ایک ہوائی جہاز کا صفائی کرنے والا کاک پٹ کی صفائی کر رہا تھا کہ اس نے پائلٹ کی سیٹ پر ایک کتاب دیکھی جس کا عنوان تھا: "ابتدائیوں کے لیے پرواز کا طریقہ (صفحہ 1)" اس نے کتاب کا پہلا صفحہ کھولا، جہاں لکھا تھا: "انجن چلانے کے لیے سرخ بٹن دبائیں" اس نے ہدایات پر عمل کیا اور طیارے کا انجن چل گیا۔ یہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ پھر وہ اگلے صفحے پر گیا، جہاں لکھا تھا: "طیارے کو حرکت میں لانے کے لیے نیلا بٹن دبائیں" اس نے بٹن دبایا اور طیارہ حیرت انگیز رفتار سے حرکت کرنے لگا۔ اب وہ طیارہ اڑانے کا خواہشمند تھا، اس لیے اس نے تیسرا صفحہ کھولا، جہاں لکھا تھا: "طیارے کو اڑانے کے لیے سبز بٹن دبائیں" اس نے بٹن دبایا اور طیارہ فضا میں بلند ہو گیا۔ وہ بہت پرجوش تھا! مگر مشکل تب شروع ہوئی... 20 منٹ کی پرواز کے بعد، اس نے لینڈنگ کرنے کا سوچا۔ چنانچہ اس نے چوتھا صفحہ کھولا تاکہ ہدایات معلوم کرے۔ لیکن چوتھے صفحے پر لکھا تھا: "لینڈنگ کا طریقہ جاننے کے لیے کتاب 2 خریدیں۔" سبق اور نصیحت: کسی بھی کام کو مکمل معلومات کے بغیر نہ کریں۔ ادھورا علم خطرناک نہیں بلکہ تباہ کن ہوتا ہے!

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺎﺭ ہمیشہ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺭہے ﮔﺎ __!!

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺎﺭ ہمیشہ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺭہے  ﮔﺎ __!!

ﺭﻭﺍﯾﺖ ہے ﮐﮧ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺻﻔﮩﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻦ ﺭہی ﺗﮭﯽ۔ ﮐﺎﻡ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ہوﺍ۔ ﻭﮦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮐﮭﮍﯼ ہوﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭہا ہے۔ ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ہنسنے ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﮮ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : " ﺧﺎﻣﻮﺵ ! ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻟﮑﮍﯼ ﻻﺅ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮐﺮﻭ "! ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻟﮑﮍﯼ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﻭ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﺍُﺱ ﺿﻌﯿﻒ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭہے ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﮐﮧ ﺍﺏ گے ﺳﯿﺪﮬﺎ ہو ﮔﯿﺎ ہے مینار ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﭨﯿﮍﮬﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ہے؟ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ " : ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﻠﻂ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺭﻭﮐﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ہے۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﺑﻨﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﭨﯿﮍﮬﺎ ہی رہتا۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﮬﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ہے۔ " ﺍﻓﻮﺍﮦ ﺳﮯ ﮈﺭﯾﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﺮﻭﻗﺖ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﺳﺪِّ ﺑﺎﺏ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺎﺭ ہمیشہ ﺳﯿﺪﮬﺎ رہے ﮔﺎ۔ مولانا ﺭﻭﻣﯽ