السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 5 حضرت آدم علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام وہ پہلے انسان ہیں جن سے دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ابتدا ہوئی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا خمیر تیار کرنے سے پہلے فرشتوں سے کہا: " عنقریب میں مٹی سے ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جسے زمین میں ہماری خلافت کا شرف حاصل ہو گا۔" چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا ، پھر اللہ تعالٰی نے اس میں روح پھونک دی ، تو اسی وقت وہ زندہ انسان بن گئے ، ان کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ، تو تمام فرشتے اللہ تعالٰی کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے سجدہ میں گر گئے ، مگر شیطان نے اپنی بڑائی اور تکبر کی وجہ سے انکار کردیا اور کہنے لگا: " میں اس سے بہتر ہوں ، کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔" اس طرح شیطان اللہ کے حکم کو نہ مان کر ہمیشہ کے لیے اللہ کی لعنت کا مستحق بن گیا ، اور اُسی وقت سے وہ حضرت آدم علیہ السلام اور اُن کی اولاد کا دشمن بن گیا ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ کا ایک واقعہ

حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ کا ایک واقعہ

حضرت عبداللہ ابن عمر یا ایک دفعہ سفر پر جا رہے تھے، غالبا حج یا عمرے کا سفر تھا، صاحب حیثیت عربوں کی عادت کے مطابق آپ سفر پر جاتے ہوئے سواری کے اونٹ کے ساتھ ایک خچر نما گدھا بھی لے گئے (عربوں کے گدھے ہمارے ہاں کے گدھوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ہاں کے خچروں کی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں ) ۔ ہوتا یہ تھا کہ دوران سفر جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو کچھ دیر کے لئے گدھے پر سوار ہو جاتے۔ اس پر پالان بھی تھا راستہ میں ایک غیر معروف مقام پر ایک دیہاتی بدو سامنے آیا ، آپ فوراً اترے اور بڑی عزت سے پیش آئے پھر اپنی پگڑی اٹھائی اور دیہاتی کے سر پر رکھی اور وہ گدھا اس کے سپرد کر دیا، حضرت ابن عمرؓ کے رفقاء اور شاگردوں نے کہا کہ آپ نے ایک دیہاتی کو پوری سواری دے دی ، عمامہ دے دیا ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ صاحب میرے والد کے دوست ہیں اور پھر وہ حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ والد کے ساتھ ایک نیکی یہ بھی ہے کہ ان کے دوستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اور اچھے برتاؤ کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ اس کے لئے دعا کرے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب انسان دوسرے کے لئے دعا کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے فرشتہ وہاں کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے : ” ولک مثل ذالک“۔ ہاں تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ معصوم فرشتہ جب دعا کرے تو اس کی قبولیت یقینی ہے۔ (کتاب: ماہنامہ فلاح دارین کراچی(نومبر) صفحہ نمبر: ۲۱ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)