السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 2 زمین و آسمان کی پیدائش اللہ تعالٰی نے پوری کائنات اور اس کی تمام چیزوں کو بےمثال پیدا کیا ہے ۔ قرآن مجید میں زمین و آسمان کی پیدائش کا تذکرہ کئی جگہ آیا ہے اور بعض جگہ صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ کس کو کتنے دنوں میں پیدا کیا ہے ۔ ان تمام آیتوں کو سامنے رکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ پہلے زمین کا مادّہ تیار کیا گیا اور وہ ابھی اسی حالت میں تھا کہ آسمان کے مادّے کو دھویں کی شکل میں بنایا گیا ، پھر زمین کو موجودہ شکل و صورت پر پھیلایا گیا اور ساتھ ہی اس کی تمام چیزیں پیدا کی گئیں ، اس کے بعد ساتوں آسمانوں کو بنایا گیا ۔ اس طرح زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں وجود میں آئیں ۔ یہ سارا کام کل چھ دن میں مکمل ہو گیا ۔ خود اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتا ہے: " ہم نے ہی زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا ہے ، اور ہمیں ان کی پیدائش میں تھکن کا کوئی احساس نہ ہوا ۔" ( سورۂ ق : 38 )

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خُدا کی کبریائی:

خُدا کی کبریائی:

​پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے سب مخلوقات کو فناء کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے ـ اس حیثیت سے بادشاہ اور غلام سب اس کے نزدیک برابر ہوئے ـ صرف خود کو بقاء کے ساتھ منفرد کیا اور قدامت میں بھی اپنے آپ کو واحد رکھا ـ اپنی قدرتوں کو دنیا وغیرہ میں جیسے چاہا استعمال فرمایا ـ سب کی حاجت مندی اس کے سامنے ظاہر ہوئی چاہے کوئی نیک تھا یا بد،گمراہ تھا یا ہدایت پر ـ يَسْاَلُـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِىْ شَاْنٍ (سورہ الرحمن ۲۹) ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں، وہ ہر روز کسی شان میں ہے۔ وہ بڑا فیاض ہے' اس کی عطاء نے سب کو ڈھانپ رکھا ہے' یہ گناہگار کہاں بھاگ سکے گا؟ گم گشتہ راہ کی تلافی کون کرے گا؟ کتنی بار ضامن سے قضاء مقابلہ کرچکی ہے ـ کتنے مردود لوگوں کو اپنی بارگاہ میں حاضری کی توفیق بخشی ہے ـ انسانوں کی قسمت میں گناہگاروں کو کتنا غافل کردیا ہے'انہی میں سے کوئی بدبخت بنا کوئی نیک بخت ـ إحدى وسِتُّون لو مرَّت علی حجرٍ لکان من حُکمھا أن یَخلَقَ الحجرُ تُــؤمِـلُ النّــفـسُ آمــالاً لـتبلُـغَـھَا کأنـھـا لا تــری مـا یــصنَـعُ الـقدر ترجمہ : (❶) اگر اکسٹھ برس کسی پتھر کو بھی گزر جائیں تو وہ بھی بوسیدہ پتھر شمار ہوگا ـ (❷) نفس بہت سی امیدوں تک پہنچنے کی امید میں ہے،گویا کہ اس کو یہ خبر نہیں کہ تقدیر کیا کرنے والی ہےـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب  :  آنسوؤں کا سمندر           (صفحہ نمبر ۱۹۳)  مصنف :  امام ابن جوزی رح ترجمہ  :  مولانا مفتی امداد اللہ انور صاحب