سوال : ایک شخص مسلمان کے گھر پیدا ہو تو اسکے مسلمان ہونے کے چانسز 95 پرسنٹ ہیں، جبکہ دوسرا کافر کے گھر پیدا ہو ا سکے مسلمان ھونے کے چانس 3 پرسنٹ ھیں ، کیا یہ بے انصافی نہیں؟ کہ ایک کو جنت میں جانے کے 95 پر سنٹ چانس ملیں جبکہ دوسرے کو صرف 3 پر سنٹ جواب : بلوغت کے بعد عقل کافر کے گھر میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی ملتی ہے اور مسلمان کے گھر پیدا ہونے والے بچے کو بھی ۔ اللہ کی عطاء کردہ عقل کے ذریعہ اللہ کی نشانیوں پر غور کر کے اللہ تک پہنچنے کا راستہ کافر کے گھر پیدا ہونے والے بچے کو بھی میسر ہے۔ اسی طرح بے شک ماحول کا اثر ہوتا ہے لیکن اس وقت پوری دنیا میں ذرائع ابلاغ کے عام ہونے کی وجہ سے دعوت اسلام کی صدا ہر جگہ پہنچ چکی ہے۔ اتمام حجت ہو چکا ہے ، اسلامی تعلیمات و اخلاقیات کا حسن ہر طرح کے کافر کو اسلام کا گرویدہ کر رہا ہے ایسی صورتحال میں اگر کوئی شخص بالغ عاقل ہو کر بھی اسلام و ایمان نہ لائے تو کس کا قصور ہے۔۔۔؟ اگر اسلام کی دعوت یا عقل کافر کے بچوں کو نہیں دی جاتی تو پھر انصاف پر کوئی سوال اٹھایا جا سکتا تھا۔ دوسرا جواب : جو کہا جا رہا ہے کہ ایک شخص جو مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہے ، اسکے مسلمان ہونے کے چانس 95 پرسنٹ ہیں ، جبکہ دوسرا جو کافر کے گھر پیدا ہوا ہے ، اس کے مسلمان ہونے کے چانس 3 پرسنٹ ہیں۔ ایک شخص کا مسلمانوں کے گھر پیدا ہونا اور دوسرے کا کافر گھر پیدا ہونا یہ مسلمان اور کافر ہونے کیلیے معیار نہیں ہے ، اصل معیار ایمان اور عمل صالح ہے ، اگر ایک شخص مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہے ، لیکن اسکا اللہ کی ذات پر ایمان ہی نہیں ہے ، تو وہ مسلمان کے گھر پیدا ہونے کے باوجود مسلمان نہیں ہو سکتا، جبکہ دوسرا جو کافر کے گھر پیدا ہوا ہے ،اگر وہ صاحب ایمان ہے ، تو کافر کے گھر پیدا ہونے کے باوجود وہ شخص مسلمان کہلایا جائیگا ۔ تیسری بات : ہمیں کسی کے بارے کوئی بھی حتمی علم نہیں ہے ، کہ کون بندہ مسلم ہے اور کون نہیں اسلیے یہاں عدل و انصاف کا سوال ہی بے سود ہے ، اگر ہمیں کسی کافر کے بارے حتمی علم ہوتا کہ یہ آخر دم تک کافر رہیگا ، کافر ہو کر مریگا ، یا ایک شخص کے بارے حتمی طور پر علم ہوتا کہ یہ پکا مسلمان ہے اور تازیست مسلمان ہی ہوگا اور مسلمان ہو کر مریگا تب ہم سوال اٹھا سکتے تھے ، لیکن جب ہمیں دونوں کے بارے کوئی حتمی علم ہی نہیں کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی تو انصاف کا سوال بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ مثال : ایک شخص پر قتل کا الزام ہے ، اور جنہوں نے اس پر الزام لگایا ہے وہ قاضی سے مطالبہ کر رہیں کہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور اس قاتل کو سزادی جائے لیکن قاضی اور جج ان سے شواہد کا مطالبہ کریگا قطعی علم کا مطالبہ کریگا کہ آپ اس کے چشم دید گواہ ہیں ؟ جب تک ملزم شخص کے بارے قطعی اور حتمی علم نہیں ہو جاتا اس کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہیں مل جاتے تب تک قاضی انصاف کی کرسی نہیں لگائیگا اور محض دعوی کی بنیاد پر انصاف نہیں کریگا ۔ اسی مثال پر بندے کے کافر و مسلمان ہونے کو منطبق کریں کہ اس دنیا میں ہم سے کسی کو بھی کسی کے بارے کوئی قطعی اور حتمی علم نہیں ہے ، کہ یہ بندہ مسلمان ہو کر مریگا اور یہ کافر ہو کر جب کسی کے بارے کوئی قطعی علم ہے ہی نہیں تو ہم اللہ (جج) سے کس طرح مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اس سے انصاف کیا جائے۔ نا انصافی پر ایویڈنس ہوں تب انصاف کیا جائیگا نہ ! محض تخیلات کی بنا پر انصاف کی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ! بروز قیامت چونکہ ہم میں سے ہر کوئی ایک دوسرے کا چشم دید گواہ ہو گا اس وقت اگر کسی سے نا انصافی ہو تو اللہ سے مطالبہ کیا جا سکتا ہے ، کہ اسے انصاف دیا جائے لیکن اس دن تو کسی سے نا انصافی ہی نہیں ہو گی بلکہ ہر کسی کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائیگا وما اللہ بظلام للعبيد -

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو رحْـمٰن کہنا جائز نہیں :

اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو رحْـمٰن کہنا جائز نہیں :

----------------------------------------- "رحْـمٰن" کا لفظ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ حرام ہے ـ اگر کوئی شخص کسی انسان کو رحْـمٰن کہے تو یہ شرک ہے، کیوں کہ اللہ تبارک و تعالٰی کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جس کی رحمت اتنی وسیع ہو،لٰہذا کسی اور کو رحمن یا اَلرَّحْـمٰن کہنا جائز نہیں ـ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آج کل ہمارے معاشرے میں جو غلط رواج پڑ گیا ہے کہ کسی کا نام اگر عبدالرحمن ہے تو اس کو مخفف ( abbreviate) کرکے رحمن صاحب! کہہ دیا جاتا ہے،یہ بہت غلط بات ہے ـ رحمن کا لفظ اللہ تبارک و تعالٰی کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا،لٰہذا اگر کسی کا نام عبدالرحمن ہے تو اس کا نام پورا عبدالرحمن ہی لینا چاہیے، صرف رحمن کہہ کر اس کو خطاب کرنا یا اس کا حوالہ دینا درست نہیں اور اندیشہ ہے کہ غیر ارادی طور پر خدانخواستہ یہ انسان کو کہیں شرک کے قریب نہ لے جائے ـ اللہ تعالٰی اس سے ہم سب کو بچائے ـ لہذا اس سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے ـ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وہ نام یا وہ صفات جو صرف اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہیں،جیسے الغفار،القہار،الخالق وغیرہ،اُن میں بھی یہ احتیاط رکھنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی کا نام عبدالخالق ہو تو اسے صرف خالق کہہ کر بلانا درست نہیں ہے ـ رحیم کا لفظ البتہ اس معاملے میں رحمن سے مختلف ہے،کیوں کہ رحیم کے معنٰی ہوتے ہیں جس کی رحمت مکمل اور پوری ہو ـ چونکہ یہ وصف کسی انسان میں بھی اللہ تعالٰی کی تخلیق کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی انسان کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے تو مکمل رحم کا معاملہ کرے،لٰہذا رحیم کا لفظ اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی فرد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے ـ خود قرآن کریم نے کہا ہے : لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّـمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْـمٌ ● ترجمہ: لوگو تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے،جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے،جسے تمہاری بھلائی کی دُھن لگی ہوئی ہے،جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق،نہایت مہربان ہے ـ یہاں پر حضور نبی کریم ﷺ کو رحیم فرمایا گیا ہے،جس کا مطلب ہے کہ آپ رحم کرنے والے ہیں اور آپ کی رحمت جس پر بھی ہے پوری ہے،لٰہذا اس سے ثابت ہوا کہ کسی انسان کے لیے بھی رحیم کا لفظ استعمال ہوسکتا ہے،اگرچہ اس کا صحیح اور حقیقی مصداق اللہ تعالٰی ہی ہیں،لیکن اپنے لغوی معنی میں اس کو غیرُاللہ کے لیے استعمال کرنا بھی جائز ہے ـ (ماہنامہ البلاغ جنوری 2024 ص نمبر ۱۳،۱۴)