*اُردُو*
پر 
*اسد الله* 
ہمیشہ 
*"غالب"* 
رہے۔
*"اقبالؒ"* 
ہ...
Ummah Post
21 November, 2024

*اُردُو*

پر

*اسد الله*

ہمیشہ

*"غالب"*

رہے۔

*"اقبالؒ"*

ہمیشہ بلند اقبال

رہے۔

اور

*"فیض"*

کا فیض جاری ہے۔

کوئی ندی ہے۔

کوئی دریا

اور

کوئی سمندر،

ہمیں ادب سے

*"شورش"*

نہیں

اس لیے ہم کسی کے

*"فراق"*

میں نہیں رہتے۔

اردو

میں

*"میر"* ہی نہیں

*"امیر"*

ترین لوگ بھی ہیں۔

اردو

پر کسی قسم کا

داغ نہیں ہاں

*"داغ دہلوی*"

ضرور ہیں۔

یہاں لوگ

*"ریاض"*

کرتے کرتے،

*"مومن"*

بنے

اور

ان کے

*"ذوق"*

کا یہ عالم تھا کہ

دہلی،

لکھنو

اور

دکن

باقاعدہ دبستان بن

گئے۔

بلکہ

*"دبستان اردو"*

بن گئے۔

یہاں ایک سے ایک

*"ولی"*

بھی ہیں۔

اور

ایک سے ایک جو اردو کی محبت میں نہ صرف *"سرشار"*

رہتے ہیں۔

بلکہ اس پر

*"جاں نثار"*

بھی رہتے ہیں۔

اس لیے کسی کی حیثیت *"مجروح"*

نہ کیجیے۔

*"شبلی"*

کو شبلی ہی رہنے دیجیے۔

*"جنید"*

و

*"شبلی"*

نہ بنائیے۔

*"اکبر"*

اگر الہ آباد میں بے نظیر ہیں۔

تو

*"اکبر آباد"*

میں اپنے

*"نظیر"*

بھی کچھ کم نہیں۔

تنقید سے کسی کو فرار نہیں۔

بغیر تنقید کہ نہ کوئی

*"فراز"*

بن سکتا ہے۔

اور

نہ

سرفراز !

اردو ادب ہمیشہ ادیبوں

اور

شاعروں کا مشکور رہا۔

بلکہ وہ شاکر بھی رہا۔

اس نے شاکر ہی نہیں

*"پروین شاکر"* جیسی *"خوشبو"*

بھی دی ہے۔

اس نے

*"مسدس حالی"* بھی دیا اور اس نے نہ جانے کتنے *"سید"*

بھی دییے جو نہ صرف

*"سلیمان"*

ہیں۔

بلکہ

ان کے پاس تخت سلیمانی بھی ہے جس پر ایک دو سید ہی نہیں بلکہ *"سر سید"*

بھی بیٹھے۔

یہاں نہ صرف *"رشید"*

ہیں۔

بلکہ

*"مشتاق"*

جیسے

*"یوسفی"*

بھی ہیں۔

*"پطرس"* جیسے طنزو مزاح کے

*"بخاری"*

بھی ہیں۔

یہاں مختلف رنگ ہی نہیں بلکہ *"نارنگ"*

بھی ہیں۔

بلکہ

*"شمس الرحمن"* جیسے

*"فاروقی"*

بھی ہیں۔

یہاں

*"عبد الماجد"* جیسے صاحب طرز ادیبوں کا ایک دریا آباد ہے۔

یہاں ایک سے ایک *"آزاد"*

ہیں۔

اور

ایک سے ایک اعلی شخصیات ہیں ۔۔۔۔۔۔

بلکہ

*"ابولاعلی"*

اور

*"ابو الکلام"*

بھی ہیں۔وہ بھی" نصرت" کیساتھ ۔۔۔

🤲🏻 خدا اردو کی اس فضا کو مزید وسیع کر دے۔

تاکہ اس کا۔۔۔۔ *"فیض"*

مسلسل جاری رہے اور

یہ ہمیشہ بلند *"اقبال"*

اور

*"غالب"*

رہے ۔

Share this article
بیٹے کا اسلام قبول کرنا: ایک فرانسیسی ماں کی حیرت انگیز خواہش
مضامین

بیٹے کا اسلام قبول کرنا: ایک فرانسیسی ماں کی حیرت انگیز خواہش

ایک فرانسی عورت اپنے چودہ سالہ بیٹے کو لے کر فرانس کے اسلامک سنٹر میں آئی تاکہ اس کا بیٹا مسلمان ہو جائے ، وہ دونوں اسلامک سنٹر پہنچ گئے ، اسلامک سنٹر کے ناظم کے آفس میں جا کر بچے نے ملاقات کی ، بچے نے کہا میری امی چاہتی ہے میں مسلمان ہو جاؤں ، مرکز اسلامی کے ناظم نے بچے سے پوچھا کیا تم اسلام قبول ک...