السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 4 جنّات کی پیدائش قرآن و حدیث میں جنوں کا تذکرہ کثرت سے آیا ہے ، انسانوں سے پہلے ہی ان کی پیدائش ہوئی چکی تھی ، اللہ تعالٰی نے ان کو آگ سے پیدا فرمایا ، ایک طویل زمانے تک وہ زمین میں آباد رہے ، پھر انہوں نے فساد مچانا اور خون بہانا شروع کیا ، تو اللہ تعالٰی نے فرشتوں کے ذریعے انہیں سمندر کے جزیروں اور دور دراز پہاڑوں کی طرف بھگا دیا ۔ ابلیس بھی جنّات میں سے تھا لیکن کثرت عبادت کی وجہ سے فرشتوں کا سردار بنا دیا گیا تھا ۔ لیکن جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا ، تو اس نے تکبّر کیا ، اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے دھتکار کر اس کو دنیا میں بھیج دیا اور اس سے تمام نعمتیں چھین لیں ۔اس طرح تکبّر نے اسے ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا کر دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس دنیا میں انسان و جنّات دونوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجے گئے تھے ، چنانچہ احادیث میں جِنوں کو اسلام کی دعوت دینے کا ذکر موجود ہے اور قرآن مجید میں جنّات کی ایک جماعت کے ایمان لانے کا بھی تذکرہ موجود ہے ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یاد میں تیری سب کو بھلا دوں

یاد میں تیری سب کو بھلا دوں

حضرت یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ جن کو حقائق و دقائق پر مکمل دسترس حاصل تھی ، اور جن کے متعلق بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انبیاء میں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما الصلوۃ والسلام کا مقام ہے اسی طرح بزرگان دین میں حضرت یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیثیت ہے۔ تاثر آمیز مواعظ کی وجہ سے آپ کو واعظ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ آپ کے ایک بھائی بحیثیت مجاور کے مکہ معظمہ میں بھی مقیم تھے اور انہوں نے وہاں سے تحریر کیا کہ مجھے تین چیزوں کی بے حد تمنا تھی اول یہ کہ کسی متبرک مقام پر سکونت کا موقعہ مل جائے، دوم یہ کہ میری خدمت کے لئے ایک نیک خادم بھی ہو، لہذا یہ دونوں خواہشیں پوری ہو گئیں۔ اب تیسری خواہش یہ ہے کہ مرنے سے پہلے ایک مرتبہ آپ سے ملاقات ہو جائے یہ میری دلی خواہش ہے خدا سے دعا کیجئے کہ وہ اپنی قدرت سے یہ تمنا بھی پوری کر دے، آپ رحمہ اللہ تعالٰی نے جواب میں یہ تحریر فرمایا کہ انسان کو تو بذات خود متبرک ہونا چاہئے تا کہ اس کی برکت سے جائے قیام بھی متبرک ہو جائے، دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو تو خود خادم بننا چاہئے تھا نہ کہ مخدوم ، انسان کی شان ہی غلامی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپ خدا کی یاد سے غافل نہ ہوتے تو میں آپ کو ہرگز یاد نہ آتا۔ لہذا یاد الہی میں بہن بھائی بیوی بچے سب کو فراموش کر دینا چاہئے ، اگر آپ دنیا میں عبادت سے خدا ہی کو راضی نہیں کر سکتے تو پھر مجھ سے ملاقات بھی بے سود ہے۔ ( تذکرۃ الاولیاء : صفحه ۱۷۳) خواجہ مجذوب فرماتے ہیں۔ یاد میں تیری سب کو بھلا دوں کوئی نہ مجھ کو یا در ہے تجھ پر سب گھر بار لٹا دوں خانہ دل آباد رہے سب خوشیوں کو آگ لگا دوں غم سے ترے دل شاد رہے سب کو نظر سے اپنی گرادوں تجھ سے فقط فریا د رہے اب تو رہے بس تا دم آخر ورد زباں اے میرے اله لا اله الا الله لا اله الله (کتاب : اسلاف کی یادیں۔ صفحہ: ۲۲۷۔۲۲۸ ۔ مصنف: حضرت مولانا مفتی اسد اللہ عمر نعمانی۔ ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)