میں نے لغت کی کئی کتابوں کا قصد کیا اور ہر وہ لفظ جمع کیا جس سے (کسی کی) مدح اور تعریف کی جا سکتی ہو ، اس امید پر کہ میں علم کی ان الفاظ میں تعریف کر سکوں، اور میں نے اس (علم) کو ان سب سے بڑھ کر پایا، (یعنی میں نے کوئی ایسا لفظ ہی نہیں پایا کہ جس سے میں علم کی کما حقه تعریف کر سکوں) چنانچہ میں وجدان کی لغت کی طرف لوٹ آیا اور اس کے دیباچہ میں یہ دو کلمات تھے کہ انسان علم کے بغیر انسان ہی نہیں ہوتا (یعنی بغیر علم کے انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں) (النواة في حقول الحياة : ٥٢)



