کیاڈیجیٹل دور میں مطالعہ ممکن ہے ؟ جی ہاں ممکن ہی نہیں بلکہ آسان بھی ہے ، بس انسان شوشل میڈیا کے استعمال کی حدیں مقرر کرلے، کن پلیٹ فارم سے فائدہ ممکن ہو گا، کن ایپلیکیشنس کو استعمال کرنا چاہئے اس سے آگاہی حاصل کرلے، اگر ٹیکنالوجی کا صحت مند استعمال پورے ہوش و حواس کے ساتھ اس کے فوائد و نقصانات کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو کتب بینی کی بہت ساری راہیں ہموار ہوں گی ، غریب اور متوسط طبقہ کتابوں کے اخراجات تلے دبنے سے بچ جائے گا، ٹیکنالوجی کی وجہ سے تعلیمی سطح میں اضافہ ہوا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۰ ء کے بمقابلے میں ۲۰۲۲ء میں مصنفین اور ادیبوں کی تعدا میں مزید ۳۲ فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ بجا ہے کہ لوگ آف لائن کتب بینی کو آن لائن پر ترجیح دیتے ہیں لیکن آن لائن کی تعدا میں مزید ۳۲ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن آن لائن کتب بینی کی وجہ سے مطالعہ کرنے والوں کے فیصد میں اضافہ بھی ہو تا جا رہا ہے۔ (کتاب : ماہنامہ الرشید لکھنؤ نومبر ۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اسرائیل سے متعلق تین موقف

اسرائیل سے متعلق تین موقف

موجودہ دور میں اسرائیل سے متعلق تین موقف پائے جاتے ہیں : نمبر(۱) اسرائیل، امریکہ وغیرہ: ان کا موقف ہے کہ : بیت المقدس سمیت فلسطین کے جتنے حصے پر اسرائیل قابض ہے، وہ اسرائیل کا حصہ ہیں۔ جلا وطن کیے گئے فلسطینی جہاں کہیں جائیں، فلسطین میں اُن کی کوئی جگہ نہیں۔ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا۔ نمبر (۲) ترکی ، اردن ، مصر: وہ اسلامی ممالک، جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے، اُن کا موقف یہ ہے کہ: ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے جو رقبہ اور حدود اسرائیل کے لیے طے کیا تھا، اسرائیل اُن کے اندر رہے، بیت المقدس اور باقی فلسطین کو آزاد کرے۔ وہ اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔ نمبر (۳) پاکستان اور سعودیہ عرب وغیرہ: وہ ممالک جنھوں نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ : یہودی پورے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ ختم کریں، اُن کے پاس یورپی ممالک کی شہریتیں موجود ہیں۔ وہ ۱۹۲۲ء میں اور اس کے بعد جہاں جہاں سے اُٹھ کر فلسطین آئے تھے، وہاں واپس جائیں۔ اور قضیہ فلسطین کا حل ۱۹۴۸ء کے بجائے ۱۹۱۷ء کی پوزیشن پر حل کیا جائے ۔ جب خلافت عثمانیہ کی عملداری تھی اور فلسطین کے اندر کسی یہودی کو مستقل رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ (ماہنامہ صفدر اکتوبر/ ص: ۱۰)