ایک ہوائی جہاز کا صفائی کرنے والا کاک پٹ کی صفائی کر رہا تھا کہ اس نے پائلٹ کی سیٹ پر ایک کتاب دیکھی جس کا عنوان تھا: "ابتدائیوں کے لیے پرواز کا طریقہ (صفحہ 1)" اس نے کتاب کا پہلا صفحہ کھولا، جہاں لکھا تھا: "انجن چلانے کے لیے سرخ بٹن دبائیں" اس نے ہدایات پر عمل کیا اور طیارے کا انجن چل گیا۔ یہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ پھر وہ اگلے صفحے پر گیا، جہاں لکھا تھا: "طیارے کو حرکت میں لانے کے لیے نیلا بٹن دبائیں" اس نے بٹن دبایا اور طیارہ حیرت انگیز رفتار سے حرکت کرنے لگا۔ اب وہ طیارہ اڑانے کا خواہشمند تھا، اس لیے اس نے تیسرا صفحہ کھولا، جہاں لکھا تھا: "طیارے کو اڑانے کے لیے سبز بٹن دبائیں" اس نے بٹن دبایا اور طیارہ فضا میں بلند ہو گیا۔ وہ بہت پرجوش تھا! مگر مشکل تب شروع ہوئی... 20 منٹ کی پرواز کے بعد، اس نے لینڈنگ کرنے کا سوچا۔ چنانچہ اس نے چوتھا صفحہ کھولا تاکہ ہدایات معلوم کرے۔ لیکن چوتھے صفحے پر لکھا تھا: "لینڈنگ کا طریقہ جاننے کے لیے کتاب 2 خریدیں۔" سبق اور نصیحت: کسی بھی کام کو مکمل معلومات کے بغیر نہ کریں۔ ادھورا علم خطرناک نہیں بلکہ تباہ کن ہوتا ہے!

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

صحابہ کرامؓ کی حب النبی کی خاص دلیل :

صحابہ کرامؓ کی حب النبی کی خاص دلیل :

ہم میں سے کسی بھی انسان کی جوانی جب ڈھلنے لگتی ہے اور ادھیڑ عمر کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو عموماً بال سفید ہونے شروع ہوتے ہیں، تو جب بال سفید ہونا ابھی شروع ہوئے ہوں تب اگر کسی انسان سے پوچھا جائے کہ آپ کے بدن میں کتنے بال سفید ہیں؟ تو بہت مشکل ہے کہ وہ شمار کے ساتھ بتا سکے کہ اتنے بال سفید ہوئے ہیں، کوئی انسان خود کے بارے میں بھی یہ بات قطعی طور پر نہیں بتا سکتا لیکن قربان جاؤ حضرات صحابہ کرامؓ کے حب نبی پر کہ اُنھوں نے رسول اللہ ﷺ کے جمالِ جہاں آرا اور حسن بے مثال کا اتنی باریکی سے دیدار کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ دعوے کے ساتھ یہ بات بیان فرماتے ہیں کہ سرکار دو جہاںﷺ کے سر اور ڈاڑھی مبارک ملا کر بیس سے زیادہ سفید بال نہیں تھے۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَيْسَ بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ(بُخاری شریف: ۳۵۴۸) رسول اللہ ﷺ نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے ، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے ، نہ آپ کے بال بہت زیادہ گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی اور آپ نے مکہ میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ میں دس سال تک قیام کیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔ ذرا تصور کرو! حضرات صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ ﷺ سے کس قدر محبت تھی کہ آپ ﷺ کے حلیہ مبارکہ کا اتنی باریکی سے مشاہدہ کیا ، اُن کے حب نبی کو بیان کرنے کے لیے تو پورا کتب خانہ بھی نا کافی ہے۔ ___________📝📝📝___________ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو۔