اللہ نے انسان کو رشتوں کی صورت میں اپنی محبت اور رحمت کا عکس عطا فرمایا... ماں کی شکل میں ایک انمول تحفہ… باپ کی شکل میں ایک بے مثال محافظ… بھائی کی شکل میں ایک خاموش سہارا… بہن کی شکل میں ایک بے لوث ہمدردی… شوہر کی شکل میں ایک بااعتماد رفیقِ حیات… بیوی کی شکل میں سکونِ قلب اور راحتِ زندگی کا ذریعہ… بیٹے کی شکل میں نام، نسب اور طاقت کا وارث… بیٹی کی شکل میں محبت، شفقت اور رحمت کا استعارہ… نانا کی شکل میں علم و تجربے کا خزانہ… نانی کی شکل میں بے پایاں محبت اور ممتا کی خوشبو… ماموں کی شکل میں دوست نما مربی… خالہ کی شکل میں ماں جیسی شفقت کا عکس… دادا کی شکل میں وقار اور بزرگوں کی حکمت… دادی کی شکل میں دعاؤں کی برکت اور محبت کا چراغ… چچا کی شکل میں باپ جیسا سایہ اور ایک عظیم دوست… پھوپھی کی شکل میں خلوص، محبت اور خاندانی ربط… یہ تمام رشتے دراصل اللہ کی خاص نعمتیں ہیں، جو انسان کی زندگی کو معنی، محبت اور تحفظ عطا کرتے ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

رزق کا مالک کون؟

رزق کا مالک کون؟

✍🏻ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔ مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔ ملازم کی ‏تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔ مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟" ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ‏ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس دن میری والدہ وفات پا گئیں اسی دن آپ نے تنخواہ کم کر دی۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔" 🖋️پھر بولا، "صاحب، ‏یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔"