ہمارے بچپن کی وہ افواہیں ، جو آج بھی ہمیںں یاد آتی ہیں ۔😉😉 تو پھر چلیں ، مل کر وہ افواہیں ، وہ یادیں تازہ کرتے ہیں ۔ جیسے کہ: پینسل کے کچرے کو دراز میں رکھنے سے تتلی بن جاتی ہے ۔ 😂😂 تربوز (یا کسی پھل ) کا بیج کھا لیا تو پیٹ میں درخت اگ آئے گا۔😂😂 سبزیوں کے اتنے فوائد گنوائے جاتے تھے جو خود سبزیوں کو بھی پتہ نہیں ہونگے😂😂) چاند پر بڑھیا چرخا چلا رہی ہے ۔😁😁 چاندنی رات میں پریاں آئیں گی ۔😂😂 چارپاٸی پر چپل سمیت بیٹھ جانے سے سانپ آجاتا ہے ۔😂😂 ٹوٹا ہوا دانت گھر کی چھت پر پھینک کر یہ کہنے سے کہ: "چڑیا چڑیا پرانا دانت لے جا اور نیا دے جا" نیا دانت مل جاتا ہے ۔ 😁😁 ٹیچر کی کرسی پر بیٹھو گے تو فیل ہو جاو گے😂😂😜 پتیلی میں کھانا کھانے سے شادی میں بارش ہوتی ہے ۔😂😂 قینچی کو خالی چلانے سے گھر میں لڑاٸی ہوتی ہے ۔😂😂 آلتو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو ، بولنے سے ٹیچر نہیں ماریں گی😂😂 نمک گرتے ہی پانی بہاؤ ورنہ قیامت کے دن پلکوں سے اٹھانا پڑے گا ۔😂😂 مغرب سے پہلے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ کیونکہ مغرب کے بعد سر کٹا نکلتا ہے اوروہ بچوں کو مار دیتا ہے ۔😂😂 پنسل کے کچرے کو دودھ میں پکانے سے ریزر بنتی ہے ۔😂😂 ہمارا اسکول قبرستان پر بنا ہوا ہے ۔😂 ’’جُھوٹ بولو گے، تو زُبان کالی ہوجائے گی ۔ 😂😂 حالانکہ بظاہر یہ بھی ایک جھوٹ تھا 😂😂 مچھلی کھانے کے بعد پانی مت پینا ورنہ وہ پیٹ میں تیرے گی ۔😂😂 کوئی آپ کے اوپر سے پھلانگے تو آپ کا قد چھوٹا رہ جائے گا 😂😂

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خوفِ الٰہی بھی معرفت کا نتیجہ ہے _!!

خوفِ الٰہی بھی معرفت کا نتیجہ ہے _!!

امام جلال الدین رومی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی سفر پر نکلا ، جنگل میں چلتا رہا ، جنگل میں بہت دور چلنے کے بعد اُسے تھکان ہوئی اور تھکان کی وجہ سے نیند غالب ہوگئی ، اس نے سوچا کہ کہیں آرام کرلوں ؛ لیکن آرام کرنے اس لئے ہمت نہیں ہوئی کہ جنگل کا راستہ ہے جنگل کے راستے میں کیسے آرام کروں ؟ سوچتا رہا کہ کوئی چیز مجھے ایسی مل جائے ؛ جس کی وجہ سے مجھے کچھ سہارا مل جائے ، تو میں آرام کرلوں ، بہت آگے جانے کے بعد دیکھا کہ ایک جانور سویا ہوا ہے ، اس نے کہا کہ بہت اچھا ، یہ کوئی و جانور سو رہا ہے ، میں بھی اس کے بازو سو جاؤں ۔ چنانچہ جانور کے بازو ، وہ بھی جاکر لیٹ گیا ، نیند کا اتنا غلبہ تھا ، تھکان ایسی تھی کہ بس پڑتے ہی نیند لگ گئی ، کچھ دیر بعد اسی راستے سے ایک دو آدمی آرہے تھے ، پیچھے سے آتے آتے جب وہ وہاں پہنچے ، تو ایک عجیب منظر انھوں نے دیکھا کہ ایک انسان سویا ہوا ہے اور اس کے بازو جو جانور سویا ہوا ہے ، وہ حقیقت میں شیر ہے ، یہ لوگ بہت پریشان ہوئے کہ کہیں یہ شیر جاگے اور اس بے چارے کو کھا جائے ۔ انھوں نے آہستہ سے سونے والے کو آواز دی اور جگایا ، جب وہ جاگا تو ان لوگوں نے اس سے کہا کہ کہاں سوئے ہو ؟ وہ تمھارے بازو شیر ہے شیر ! بس جناب اتنا سنتے ہی وہ گھبرایا پریشان ہوا اور ڈر کے مارے اس کی جان نکل گئی اور مرگیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف بھی معرفت و پہچان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ، اگر معرفت و پہچان نہ ہو ؛ تو خوف نہیں آسکتا ، جب پہچان ہوگی ؛ تو خوف آجائے گا۔ دیکھیے! جب تک اسے شیر کی معرفت و پہچان نہیں تھی ، تو اس پر شیر کا خوف بھی پیدا نہیں ہوا ، جیسے ہی شیر کی معرفت حاصل ہوئی ، تو اس کا خوف بھی پیدا ہوا اور وہ مر گیا ہے۔ اسی طرح جب اللہ کی پہچان انسان کو ہوجاتی ہے کہ اللہ کتنا بڑا اور زبردست ہے ، کتنی بڑی طاقت والا ہے ؟ وہ کیا سے کیا کرسکتا ہے ؟ جب یہ پہچان اللہ کی انسان کو ہوگی ، تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کے دل کے اندر کوئی ہلچل نہ مچے اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ ہو ۔ ____📝📝📝____ کتاب : واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے ۔ صفحہ نمبر: ٧٨-٧٩۔ صاحب کتاب : حضرت مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی ۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔