاں!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟ پہلا کہنے لگا جو ہوا سو ہوا! اب یہ درد کی داستان دوسرے لومڑوں کو سنائ تو انہوں نے دمیں نہیں کٹوانی اور ہم دو دم کٹوں کا مذاق بنتا رھےگا! بات سمجھ لگی تو یہ دونوں دم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دم کٹی ھوگئ۔ اب حالت یہ ھوگئ یہ جہاں کوئ دم والا لومڑ دکھلائ دیتا اسکا مذاق اڑایا جاتا! جب بھی فساد عام ہوکر پھیل جاتا ھے عوام نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت کعب سے روایت ہے کہ فرمایا لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائ جاوےگی جیسے کہ آجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائ جاتی ھے۔یہاں تک کہ آدمی کو طنزا کہا جاےگا کہ واہ بھئ! تم تو بڑے ایمان دار فقیہ بندے ھو!! بگڑا ھوا معاشرہ جب نیکوکارون میں کوئ قابلِ اعتراض بات نہیں تلاش کرپاتا تو انکی بھترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ھے! لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا نہی کہا تھا  نکال دو لوط کے گھر والون کو اپنی بستی سے!! یہ تو بھت نیک بنے پھرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرہ کی حقیقت ہے کہ جس میں ہم جیتے ہیں منقول