السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 4 جنّات کی پیدائش قرآن و حدیث میں جنوں کا تذکرہ کثرت سے آیا ہے ، انسانوں سے پہلے ہی ان کی پیدائش ہوئی چکی تھی ، اللہ تعالٰی نے ان کو آگ سے پیدا فرمایا ، ایک طویل زمانے تک وہ زمین میں آباد رہے ، پھر انہوں نے فساد مچانا اور خون بہانا شروع کیا ، تو اللہ تعالٰی نے فرشتوں کے ذریعے انہیں سمندر کے جزیروں اور دور دراز پہاڑوں کی طرف بھگا دیا ۔ ابلیس بھی جنّات میں سے تھا لیکن کثرت عبادت کی وجہ سے فرشتوں کا سردار بنا دیا گیا تھا ۔ لیکن جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا ، تو اس نے تکبّر کیا ، اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے دھتکار کر اس کو دنیا میں بھیج دیا اور اس سے تمام نعمتیں چھین لیں ۔اس طرح تکبّر نے اسے ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا کر دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس دنیا میں انسان و جنّات دونوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجے گئے تھے ، چنانچہ احادیث میں جِنوں کو اسلام کی دعوت دینے کا ذکر موجود ہے اور قرآن مجید میں جنّات کی ایک جماعت کے ایمان لانے کا بھی تذکرہ موجود ہے ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی دعوت __!!

حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی دعوت __!!

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کا مظفر نگر میں ایک تھانیدار معتقد تھا۔ ایک دن اس نے حضرت مولانا نانوتوی کی دعوت کی، مولانا نے دیکھا تھا کہ تھانیدار کی کمائی مشتبہ اور مشکوک ہے اس وجہ سے اس کی دعوت کو نامنظور فرما دیا ۔ تھانیدار نے دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ معلوم کی تو حضرت نے فرمایا میں معذور ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر آپ بیمار ہوں تو علاج کرادوں۔ حضرت نے فرمایا نہیں کوئی اور عذر ہے۔ اس نے کہا اگر جانے میں تکلیف ہو تو سواری کا انتظام کر دوں۔ حضرت نے فرمایا یہ مجبوری نہیں بلکہ دوسرا عذر ہے۔ اس نے پھر درخواست کی کہ کھانا آپ کے یہاں بھیج دوں۔ آپ نے انکار فرمایا اس نے عرض کیا میں خود حاضر ہوکر کھانا پیش کروں گا۔ حضرت نے صاف انکار فرما دیا۔ وہ تھانیدار ایک دم غصہ ہوگیا اور کہا کہ آپ نہ بزرگ ہیں اور نہ نیک کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دعوت قبول کرو اور آپ قبول نہیں کرتے۔ اس پر مولانا نانوتوی نے فرمایا کہ جو عیوب تونے بیان کئے ہیں۔ ان سے زیادہ عیوب کا مرتکب اور مستحق ہوں ۔اس وقت تھانے دار کو ہوش آیا اور سوچا تو معلوم ہوا کہ حضرت میری دعوت میرے مال کے مشتبہ ہونے کی وجہ سے رد فرمارہے ہیں ۔اس نے ای دن سے تھانیداری چھوڑ دی۔ کچھ دنوں بعد پھر دعوت کی اور عرض کیا کہ: حضرت! اب میری اپنی جائیداد کی حلال کمائی ہے آپ کی دعوت کرتا ہوں‘ مولانا محمد قاسم صاحب نے دعوت منظور فرمانی اور اس سے فرمایا کہ ” ملازمت بھی کرو لیکن دیانتداری سے کام لو کیونکہ تھانیداری کرنا دیانت داری کے ساتھ تمام بھلائیوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ محتسب کے درجہ میں تھانے دار ہوتا ہے۔“ ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ