السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 5 حضرت آدم علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام وہ پہلے انسان ہیں جن سے دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ابتدا ہوئی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا خمیر تیار کرنے سے پہلے فرشتوں سے کہا: " عنقریب میں مٹی سے ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جسے زمین میں ہماری خلافت کا شرف حاصل ہو گا۔" چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا ، پھر اللہ تعالٰی نے اس میں روح پھونک دی ، تو اسی وقت وہ زندہ انسان بن گئے ، ان کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ، تو تمام فرشتے اللہ تعالٰی کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے سجدہ میں گر گئے ، مگر شیطان نے اپنی بڑائی اور تکبر کی وجہ سے انکار کردیا اور کہنے لگا: " میں اس سے بہتر ہوں ، کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔" اس طرح شیطان اللہ کے حکم کو نہ مان کر ہمیشہ کے لیے اللہ کی لعنت کا مستحق بن گیا ، اور اُسی وقت سے وہ حضرت آدم علیہ السلام اور اُن کی اولاد کا دشمن بن گیا ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​ایک قدیم سندھی عالم کا کلمۂ حکمت :

​​ایک قدیم سندھی عالم کا کلمۂ حکمت :

اِمام ابونصر فتح بن عبداللہ سندھیؒ دُوسری صدی ہجری کے اُن علماء میں سے ہیں جو سندھی نژاد تھے، اور سندھ میں مسلمانوں کے داخلے کے بعد مشرف باسلام ہوئے تھے ، اور مسلمان ہونے کے بعد تفسیر،حدیث،فقہ اور کلام کے مُسلَّم عالم مانے گئے، علامہ سمعانیؒ نے ان کا یہ واقعہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے: عبداللہ بن حسین کہتے ہیں کہ ایک روز ہم ابونصر سندھی کے ساتھ دُھول اور کیچڑ میں اَٹی ہوئی زمین پر چلے جا رہے تھے، اُن کے بہت سے معتقدین بھی ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک عرب شہزادہ مدہوشی کی حالت میں زمین پر خاک اور کیچڑ میں لت پت پڑا ہے، اس نے ہماری طرف نظر اُٹھا کر دیکھا تو ابونصرؒ نے منہ قریب کر کے سونگھا، اس کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی تھی ـ شہزادہ نے ابونصرؒ سےکہا: "او غلام! میں جس حالت میں پڑا ہوں تم دیکھ رہے ہو، لیکن تم ہو کہ اطمینان سے چلے جا رہے ہو،اور اتنے سارے لوگ تمہارے پیچھے پیچھے ہیں"؟ ابونصرؒ نے بے باکی سے جواب دیا: " شہزادے! جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟ بات یہ ہے کہ میں نے تمہارا آباء و اجداد ( صحابہ ؓ و تابعین ؒ ) کی پیروی شروع کردی ہے،اور تم میرے آباء و اجداد ( کافروں کے) نقشِ قدم پر چل پڑے ہو ـ" (الأنساب للسمعانیؒ ورق: ۳۱۳ ومعجم البلدان ج: ۳ ص: ۲۶۷، ماخوذ اَز فقہائے ہند، مرتبہ: محمد اسحاق بھٹی جلد: ۱ ص: ۸۰ و ۸۱) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تراشے 📔 (صفحہ نمبر : ۵۷،۵۸ ) تالیف : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ