#سوشل_میڈیائی_عاشق چُونا لگارہا ہے محبت کے نام پر اُلو بنارہا ہے محبت کے نام پر پھولوں کے رس کے شوق میں بیتاب سا بھنورا چکر چلارہا ہے محبت کے نام پر علم و ادب کے جال کو لفظوں میں ڈھال کر باتوں میں لارہا ہے محبت کے نام پر خواہش کی بے لگام سواری پہ بیٹھ کر دوزخ کو جارہا ہے محبت کے نام پر باطل تصورات لیے جاگ جاگ کر خود کو تھکا رہا ہے محبت کے نام پر دل کو اسیرِ نفس کیا جان بوجھ کر اب تلملا رہا ہے محبت کے نام پر قلبی سکوں گنواکے محبت کے شوق میں ہنس کر ہنسا رہا ہے محبت کے نام پر ناجائز و حرام ہے دینِ مبین میں لذت جو پارہا ہے محبت کے نام پر ہدہدالہ آبادی



