دوسری شادی😅 مزاحیہ کہتے ہیں بھلے وقتوں میں ماہرین فن اساتذہ کے ہاں بڑی عمر کے شادی شدہ طلباء بھی پڑھا کرتے تھے، اسی طرح ایک استاد کے پاس ایک طالب علم زیر تعلیم تھا، استاد کی دو شادیاں تھیں اور طالب علم کی ایک۔ استاد روز طالب علم سے کہتا، ایک شادی میں کیا مزا، اصل مزا تو دوسری شادی میں ہے شاگرد سن سن کر آخر دوسری شادی پر آمادہ ہو گیا۔ دوسری شادی والے دن ہی دوستوں میں کچھ دیر ہوئی، نئی دلہن کے در پر پہنچا تو دروازہ بند۔ کھٹکھٹایا، جواب ملا جاؤ اسی چڑیل کے پاس جس کے پاس اب تک بیٹھے تھے ،، یہاں تو پانی پت کی لڑائی چھڑنے کو تھی۔ سمجھانے کی کوشش کی کہ بھلی مانس دوستوں کے پاس تھا، پر بیوی کا شک کیسے نکلے، اس کے علاج سے تو حکیم لقمان بھی عاجز ٹھہرے، سو نہ مانی۔ سوچا چلو پہلی بیوی تو کہیں گئی نہیں۔ وہیں جاتا ہوں، آخر جاڑے کی رات بھی تو گزارنی ہے۔ وہاں گیا وہ دروازہ بھی بند، کھٹکھٹایا ، جواب ملا جو نئی بیاہ کر لائے ہو وہیں جا مرو اب یہاں کیا لینے آئے ہو؟ منت سماجت کی کہ وہ بھی دروازہ نہیں کھول رہی۔ یہ اور شیر ہو گئی کہ مجھے کیا پڑی ہے دروازہ کھولنے کی ۔ سوچا چلیں مسجد چلتے ہیں کہ در بدروں کا ٹھکانہ وہی ہے۔ کوئی دری یا صف لپیٹ کر رات کی سردی کا مقابلہ تو کریں۔ افتاں و خیزاں مسجد پہنچے، لائٹ کا دور تھا نہیں ، دیا جلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اندھیرے میں صف کو ہاتھ ڈالا تو کچھ نرم نرم چیز محسوس ہوئی، اندھیرے میں استاد جی کی آواز بلند ہوئی، آخر آہی گئے ہو ۔ روز میں یہاں اکیلا ہوتا تھا سوچا چلیں دو تو ہوا کریں گے !!! 🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )