امام مالک رحمہ اللہ اور عظمتِ رسول .... !! تاریخ میں ہے کہ ایک بار حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے ان کے زمانے کا بادشاہ امیر المؤمنین ابو جعفر المنصور نے مسجدِ نبوی میں کسی سلسلے میں بحث کی اور اس کی آواز بلند ہو گئی ، تو امام مالک رحمہ اللہ نے فرما یا کہ اے امیر المؤمنین ! اس مسجد میں آواز بلند نہ کریں ۔ اللہ نے صحابہ کی ایک جماعت کو یہ ادب سکھایا : { لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ } ترجمہ ( اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو ) اور ایک جماعت کی تعریف اس طرح کی : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ أَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ } ترجمہ ( جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آواز کو پست کر لیتے ہیں ) اور پھر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ، وفات کے بعد بھی اسی طرح ہے جیسے زندگی میں ہو تی ہے ۔ ( ترتیب المدارک للقاضی عیاض : ۱ ؍ ۶۸ ، خلاصۃ الوفاء للسمھودي : ۱ ؍ ۵۱ )

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

تمہارا مقام اور اللہ کی مرضی

تمہارا مقام اور اللہ کی مرضی

کسی بزرگ نے کیا ہی فرمایا : اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ اللہ کے نزدیک تمہارا مقام کیا ہے، تو دیکھو وہ تمہیں کس کام میں مشغول رکھتا ہے: اگر وہ تمہیں اپنے ذکر میں مشغول رکھے، تو جان لو کہ وہ تمہیں یاد رکھنا چاہتا ہے۔ اگر تمہیں قرآن میں مصروف کرے، تو سمجھ لو کہ وہ تم سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے۔ اگر تمہیں نیک اعمال میں مصروف کرے، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔ اگر دنیاوی معاملات میں الجھائے، تو یہ سمجھو کہ تمہیں دور کر رہا ہے۔ اگر تمہیں لوگوں کے معاملات میں مصروف رکھے، تو یہ جان لو کہ وہ تمہیں بے وقعت کرنا چاہتا ہے۔ اگر دعا میں مشغول کرے، تو یقین کرو کہ وہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے۔ اگر فائدہ مند علم میں مصروف کرے، تو وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی معرفت حاصل کرو۔ اگر تمہیں جہاد فی سبیل اللہ میں لگائے، تو وہ تمہیں اپنے لیے چننا چاہتا ہے۔ اگر خدمت خلق اور بھلائی کے کاموں میں مشغول کرے ، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت والے کاموں میں لگا رہا ہے۔ اور اگر تمہیں غیر ضروری کاموں میں مصروف کرے ، تو سمجھو کہ تمہیں اپنی محبت سے نکال رہا ہے۔ اگر تمہیں دین میں تحریف یا ایسے کاموں میں مشغول رکھے جو اسکی نافرمانی کے ہوں تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت سے محروم کر رہا ہے اور اگر تمہیں اپنے بندوں کو تکلیف اور اذیت پہنچانے میں مصروف رہنے دے، تو جان لو کہ تمہیں خیر سے محروم کیا جا رہا ہے لہذا، اپنے حال پر غور کرو کہ تم کس کام میں مشغول ہو، کیونکہ تمہارا مقام وہی ہے جہاں اللہ نے تمہیں مصروف رکھا ہے۔۔ اللّٰه اللّٰه اللّه _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔