دارالعلوم دیوبند کے چند محترم و مؤقر اساتذۂ کرام کی تجارتی سرگرمیاں حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم (دارالمعارف النعمانیہ) حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب (شیخ الاسلام اکیڈمی اور محلہ خانقاہ دیوبند میں واقع مکان میں بجانب سڑک کرائے پر کئی بڑی بڑی دکانیں وغیرہ) حضرت مولانا مفتی امین پالن پوری (الامین کتابستان) حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی صاحب (مکتبہ نعمت) حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری (مکتبہ التذکیر) حضرت مولانا محمد ساجد ہردوئی (دارالمنار) حضرت مولانا مفتی محمد نسیم بارہ بنکوی (مکتبہ دعوت القرآن) حضرت مولانا مجیب اللہ گونڈوی (امان بکڈپو) حضرت مولانا محمد حسین ہریدواری (مکتبہ الاطہر) حضرت مولانا عارف جمیل مبارک پوری (مکتبہ علمیہ) حضرت مولانا مفتی اشرف عباس صاحب (مکتبہ ابن عباس) حضرت مولانا مفتی اشتیاق صاحب (مکتبہ ادیب) حضرت مولانا مصلح الدین صاحب (ریان بک ڈپو) حضرت مولانا کلیم الدین کٹکی (مکتبہ الفاروق) حضرت مولانا مفتی عبد اللہ معروفی (مکتبہ عثمانیہ) حضرت مولانا محمد علی بجنوری (ادارہ الصدق) حضرت مولانا محمد ارشد معروفی (ثنا پبلیکیشنز) ماضی قریب میں وفات پانے والے چند اکابر محدث کبیر حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری (مکتبہ حجاز) ادیب اریب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی (ادارہ علم و ادب) حضرت مولانا محمد جمال بلند شہری (مکتبہ جمال) شارح ھدایہ حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈوی (مکتبہ البلاغ) اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کرام کی دینی خدمات قبول فرمائے، ان کی اشاعتی و تجارتی سرگرمیوں میں برکت عطا فرمائے اور علماء و ائمہ حضرات کو حسب استطاعت و حسب موقع انھیں کے نقش قدم پر چلا کر دینی خدمت کے ساتھ معاشی استحکام عطا فرمائے. آمین

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہم نشینوں کے ساتھ

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے ہم نشینوں کے ساتھ

حضرت حسینؓ بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ابا جان سید نا علیؓ سے پوچھا کہ حضور ﷺ اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کیسے رہتے تھے؟ آپ نے فرمایا : آپﷺ خنده رو ، خوش اخلاق ، نرم خو تھے ، بداخلاقی سخت مزاجی ، شور و غل فحش گوئی ، عیب جوئی اور بخل و کنجوسی سے پاک تھے ، جو بات یا کام پسند نہ ہوتا تو اُس سے اعراض فرماتے ،کسی دوسرے کو پسند ہوتا تو اُسے منع کر کے مایوس نہ کرتے ، اور کوئی ناپسندیدہ بات کی دعوت دیتا تو اُسے قبول نہ فرماتے ؛ بل کہ خوش اسلوبی سے منع فرما دیتے ۔ تین باتوں سے خود کو محفوظ رکھتے تھے (۱) لڑائی، جھگڑا (۲) تکبر (۳) لا یعنی وبے کار بات اور تین باتوں سے لوگوں کو بچائے رکھتے تھے : (۱) کسی کی برائی نہ فرماتے ، (۲) کسی پر عیب نہیں لگاتے تھے، (۳) کسی کا عیب بھی تلاش نہ کرتے تھے ۔ وہی بات فرماتے جس میں ثواب کی امید ہوتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلم فرماتے تو صحابہ سر جھکائے سراپا گوش ہوتے ، ایسا لگتا جیسے اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ( کہ ذراسی جنبش سے اُڑ جائیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے تب صحابہ کرام بولتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ کرام کسی بات پر لڑتے جھگڑتے نہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہا ہوتا تو سب اس کے فارغ ہونے کا خاموشی سے انتظار کرتے ہر ایک کی بات بہ غور سماعت فرماتے ، صحابہ کسی بات پر ہنستے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے ، وہ کسی بات پر حیرت ظاہر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی متعجب ہوتے ، کوئی اجنبی مسافر سخت لب ولہجہ میں بات کرتا اور کچھ مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحمل سے کام لیتے ، ( اور اس کی باتوں کا صبر کے ساتھ جواب دیتے ) حتی کہ صحابہ کرام ایسے کسی بدو کو پکڑ لے آتے ، تاکہ اُس کے سوالات سے صحابہ کو علمی فائدہ ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : کہ کسی ضرورت مند سائل کو دیکھو کہ وہ کچھ مانگ رہا ہے تو اس کی ضرورت پوری کروں کسی کے ساتھ حسن سلوک پر بے جا تعریف سننا پسند نہ فرماتے تھے ، ہاں کلمات تشکر ادا کرنے کی حد تک گنجائش ہوتی۔ کسی کی بات نہ کاٹتے تھے ، ہاں اگر حد سے تجاوز کرتا تو منع فرما دیتے یا وہاں سے چلے جاتے ۔ (شمائل الترمذی: ۳۳۶) (کتاب : ماہنامہ اشرف الجرائد حیدرآباد ستمبر۔ ص:۲۵۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)