اللہ نے انسان کو رشتوں کی صورت میں اپنی محبت اور رحمت کا عکس عطا فرمایا... ماں کی شکل میں ایک انمول تحفہ… باپ کی شکل میں ایک بے مثال محافظ… بھائی کی شکل میں ایک خاموش سہارا… بہن کی شکل میں ایک بے لوث ہمدردی… شوہر کی شکل میں ایک بااعتماد رفیقِ حیات… بیوی کی شکل میں سکونِ قلب اور راحتِ زندگی کا ذریعہ… بیٹے کی شکل میں نام، نسب اور طاقت کا وارث… بیٹی کی شکل میں محبت، شفقت اور رحمت کا استعارہ… نانا کی شکل میں علم و تجربے کا خزانہ… نانی کی شکل میں بے پایاں محبت اور ممتا کی خوشبو… ماموں کی شکل میں دوست نما مربی… خالہ کی شکل میں ماں جیسی شفقت کا عکس… دادا کی شکل میں وقار اور بزرگوں کی حکمت… دادی کی شکل میں دعاؤں کی برکت اور محبت کا چراغ… چچا کی شکل میں باپ جیسا سایہ اور ایک عظیم دوست… پھوپھی کی شکل میں خلوص، محبت اور خاندانی ربط… یہ تمام رشتے دراصل اللہ کی خاص نعمتیں ہیں، جو انسان کی زندگی کو معنی، محبت اور تحفظ عطا کرتے ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

‏ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑھی والے سے پوچھا : " انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟" بوڑھے نے ادب سے جواب دیا: "بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔" عورت بولی: "میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔" بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا: "بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔" عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی، لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے یہ ایک خاموش ناانصافی تھی۔ ہم کیوں اکثر کمزور اور محتاج لوگوں کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ؟ اور کیوں سخاوت وہاں دکھاتے ہیں جہاں اس کی اصل ضرورت نہیں ہوتی ؟ میں نے کہیں ایک باپ کی کہانی پڑھی تھی جو ہمیشہ غریب ٹھیلے والوں سے چیزیں لیتے وقت قیمت سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ اس کے بچوں نے اس سے پوچھا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا: "یہ خیرات ہے، مگر عزت کے پردے میں لپٹی ہوئی۔" انگریزی ادب سے ماخوذ 🛑❤️